• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے بھی بالکل تنہا ہوں

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

میری یہ الَم ناک کہانی سو فی صد سچ پر مبنی ہے۔ حلفیہ کہتا ہوں کہ اس میں ذرّہ برابر بھی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔

مَیں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ شادی بھی اپنی ہی طرح کے ایک غریب گھرانے میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ شادی سے قبل ایک فیکٹری میں ملازم تھا، بچّوں کی پیدائش کے بعد سخت محنت مشقّت کرنے لگا۔ اُن کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، تو شام کو فیکٹری سے آنے کے بعد ایک دوسری فیکٹری بھی جوائن کرلی تاکہ انہیں اچھی سے اچھی تعلیم دلواسکوں، پھر دن رات کی محنت سے اپنے چاروں بچّوں کو نہ صرف گریجویشن کروایا، بلکہ کمپیوٹر کے دیگر کورسز بھی کروائے۔ اس دوران کچّی آبادی میں گھر بھی بنالیا۔ 

گریجویشن کے بعد دونوں بیٹیوں کی شادی کردی۔ چھوٹی بیٹی بیاہ کر ناظم آبادچلی گئی، جب کہ بڑی اپنی ساس کے انتقال کے بعد نندوں سے لڑ جھگڑ کر ہمارے ہی محلے میں کرائے کے مکان میں رہنے لگی۔ بڑے بیٹے نے کمپیوٹر میں ڈپلوما کرلیا، تو میرے ایک کزن نے اسے ملازمت دلوادی۔ بیٹا برسرروزگار ہوا، تو بعد میں اس کی شادی بھی اپنے اسی کزن کی بیٹی سے کردی۔ کچھ عرصے بعدبیٹے نے کچھ رقم جمع کرلی اور دوسری آبادی میں ایک بڑا مکان خریدنے کا ارادہ کیا، لیکن رقم کچھ کم تھی، تو یہ طے پایا کہ موجودہ مکان فروخت کردیا جائے۔ 

مَیں نے اس موقعے پر جب بیٹیوں کو وراثت میں حصّہ دینے کی بات کی، تو دونوں بخوشی وراثت سے دست بردار ہوگئیں۔ اس طرح جو مکان میرے نام تھا، عجلت میں اونے پونے فروخت کرکے نیا مکان خرید لیا۔ بہرحال، نیا مکان خریدنے کے بعد رنگ و روغن اور تزئین و آرایش کے لیے رقم کم پڑگئی، تو بیٹے نے تجویز پیش کی کہ ’’کیوں نہ بہن سے کچھ رقم لے لیں اور اُسے اپنے گھر میں رکھ لیا جائے۔ اُس کی رقم یا تو کرائے میں وضع کرلی جائے یا کمیٹی ڈال کرواپس کردی جائے۔‘‘ سب نے متفقہ طور پر اس کی تجویز مان لی، اس طرح ہم سب نئے مکان میں شفٹ ہوگئے۔ بڑی بیٹی بھی کرائے کے مکان سے اسی میں شفٹ ہوگئی۔

پرانے مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور بڑی بیٹی سے لیے گئے قرضے سے گرائونڈ فلور اور فرسٹ فلور میں ماربل ٹائلز اور گرم ٹھنڈے پانی کی نئی لائنیں ڈلوائی گئیں۔ گرائونڈ فلور پر ایک کمرے میں بیٹے نے رہایش اختیارکرلی، اس سے متصل آرام دہ، اٹیچ باتھ روم میرے لیے مختص کردیا۔ یہ کمرا میرے لیے ہر لحاظ سے مناسب تھا، گرائونڈ فلور پر ہونے کی وجہ سے مَیں سیڑھی چڑھنے اُترنے کی اذیّت سے بھی بچ گیا تھا۔ 

یہاں آرام و سکون سے رہتے ابھی چار پانچ ماہ ہی ہوئے تھے کہ بڑے بیٹے نے میری مرضی کے برخلاف مجھے فرسٹ فلور پربنے ایک چھوٹے کمرے میں منتقل کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ یہ کمرا لے لیں، امّی بچّوں کے ساتھ نیچے کمرے میں سو جایا کریں گی۔‘‘ اُس چھوٹے سے کمرے میں ایک لوہے کا ٹوٹا پلنگ ڈال کر چادر بچھا دی گئی تھی۔ میں رات کو اس کمرے میں سونے لگا۔ میرے ساتھ والا کمرا بیٹی نے لے لیا اور اس کے برابر والا کمرا چھوٹے بیٹے کو دےدیا، جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ میرے کمرے میں واش روم نہیں تھا۔ 

عمر رسیدگی کی وجہ سے پیشاب کا مسئلہ تھا۔ ہر گھنٹے، ڈیڑھ گھنٹے کے بعد حاجت محسوس ہوتی تھی۔ رات کو بار بار سیڑھیوں سے نیچے اُترنے اورچڑھنے کی وجہ سے گھٹنے میں درد بڑھتا جارہا تھا، جو میرے لیے کافی تکلیف دہ سچویشن تھی۔ بڑی بیٹی جب کبھی سُسرال جاتی تو اپنے کمرے کے ساتھ ساتھ فرسٹ فلور کے مین گیٹ میں بھی تالا لگا کر جاتی، اُس کی ایک چابی چھوٹے بیٹے کے پاس بھی تھی، لیکن وہ ملازمت سے آنے کے بعد رات دیر تک دوستوں کی محفل میں بیٹھا رہتا۔ 

مَیں نے ایک دن بڑی بیٹی کو بُلاکر بڑے پیار و تحمّل سے صرف اتنا کہاکہ ’’تم باہر جاتے ہوئے مین گیٹ میں تالا نہ لگایا کرو، کیوں کہ بار بار سیڑھیاں چڑھنے، اُترنے کی وجہ سے گُھٹنوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔تم صرف اپنے کمرے میں تالا لگا کر جایا کرو، مجھےرات کو باتھ روم جانا ہوگا، توچھوٹے بیٹے کے کمرے میں چلا جایا کروں گا، اس طرح سیڑھیاں اُترنے، چڑھنے کی تکلیف سے بچ جائوں گا۔‘‘ 

اس بات پر بیٹی اس قدر چراغ پا ہوئی کہ مَیں حیران رہ گیا۔ مزید صدمہ اُس وقت ہوا، جب چھوٹے بیٹے نے بھی انتہائی درشت لہجے میں نہ صرف مجھ سے بدکلامی کی، بلکہ میرے سمجھانے پر مجھے مارنے کے لیے دوڑا، مَیں نےحیرت اور صدمے سے اُسے دیکھا، تو اس نے میرے بڑھاپے کا بھی خیال نہیں کیا اور بڑی بے رحمی سے مجھے دھکا دیا۔ مَیں توازن برقرار نہ رکھ سکا، دروازے سے ٹکرا کرگرا تو قمیص کسی چیز میں پھنس کر پَھٹ گئی۔ وہ مجھے اُٹھتے دیکھ کر میری جانب لپکا، تومیں مزید تشدّد سے بچنے کے لیے تیزی سے بھاگتا ہوا گلی میں چلا گیا۔ میری حالت دیکھ کر محلّے کے کچھ لوگ جمع ہوگئے اور بیٹے کی اس حرکت پر لعن طعن کرنے لگے۔

شام کو بڑا بیٹا گھر آیا، تو میرے ہی گھر کے افراد نے میری شکایت خوب بڑھا چڑھا کرکی اور الزام لگایا کہ اُن کی اس حرکت سے محلّے میں ہماری بہت بدنامی ہوئی۔ حالاں کہ سب جانتے تھے کہ مَیں بیٹے کے تشدّد سے بچنے کے لیے باہر گیا تھا۔ بہرحال، بڑے بیٹے نے اس ’’سنگین معاملے‘‘ پر میرے بہن، بہنوئی سمیت خاندان کے اٹھارہ بیس افراد کو جمع کرلیا۔ میری شکایت کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ میں ذہنی مریض ہوچکا ہوں۔ 

مَیں نے اپنے طور پر ان سب لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ چھوٹے بیٹے کے تشدّد کے خوف سے بھاگا تو قمیص کسی نوک دار شے میں پھنس جانے کی وجہ سے پَھٹ گئی تھی۔ مگر اُن لوگوں نے میری ایک نہ سُنی۔ سب رات بھر ڈرائنگ روم میں بیٹھے میٹنگ کرتے رہے اور میں بار بار پیشاب کی حاجت پر پہلی منزل سے نیچے جاتا اور آتا رہا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا، لیکن آج خاندان کےسب لوگ رات بھرجاگ کر میرے ہی گھر میں مسلسل مجھے واچ کرتے رہے۔ صبح ہونے پر سب چلے گئے، لیکن میری اولاد کا غصّہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ خاندان کے لوگوں کے جانے کے بعد بھی میری کافی بے عزّتی کی، بہت برا بھلا کہا کہ ’’آپ نے محلّے بھر میں ہمیں بے عزت کردیا۔‘‘ 

یعنی یہ لوگ عزّت دار تھے اور میں گالیاں اور دھکّے کھاکر ایک بے عزت انسان ٹھہرا، وہ بھی اپنی اولاد سے۔ اُس کے بعد بڑے بیٹے نے میرے حوالے سے رائے طلب کی تو میری چھوٹی بیٹی نے کہاکہ ’’اُن کو چھت کے اوپر گودام میں بند کردیا جائے اور باہر کے جالی والے دروازے میں تالا ڈال دیا جائے۔‘‘ اللہ اللہ، یہ ایک بیٹی باپ کے لیے کہہ رہی ہے، اس کے بعد بڑی بیٹی اور میری اہلیہ سے پوچھا، تو اُن دونوں نے مجھے پاگل خانے میں داخل کروانے کے حق میں ووٹ دیا۔ 

اپنی بیوی اور بچّوں کے اس بہیمانہ سلوک کی وجہ سے میرا کلیجہ پھٹا جارہا تھا، شدّتِ جذبات سے زبان گنگ ہوگئی تھی، آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے، مگر اُنہیں میری حالت پر ذرا بھی ترس نہیں آرہا تھا۔ میں نے مایوس نگاہوں سے اُن کی طرف دیکھا اور کہا ’’اگر تم لوگوں کو میری وجہ سے اس قدر تکلیف ہے، تو پھر کپڑوں کے دو جوڑے ایک شاپر میں ڈال کر مجھےایدھی اولڈ ہوم میں داخل کروادو۔ مَیں اپنی بقایا زندگی وہاں سکون سے گزار لوں گا۔‘‘

دوسرے دن دس گیارہ بجے میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ بڑا بیٹا دو ہٹّے کٹّے جوان لڑکوں کے ساتھ داخل ہوا۔ اُن لوگوں نے مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا، بیٹےنے میری جیبوں کی تلاشی لے کر کچھ ضروری کاغذات اور تھوڑی سی جو رقم تھی، وہ نکال لی، جس پر میں نے احتجاج کیا۔ اس عرصے میں انہوں نے ایک انجیکشن تیار کیا اور زبردستی میرے بازو میں لگادیا۔ انجیکشن لگتے ہی میری حالت غیر ہونے لگی اور شدید چکّر آنے لگے، پھر مجھے گردن سے پکڑکر گھسیٹتے ہوئے نیچے لےگئے اور ایک رکشے میں ڈال کر دونوں میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ 

رکشے نے جہاں ہمیں اتارا، وہ پاگلوں کا ایک اسپتال تھا، جہاں مجھے داخل کروادیا گیا۔ شام کو مجھے ہوش آیا تو کسی نے بدمزہ سا کھانا دیا اور مجھے چار پانچ ٹیبلیٹس کھلائی گئیں، جنہیں کھانے کے بعد مَیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر سوگیا۔ دوسرے روز آنکھ کھلی تو خود کو لوہے کے ایک پلنگ پر پایا۔ دونوں ہاتھ اور پائوں رسیّوں سے جکڑے ہوئے تھے۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر عملے کے ایک شخص نے نیند کا انجیکشن لگادیا، مَیں پھر بے ہوش ہوگیا۔ صبح ان لوگوں میرے ہاتھ پائوں کھولے، تو میری دونوں کلائیاں بری طرح چِھل چُکی تھیں اور اُن سے خون رِس رہا تھا، غالباً رات کو بے ہوشی کی حالت میں ہاتھ پائوں چلانے سے وہ رگڑ کھاکر زخمی ہوگئی تھیں۔ تاہم، شُکر ہے کہ اُن لوگوں نے رِستے ہوئے زخموں پر مرہم پٹّی کردی۔ بہرحال، وہ ہر دوسرے دن یہی عمل کرتے رہے اور دوا بھی لگاتے رہے۔ اس طرح بے بسی میں قید کاٹتے ہوئے مجھے 10 روز گزرگئے۔

اُن دس دنوں میں گھر سے کوئی مجھے دیکھنے یا ملنے نہیں آیا کہ ہمارا باپ /شوہر کس حال میں ہے، زندہ بھی ہے کہ مرگیا۔ دس دن کے بعد بڑا بیٹا آیا اورخاموشی سے مجھے گھر لے آیا۔ چند روز بعد عید تھی، لیکن مسلسل نشے کی دوا کی وجہ سے مَیں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوچکا تھا۔ مَیں بچپن سے جوانی تک عید کی نماز پورے اہتمام کے ساتھ پڑھنے جاتا تھا، مگر اس بار نہ جاسکا۔ 

عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بڑا بیٹا مجھے نجی اسپتال لے گیا اور ایک دماغی اسپیشلسٹ کو دکھایا۔ وہاں موجود خاتون ڈاکٹر نے میرا مکمل معائنہ کیا اور مختلف سوالات کیے، جس کا میں ٹھیک ٹھیک جواب دیتا رہا۔ اُس ڈاکٹر نے بیٹے سے پوچھا کہ آپ نے کس بات سے اندازہ لگایا کہ یہ ذہنی مریض ہیں؟ تو بیٹے نے جواب دیا کہ ’’رات کو یہ سوتے نہیں تھے۔‘‘ خاتون ڈاکٹر حیرت سے کہنے لگیں ’’بھائی! کراچی کی آبادی دو ڈھائی کروڑ ہے، مختلف وجوہ کی بنا پر ہزاروں لوگوں کو نیند یا تو کم آتی ہے یا بالکل نہیں آتی، تو کیا وہ سب پاگل ہیں۔ یہ دماغی طور پر بالکل ٹھیک ہیں، پھر بھی آپ کے اطمینان کے لیے چار پانچ ٹیسٹ لکھ کر دے رہی ہوں، ان کی رپورٹس مجھے لاکر دکھائیں۔‘‘ 

بیٹا مجھے لے کر گھر واپس آگیا اور ایک لیبارٹری میں ٹیسٹس کروا کر دوبارہ ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے رپورٹس دیکھ کر کہا ’’کون کہتا ہے کہ یہ پاگل ہیں، یہ نہ پہلے ذہنی مریض تھے، نہ اب ہیں۔‘‘ یعنی میری اولاد نے ظلم کی انتہا کردی۔ معمولی اختلاف اور تکرار پر ان لوگوں نے مجھے پاگل قرار دے کر اپنی طرف سے پاگل خانے میں داخل کروادیا۔ خیر، کچھ عرصے بعد انہیں احساس ہوا، تو سب نے مجھ سے معافی مانگی۔ میں نے بھی صدقِ دل سے سب کو معاف کردیا، لیکن افسوس! میری بیوی اور بچّوں کا رویّہ اب بھی جارحانہ ہے، ذرا ذرا سی بات پر مجھے ذہنی مریض ثابت کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ 

مجھے ہردَم بس یہی غم کھائے جاتا ہے کہ جن بچّوں کی تعلیم و تربیت اور آرام و آسائش کے لیے دن رات محنت کی، انہیں پڑھا لکھا کر اس قابل کیا کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں، آج جب مجھے اُن کے سہارے کی ضرورت ہے، تو کہتے ہیں کہ ’’جب تم مروگے، تو تمہارا کفن دفن کون کرے گا؟‘‘ حالاں کہ لوگ تو اپنے بزرگوں کا سایہ سر پر سلامت رکھنے کی دُعا کرتے ہیں۔ بیوی کی بے وفائی اور بچّوں کی بے اعتنائی کے سبب اب میری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر کی فیس کے لیے پریشان رہتا ہوں۔ اکثر پوراپورا دن بھوکا رہتا ہوں، کوئی کھانے تک کو نہیں پوچھتا۔

اللہ تعالیٰ سے دن رات دعائیں کرتا ہوں کہ انہیں ہدایت دے۔ میری بیوی اور سگی اولاد اس قدر دُکھ، تکلیف اور اذیّت دیتی ہے کہ الامان الحفیظ۔ خود پر ڈھائے جانے والے دُکھ کی داستان کہاں تک سُنائوں، بیوی بچّوں کے ہوتے ہوئے بھی بالکل تنہا رہ گیا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ حالتِ نزع میں بھی کوئی حلق میں پانی ڈالنے اور کلمہ پڑھانے والا ہوگا یا نہیں۔ بہرحال، ہر نماز میں اپنی بیوی اور اولاد کی اصلاح کی دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں نیک ہدایت دے۔ (حارث علی، ملیر کراچی)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

سنڈے میگزین سے مزید