• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین نیب کی تقرری، وزیراعظم کا اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت سے گریز

اسلام آباد (طارق بٹ) نیب چیئرمین کے انتخاب یا دوبارہ تقرری کے معاملے میں حکومت سخت رویہ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا بظاہر یہ فیصلہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس معاملے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے کوئی مشاورت نہیں کریں گے۔ دو وفاقی وزراء فروغ نسیم اور فواد چوہدری کےخیال میں وزیراعظم براہ راست مشاورت کے حق میں نظر نہیں آتے۔ قومی احتساب آرڈیننس1999 کے مطابق صدر مملکت قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سےچار سالہ میعاد کے لئے چیئرمین نیب کا تقرر کریں گے۔ انہیں صرف اسی بنیاد پر ہٹایا جاسکتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹائے جانے پر لاگو ہے۔ آرڈیننس کی اس دفعہ میں اس کاذکر نہیں کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف نیب یا کسی ایجنسی میں مقدمات زیر سماعت ہیں توانہیں نیب چیئرمین کے لئے مشاورت میں ایک شریک کی حیثیت سے نا اہل قراردیاجاسکتا ہے تاہم مذکورہ وزراء اب یہ دلیل دے رہے ہیں۔ چونکہ شہباز شریف نیب کے تحت تین ریفرنسز میں ملزم ہیں لہٰذا نیب چیئرمین کے لئے ان سے مشاورت نہیں ہوسکتی۔

اہم خبریں سے مزید