• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت دل کی بیماریوں کے علاج نہیں، بچاؤ پر توجہ دے، ماہرین

پاکستانی ماہرین صحت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دل کی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے بیماریوں سے بچاؤ کے پروگرام شروع کیے جائیں کیونکہ پاکستان جیسے ملکوں میں اتنی معاشی سکت ہی نہیں کہ کروڑوں افراد کو صرف دل کے علاج کی سہولیات مہیا کرسکے۔

پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کی کراچی میں آج سے شروع ہونے والی 24ویں سائنٹیفک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تقریباً آدھی آبادی ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہوچکی ہے۔

خاص طور پر خواتین میں یہ مرض انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے نتیجے میں دل کی بیماریاں اور ہارٹ اٹیک سمیت فالج سے اموات کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر سعید قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت کئی بیماریوں کا سامنا ہے، لیکن ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کی بیماریاں سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پرائمری ہیلتھ کیئر پر توجہ دے تاکہ بیماریوں کے بچاؤ اور جلد تشخیص سے صورتحال پر قابو پایا جاسکے، دل کی بیماریوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے بچاؤ پر توجہ دینے سے نہ صرف معاشی وسائل بچیں گے بلکہ قیمتی انسانی جانوں کو بھی بچایا جا سکے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان سوسائٹی آف انٹروینیشنل کارڈیالوجی کے صدر پروفیسر ندیم رضوی کا کہنا تھا کہ ہمیں انگلینڈ اور دوسرے ممالک سے سیکھتے ہوئے بیماریوں کی روک تھام، خاص طور پر دل کی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ہائی بلڈ پریشر سمیت دیگر عوامل کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے صدر پروفیسر ہارون بابر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کروڑوں افراد کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ بلند فشار خون جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں جبکہ وہ لوگ جو کہ ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کی ادویات لے رہے ہیں ان کی اکثریت بھی اپنا بلڈ پریشر کم رکھنے میں ناکام ہے جس کی بنیادی وجہ اس مرض کے حوالے سے لاعلمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام الناس میں ورزش کی اہمیت، متوازن غذا، موٹاپے سے بچاؤ، سگریٹ اور شراب نوشی سے پرہیز سمیت دیگر اچھی عادات کی اہمیت اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ اس سائنٹیفک کانفرنس کا بنیادی مقصد عوام الناس اور ڈاکٹروں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے ہوئے مرض کے حوالے سے شعور بیدار کرنا اور ڈاکٹروں کی ٹریننگ مقصود ہے تاکہ وہ اس مرض پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

کانفرنس کے آرگنآئزنگ سیکرٹری پروفیسر نواز لاشاری، پروفیسر اظہر فاروقی اور ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر اکرم سلطان نے بھی اس موقع پر دل کے امراض سے بچاؤ اور بلڈ پریشر کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

صحت سے مزید