• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وارث رضا کی گرفتاری پر خاموش نہ اپنے حقوق سے دستبردار ہونگے، صحافتی تنظیمیں

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)صحافتی تنظیموں کے رہنماوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاریاں اور گمشدگیاں صحافیوں کو آزادی صحافت کی جدوجہد سے نہیں ہٹاسکتیں ، وارث رضا کی گرفتاری صحافیوں کو آزادی صحافت کیلئے آواز اٹھانے اور لانگ مارچ سے دستبردار ہونے کا پیغام ہے مگر صحافتی تنظیمیں خاموش ہوں گی اور نہ ہی اپنے حقوق سے دستبردار ہونگی ، نومبر کے پہلے ہفتہ میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ ہر صورت ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلمان اشرف ، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند اور جنرل سیکرٹری بی یو جے فتح شاکر نے کراچی سے سینئر صحافی وارث رضا کی گمشدگی کے خلاف بی یو جے کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرے سے خطاب میں کیا ۔پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ حکومت پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے نام پر اظہار رائے کی آزادی کا آئینی حق چھیننا چاہتی ہے جس کی ہم قطعاً اجازت نہیں دیں گے ، انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے میں اظہار رائے کی آزادی کو تحفظ حاصل ہے مگر حکومت یہ حق ختم کرنا چاہتی ہے ، گرفتاریاں اور گمشدگیاں مسئلے کا حل نہیں، حکومت کو بات چیت سے مسائل حل کرنا ہونگے ، انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے اپنے 19 نکاتی ایجنڈے کیلئے نومبر کے پہلے ہفتہ میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریگی ۔بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلمان اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں کسی صورت بھی ہمیں اپنی جدو جہد سے نہیں ہٹاسکتیں ، صحافی اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے صحافیوں نے 2 دن دھرنا دیا اور اپنے حقوق کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ، انہوں کہا کہ ہم گرفتاریوں سے مرعوب نہیں ہوں گے ، حکومت اگر مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ہمارے دروازے کھلے ہیں کیونکہ صحافتی تنظیمیں سمجھتی ہیں کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے اور اگر حکومت اپنے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے تو اس کی یہ خواہش جب تک ایک بھی صحافی باقی ہے پوری نہیں ہوگی ۔ مظاہرے سے صدر کوئٹہ پریس کلب عبدالخاق رند نے کہا کہ وارث رضاء کی گرفتاری صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے اگر کسی کو صحافیوں سے کوئی شکایت ہے تو اس کیلئےطریقہ کار موجود ہے ، اس کے تحت بات کی جاسکتی ہے۔
کوئٹہ سے مزید