• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت ترین کو وزیر خزانہ برقرار رہنے کیلئے 25 روز میں سینیٹر بننا ضروری

اسلام آباد (مہتاب حیدر) شوکت ترین کو وزیر خزانہ برقرار رہنے کے لیے 25 روز میں سینیٹر بننا ضروری ہے کیوں کہ سینیٹر منتخب نا ہونے کی صورت میں انہیں مشیر خزانہ لگایا جاسکتا ہے،اس ضمن میں وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان انہیں سینیٹر بنادیں گے۔ تفصیلات کے مطابق، وزیر خزانہ شوکت ترین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیوں کہ انہیں سینیٹر منتخب کروانےکے لیے صرف 25 روز باقی رہ گئے ہیں اور اسی صورت میں وہ وزیر خزانہ برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر شوکت ترین نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ اس ضمن میں غیریقینی صورت حال اور افواہوں کا خاتمہ ہوسکے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ انہیں رکن پارلیمنٹ منتخب کرنے کی چھ ماہ کی حد 16 اکتوبر، 2021 کو ختم ہورہی ہے۔ اگر مقررہ معیاد تک حکومت انہیں سینیٹر منتخب نہیں کرتی تو انہیں وزیراعظم کا مشیر برائے خزانہ بنایا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے تین سالہ دور حکومت میں چار وزیر خزانہ تبدیل ہوچکے ہیں اور اس غیریقینی صورت حال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وہ کہیں نہیں جارہے کیوں کہ انہیں وزیر اعظم عمران خان پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ انہیں سینیٹر منتخب کرلیں گے۔ وزیر خزانہ نے اس نمائندے کو تصدیق کی ہے کہ وہ آئی ایم ایف/ عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 12 اکتوبر، 2021 کو واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوں گے۔ اس لیے حکومت کو ان کی روانگی سے قبل ہی انہیں سینیٹر منتخب کرنا ہوگا۔ حکومت نے شوکت ترین کو منتخب کرنے کے لیے اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ ختم کی تھی لیکن یہ معاملہ عدالت میں چلاگیا۔ اب حکومت کو سندھ، پنجاب یا خیبر پختون خوا سے کوئی سیٹ خالی کرنا ہوگی، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ شوکت ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کو اکتوبر کے ابتدائی دس روز میں سینیٹر منتخب کیا جاسکتا ہے اور یہ عمل جلد شروع ہوگا۔

ملک بھر سے سے مزید