• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کی حکومت کے 3 سالہ دور میں 3 بڑے اسکینڈلز،تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کےپروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالہ دور میں تین بڑے اسکینڈلز تحقیقاتی اداروں کی توجہ کے منتظر رہے۔

ان اسکینڈلز پر تحقیقاتی اداروں کی نظر پڑی پھر بھی یہ کیسز نوٹس لینے، انکوائری اور تحقیقات سے آگے نہیں بڑھ سکے یا معاملات عدالتوں میں الجھ کر رہ گئے، نہ کبھی کسی حکومتی شخصیت کی گرفتاری ہوئی نہ کبھی کسی پر باقاعدہ مقدمہ چلا، یہ تین بڑے اسکینڈلز پشاور بی آر ٹی، مالم جبہ اور بلین ٹرین سونامی ہیں،چیئرمین نیب دسمبر 2019ء میں دعویٰ کرچکے ہیں کہ بی آر ٹی کیس میں ریفرنس تیار ہے ، اس بات کو پونے دو سال ہوگئے مگر ابھی تک ریفرنس دائر نہیں ہوا۔

5دسمبر 2019ء کو پشاور ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایف آئی اے کو 45دن میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے بی آر ٹی پراجیکٹ میں بدانتظامی اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے پراجیکٹ شروع کرنے پر سوالات اٹھائے تھے۔

ساتھ ہی اعلیٰ سیاسی اور بیوروکریٹک شخصیات میں مبینہ گٹھ جوڑ اور کرپشن کے بارے میں بھی سوال کیا تھا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مئی 2017ء میں نامکمل ڈیزائن اور پی سی ون کے ڈس فنکشنل ہونے کے باوجود 49ارب روپے سے زائد کی لاگت سے اس کی منظوری دی گئی جبکہ منصوبے کا ڈیزائن 2017ء کی آخری سہ ماہی میں مکمل ہوا۔

مئی 2018ء میں لاگت کا دوبارہ تخمینہ لگایا گیا جو 66ارب روپے سے زائد تھا، پشاور ہائیکورٹ نے منصوبے کی تکمیل کیلئے دی گئی 6ماہ کی ڈیڈ لائن اور پراجیکٹ کی لاگت پر بھی سوال اٹھائے تھے۔

عدالت نے فیصلے میں مزید کہا تھا کہ معلوم کیا جائے پرویز خٹک، ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اعظم خان، ڈی جی پی ڈی اے، شہباز علی شاہ اور وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد میں کیا گٹھ جوڑ ہے اور ہیرپھیر میں یہ گٹھ جوڑ کیسے بنا۔ 

شاہزیب خانزادہ نے بتایا تھا کہ جب پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سامنے آیا تھا تو اس وقت ہمارے پروگرام میں خیبرپختونخوا کے وزیر شوکت یوسف زئی نے کہا تھا کہ منصوبہ ایک دفعہ مکمل ہونے دیں ہم تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔

بی آر ٹی سے متعلق اپریل 2019ء میں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی جس میں اس منصوبے کی شفافیت پر سوال اٹھائے گئے تھے ۔

اہم خبریں سے مزید