• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ، تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، عارف حبیب


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بزنس گروپ زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ اگر مکمل معاشی پلان بنایا جائے تو ایکسپورٹ 40بلین ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میں سی پیک منصوبہ سست ہونے کا الزام لگتا رہا ہے،معروف صنعت کار عارف حبیب نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ معاشی گروتھ اور عالمی کموڈٹی پرائس بڑھنے کی وجہ سے ہے۔

تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ہے، ہمارا برآمدات کا بیس چھوٹا ہے اس میں گروتھ اتنی قابل ذکر نہیں ہوتی جتنی درآمدات میں گروتھ آتی ہے،پاکستان کو برآمدات بڑھانے کیلئے موثر مارکیٹنگ کی ضرورت ہے، اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کے منافع متاثر کن ہیں، پاکستان اپنا تاثر بہتر بنانے کیلئے کام کرے اور جارحانہ مارکیٹنگ کرے۔

ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے کہ بدقسمتی سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کافی کم ہوئی ہے ، حکومت کو اس پر زیادہ پراڈکٹ آفر کرنے کی ضرورت ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پرآمادہ کرنے کیلئے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے علاوہ بھی مواقع دیئے جائیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کو باقاعدہ انویسٹمنٹ پروپوزل نہیں دیئے جاتے اس کی وجہ سے وہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب نہیں کرپاتے ہیں۔

سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں بی ٹو بی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے، اس کیلئے حکومت کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان میں مائننگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں۔چیئرمین بزنس گروپ زبیر موتی والا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مشینری امپورٹ کرنے کیلئے بہت اچھی پالیسی دی۔

اس پالیسی کی وجہ سے اب تک ساڑھے تین سو ارب روپے کی مشینیں آچکی ہیں تقریباً اتنی ہی پائپ لائن میں ہیں، مشرف کے بعد اب پی ٹی آئی کے دور میں اتنی مشینری درآمد ہوئی ہے، اگر مکمل معاشی پلان بنایا جائے تو ایکسپورٹ 40بلین ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے ،حکومت نے مشینوں کو انرجی فراہم کرنے کیلئے کوئی پروگرام نہیں دیا۔

حکومت ہمارے مسائل حل کرے ،معیاری توانائی مطلوبہ مقدار اورسستے نرخوں پر دے تو اگلے تین چار سال میں ایکسپورٹس 50ارب ڈالرز تک بھی جاسکتی ہیں، کراچی سے 55فیصد برآمدات ہوتی ہیں لیکن یہاں رعایتی نرخوں پر آر ایل این جی کا کوئی کنکشن نہیں دیا۔

حکومت کراچی کو سپورٹ کرے تو صرف کراچی کی ایکسپورٹ 20ارب ڈالرز سے زیادہ ہوگی۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ویلیو ایڈیشن اور پراسیسنگ میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہئے تھی۔

اس کیلئے مشینوں پر معیاری یارن کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کیلئے ہائی اسپیڈ اسپننگ مشینیں لگانا بھی ضروری ہیں، پاکستان آج کپاس برآمد کرنے والے ملک سے درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

ہم 13ملین بیلز سے ساڑھے 8ملین بیلز پر آگئے ہیں، ایکسپورٹ کے لئے کنٹینرز دستیاب نہیں ہوتے اس کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے، جس کنٹینر کا کرایہ 1500ڈالرز ہوتا تھا آج وہ 9ہزار ڈالر ہوگیا ہے جو درآمد کنندہ افورڈ نہیں کرپاتا ہے۔

میزبان شاہ زیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آنے سے پہلے اور حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف سی پیک سے جڑے منصوبوں کی شفافیت پر سوالات اٹھاتی رہی ہے، ان منصوبوں میں کک بیکس لیے جانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔

اورنج لائن منصوبہ، سکھر ملتان موٹروے منصوبہ اور بجلی کے منصوبوں میں کرپشن کے الزامات لگاتی رہی ہے، یہ الزامات تو ثابت نہیں ہوئے مگر تنازعات ضرور جنم لیتے رہے ہیں، موجودہ حکومت میں سی پیک منصوبہ سست ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔

اب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سی پیک منصوبوں سے متعلق پانچ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے براہ راست منسلک رہے ہیں اور یہ بات حلفاً کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے کک بیکس کیلئے نہیں کہا، یاد رہے سی پیک پر کک بیکس لیے جانے کے الزامات خود تحریک انصاف کے رہنما لگاتے رہے ہیں، ماضی میں انہی الزامات کی بنیاد پر جب سی پیک منصوبوں پر تنقید ہوئی تو حکومت نے اسے بیرونی سازش کا الزام لگادیا۔

اہم خبریں سے مزید