• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 11اکتوبر کو اسلام آباد میں طلب

اسلام آباد (فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی) غیر فعال پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 11 اکتوبر کو اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا،تاہم حالات کے پیش نظر اس کی تاریخ میں تبدیلی ہوسکتی ہے،موجودہ حکومت کے خلاف پہلا سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ جو ایک سال قبل 20 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں تشکیل پایا تھا اب تقریباً مکمل طور پرغیرفعال ہوچکا ہے اور مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس اتحاد جس میں 11 جماعتیں شامل تھیں اب صرف دو بڑی پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور پانچ چھوٹی جماعتوں کے نام سے برائے نام موجود ہے۔ لیکن اب ان دو بڑی جماعتوں میں بھی باہمی لاتعلقی اس سطح پر ہے کہ سیاست میں ’’مشترکہ مفادات‘‘ کی خبر بھی سامنے نہیں آتی تاہم اس کے برعکس حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات اور چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ’’باہمی اختلافات‘‘ منظر عام پر آرہے ہیں۔ اطلاعات تو یہ ہیں کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کے قیام پر مشاورت کیلئے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے چیمبر میں بلائے جانے والے اجلاس میں پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ ارکان اسمبلی کو متعلقہ امور پر آمادہ کر لیا تھا تاہم بعض ارکان کے مشورے پر اس ضمن میں کمیٹی کے قیام کے اعلان کو فی الوقت موخر کر دیا گیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم میں شامل ہے اور تمام فیصلوں میں پی ڈی ایم سے مشاورت کی پابند بھی ۔

اہم خبریں سے مزید