• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹھارہ سال سے کم عمر افرادکے قبولِ اسلام کے حوالے سے مجوزہ بل (گزشتہ سے پیوستہ)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

(قرآن وسنّت کی روشنی میں جائزہ)

اس موقع پر قوم اپنے نمائندوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جب ’’جبر‘‘ کا وجود نہیں ہے اورجبری تبدیلی مذہب کے مقدمات ریکارڈ پر نہیں ہیں اور اگر اس نوع کا کوئی مقدمہ درج بھی ہوا ہے تو نومسلم نے بھری عدالت میں کہا ہے کہ اس نے جبر کے ذریعے نہیں ،بلکہ آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا ہے تو پھر ایک ایسی برائی(جبر) کے خلاف قانون کیوں وضع کیا جارہا ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے؟ اس کا نقصان یہ ہےکہ برائی کی غیر ضروری تشہیر ہوتی ہے،کیونکہ قانون چغلی کھاتا ہے کہ برائی موجود ہے جس سے ملک دشمن قوتوں کو زہریلا پروپیگنڈا کرنے اوروطن عزیز کو بدنا م کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔دنیا کو کوئی حق نہیں ہے کہ ہمیں بدنام کرے ،مگر ہمیں بھی دنیا کو ایسا موقع نہیں دینا چاہیے۔

ایک طرف اگر یہ حقیقت ہےکہ بلاضرورت قانون سازی کردی جاتی ہے تو دوسری طرف یہ مصیبت ہے کہ ہر برائی کا علاج قانون کے نفاذ میں ڈھونڈا جاتا ہے اور قانون سازی سے پہلے کے لازمی مراحل عوامی آگہی،اصلاحِ معاشرہ، قانون کے لیے سازگار ماحول وغیرہ نظرانداز کردیے جاتے ہیں،دونوں صورتوں میں نتیجہ قوانین کی ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ چنانچہ آج مشاہدہ ہے کہ قوانین کی کثرت ہے ،مگر ان کی منفعت نہ ہونے کے برابر ہے۔

بہرحال یہ کچھ مختصر معروضات تھیں جو مجوزہ قانون کےحوالے سے تھیں۔میری اس سلسلے میں وزارتِ مذہبی امور سےگزارش ہےکہ وہ ایسی قانون سازی روکنے میں اپنا کردار اداکرے ۔اسلامی نظریاتی کونسل بھی دستور کے تحت حاصل اختیار کے تحت اس مجوزہ بل کو غیر شرعی ہونے کی وجہ سے مسترد کرے۔ اسمبلی کے اراکین نے اگر اس سلسلے میں سیاسی مصلحت کا خیال رکھا یا کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول کیا تو عنداللہ مجرم قرار دیے جائیں گے اورپاکستانی عوام کے غیض وغضب کا شکار ہوں گے۔خدارا!اسلام کا دروازہ غیر مسلموں پر اورآسمانی رحمتوں کے دروازے اس ملک پربند مت کیجیے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk