• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان کی زبان اور عمل کے پیچھے اس کی پوری شخصیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بظاہر انسان کتنا ہی پُرکشش، جاذبِ نظر دکھائی دے، اس کی اصل حقیقت کا تعیّن اس کے اسلوب اور اظہار ہی سے ہوتا ہے اور یہی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ بستے ہیں، لیکن ان کی پہچان اور حوالہ عمومی طور سے لوگوں پر مخفی رہتا ہے، وہ ان کے درمیان رہ کر بھی، گم نام زندگی گزارتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کام یاب لوگ اپنی دنیا آپ بناتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی ایک حقیقت سے قریب تر مفروضہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچّہ انفرادی عمل کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ 

اگر ہم دنیا میں قوموں کی تعمیر و ترقی، معاشی و معاشرتی انقلابات کا مطالعہ و مشاہدہ کریں، تو ان قوموں اور شخصیات کی کامرانیوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی رول ماڈل ضرور نظر آئے گا، جو اس کی شخصیت اور کردار سازی کا محور اور بالغ نظری کا منبع و مرکز ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے بہت سے افراد بستے ہیں، جو بظاہر اعلیٰ تعلیمی اسناد کے حامل نہیں، لیکن مجلسی علم اور اعلیٰ صحبت کے زیرِاثر شعور و آگہی، مثبت تنقیدی و فکری سوچ سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔قصّہ مختصر،الفاظ کی اس تمہید میں آپ شائستگی و متانت کا اسلوب رکھنے والی محترمہ ثمین مرتضیٰ کا چہرہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

ثمین مرتضیٰ اپنی ذات میں خُوب صُورت اسلوب و لہجے کی حامل نعت خواں، معلّمہ اور سماج کا درد رکھنے والی قابلِ احترام خاتون تھیں۔ موصوفہ ہر حوالے سے خداداد صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ اُن سے ہمارا رشتہ سو فی صد خلوص و عقیدت اور روحانیت پر مبنی تھا۔ انہوں نے جب نعت خوانی کا آغاز کیا، تو عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر روحانی محافل اور میلاد کی متبّرک تقریبات کو جِلا بخشی۔ مختلف دینی و ادبی تقریبات میں میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔ 

تعلیم و تدریس کا مرحلہ آیا، تو مختلف اداروں سے وابستگی کے ساتھ طلباء و طالبات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ بعدازاں، اپنا ذاتی تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ جامعہ کراچی سے گریجویشن کے بعد نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ (NAPA) سے بھی کچھ عرصہ وابستہ رہیں۔ مذہب سے عقیدت و وابستگی کا یہ عالم تھا کہ بارہا حج و عُمرہ کی سعادت حاصل کی۔ اپنے ذاتی تعلیمی ادارے میں فروغِ علم میں مصروف رہتے ہوئے گراں قدر خدمات انجام دیں اور مختصر عرصے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں متعدّد تعلیمی مراکز قائم کردئیے۔ یہاں تک کہ سرطان جیسے مہلک، موذی مرض کی تشخیص کے باوجود اپنا مشن جاری و ساری رکھا۔

موت، بلاشبہ ایک حقیقت ہے اور ہر فرد کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ گزشتہ برس، عیدالفطر کے تیسرے روز جب عمرے کی ادائی کے لیے جارہی تھیں، تو بھی طبیعت ناساز تھی، لیکن حجازِ مقدّس اور روضۂ رسول ؐ پر حاضری کا اشتیاق عزم کو حوصلہ اور جسم کو قوت بخش رہا تھا۔ عُمرے کی ادائی کے بعد بہت مطمئن اور ایک نئے جذبے کے ساتھ معمولاتِ زندگی میں منہمک ہوگئیں، مگر پھر عیدالاضحی کے چوتھے روز طبیعت اس قدر بگڑی کہ سنبھل نہ سکی اور اپنے اہلِ خانہ سمیت، بہت سے چاہنے والوں کو چھوڑ کر سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئیں۔ اللہ ربّ العزت سے دُعا ہے کہ اُن کے اخروی سفر کی سب منزلیں آسان ہوں۔ (محمد محسن شاد، کراچی)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار

برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭ ڈاکٹر رضیہ (شبینہ گُل انصاری، نارتھ کراچی، کراچی) ٭انتظار (محمد زیب، ریلوے اسٹیشن، چار سدّہ) ٭دوست بھی بدلتے ہیں (امبر وسیم) ٭ملنگی کی دُعا (نگینہ طارق، راول پنڈی) ٭اپنے ساتھ بیتے ہوئے واقعات (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی نمبر3، کراچی) ٭قصّۂ کرامت بزرگ شخصیت کا(رابعہ سلیم، سکھر) ٭اندھیری رات اور پُرخطر نہر کا پیدل سفر(شوکت محمود، ملتان روڈ، لاہور) ٭گفٹ +بیت المال والی عورت (ظہیرانجم تبسّم، جی پی او، خوشاب) ٭ایک مثالی پولیس آفیسر (محمداشفاق بیگ، ننکانہ صاحب، ریلوے روڈ) ٭فرض یا قربانی (غلام رسول خان، گنگا رام اسپتال، وارث روڈ، لاہور) ٭میرا خواب، خواب ہی رہ گیا (سیّد محمد رضا جعفری، گولی مار نمبر1، کراچی) ٭دانے دانے پہ مُہر (سعیدہ جاوید، لاہور) ٭خالہ جان (صائبہ مشام مصطفیٰ، گیلان آباد، ملیر، کراچی) ٭سودخوری+رشوت ستانی+شراب نوشی (مرزا ارسلان بیگ،بھائی پھیرو، پتوکی، قصور) ٭حرام کام کی تباہ کاریاں (بندی ناچیز، کراچی)٭چھے سالہ بچّہ اور بَرنے کا درخت (عبدالرحمٰن ریحان، رحیم یارخان)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭ایڈیسن دیوتا (عامر بن علی) ٭مسئلہ کشمیر 73سال میں حل نہ ہوا (ڈاکٹر عبدالرحمٰن چشتی، شورکوٹ، جھنگ) ٭بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے (سلامت ضیاء کھوکھر، اسلام آباد) ٭عبرت صدیقی بریلوی کی برسی (صغیر علی صدیقی، کراچی) ٭آئیے، ڈارون کو کریں چیلنج (ڈاکٹر محمد جاوید ایم ڈی) ٭ایک معذور نوجوان کے عزم و ہمّت کی داستان (ارسلان اللہ خان، لطیف آباد، حیدر آباد) ٭خطّے کی موجودہ صورتِ حال اور پاکستان پر اس کے اثرات (ثمرین باری عامر) ٭ابنِ خلدون (محمد آصف قریشی، گلستانِ سجاد، حیدر آباد) ٭پھر آرہا ہے، حج کا مہینہ (انجم مشیر، نارتھ کراچی، کراچی) ٭سگریٹ نوشی (دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکّا، لودھراں) ٭کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟ (ہومیو ڈاکٹر محمّد افضل خضری، ملتان)٭کیاعافیہ صدیقی زندہ ہیں (ملک محمد اسحاق راہی، صادق آباد، رحیم یار خان) ٭میرا آبائی قصبہ ’’کھرڑیا نوالا‘‘ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد) ٭زیردست (محمد اشعر، بھکر) ٭جنسی درندگی، موثر قانون سازی کی ضرورت+نوجوان قوم کا سرمایۂ افتخار (رانا اعجاز حسین چوہان) ٭بیلنا گنّے سے گڑ، شکر کی تیاری کا کارخانہ (عبداللہ نظامی، لیّہ)٭ذمّے داران کا تعیّن(رائو سیف الزّماں)٭تحریکِ پاکستان کے آخری اہم ترین اور نازک ترین مراحل (جمیل یوسف، لاہور) ٭جنگلی حیات کی بقا کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات (مرزا محمّد رمضان)۔

برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘

٭بدایوں سے میامی تک، ماں کا سفر (عبدالسمیع خان) ٭رزقِ حلال کمانے والے(آسیہ عمران)٭ڈاکٹر سمیع الزماں کی سنہری یادیں (رعنا کہکشاں انصاری) ٭ہمارے والد، حاجی محمد اسماعیل (محمد اسحاق اینڈ برادرز، اورنگی ٹائون، کراچی)۔

سنڈے میگزین سے مزید