• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امام احمد رضا بریلویؒ اور نظریہ حرکتِ زمین!

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد

امام احمد رضا خاں ۱۸۵۶ء میں بریلی(یو۔ پی، بھارت) میں پیدا ہوئے اور ۱۹۲۱ء میں یہیں انتقال ہوا۔ وہ متعدد علوم وفنون میں مہارت رکھتے تھے۔ علوم نقلیہ کے علاوہ مندرجہ ذیل علوم عقلیہ میں ان کو کمال حاصل تھا: منطق، فلسفۂ قدیمہ، فلسفۂ جدیدہ، ہیئت قدیمہ، ہیئت جدیدہ، ہندسہ، ارثماطیقی، لوغارثمات، جبرو مقابلہ، حساب،توقیت، مناظر ومرایا،زیجات، مثلث کروی، مثلث مسطح، حساب ستینی، طبیعیات، ارضیات، فلکیات، جفر، زائرچہ، مربعات، تکسیر، وغیرہ۔

انہوں نے تقریباً ہر فن میں تصانیف وشروح، حواشی، تعلیقات یادگار چھوڑے ہیں۔ میرے ذاتی کتب خانے میں ان کی ایک سو سے زیادہ عربی ، فارسی، اور اُردو علمی نگار شات کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں موجود ہیں۔ علوم سائنس میں ان کی مہارت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۹۱۹ء میں مشی گن یونیورسٹی(امریکہ) کے پروفیسر البرٹ۔ ایف پورٹا نے اعلان کیا کہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو آفتاب کے سامنے بیک وقت چند ستاروں کے جمع ہو جانے سے ممالک متحدہ میں خصوصاً اور دنیا میں عموماً زبر دست تباہی مچے گی اور ایک قیامت صغریٰ برپا ہوگی۔ 

یہ خبر اخبار ایکسپریس(بانکی پور، بھارت)میں شائع ہوئی۔ جب امام احمد رضاؒ سے اس پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پروفیسر موصوف کا یہ اعلان سراسر لغو ہے۔ پھر انہوں نے اس کے جواب میں ایک تحقیقی مقالہ قلم بند کر کے شائع کرایا جس میں دلائل وبراہین سے پروفیسر مذکور کے وعدے کو باطل قرار دیا۔

نیویارک ٹائمز (امریکہ) کے چند شماروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۷؍دسمبرکا دن جب آیا تو دنیا بھر کے ہیئت داں آفتاب کے مطالعہ ومشاہدے میں مصروف رہے اور چند ملکوں کے لو گ اضطراب کے عالم میں قیامت صغریٰ کا انتظار کرتے رہے ،مگر وہ نہ آنی تھی نہ آئی اور جو کچھ امام احمد رضاؒ نے کہا تھا ،سچ ثابت ہوا۔ مغربی ہیئت دانوں پرامام احمد رضاؒ کی یہ پہلی کامیابی تھی۔

آپ ؒنے نظریۂ حرکتِ زمین کے خلاف بھی ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا ،مگر اس زمانے میں اہل علم مغربی افکار سے مرعوب تھے۔ شاید اس لیے اس مقالے کا زیادہ چرچا نہ ہوا، مگر اب پھر حرکت زمین کا نظریہ زیر بحث آیا ہے ،چنانچہ کچھ عرصہ ہوا پاکستان کی ایک فاضل ،زہرا مرزا قادری نے اس نظریہ سے اختلاف کرتے ہوئے بیان دیا تھا جو اخبار جنگ(کراچی) میں شائع ہوا ۔ پھر اس مسئلے پر تبادلۂ خیال کے لیے موصوفہ کو کیلیفور نیا یونیورسٹی(امریکہ) سے دعوت بھی آئی تھی اور پاکستان کے ایک جہاں دیدہ فلسفی سید محمد تقی کا ایک مضمون نظر سے گزرا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ ۴۵؍سال سے حرکت زمین اور سکون ارض کے نظریوں پر غور کرتے رہے اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ نظریہ حرکت زمین باطل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’میں برابر حرکت زمین اور سکون ارض کے اختلاف پر سوچتا رہا اور بحثیں کرتا رہا‘ اب جاکر طویل سوچ اور جدید ہیئت کے اکابر کی کتابوں کے حوالوں کے بعد یہ ایقان حاصل ہو سکا کہ حرکت ارض کا نظریہ بالکل غلط ہے‘‘۔

نظریۂ حرکت زمین کا جدید سلسلہ ریاضیات کے پروفیسر کا پرنیکس سے چلتا ہے۔ انہوں نے فیثا غورث کے نظریہ حرکت زمین کی تائید کی اور بطلیموس کے تصور کائنات کو مشاہدے یا استدلال کے بجائے اس لیے رد کر دیا کہ اس میں حساب کی زیادہ پیچیدگیاں ہیں۔ حالاں کہ بعض سائنسی تجربات نے سکون ارض کی تائید کی ہے۔ چناں چہ ۱۸۸۰ءمیں آئن اسٹائن نے ایک تجربہ کیا جس سے نظریۂ حرکت زمین کا رد ہوتا تھا ،لیکن سائنس دانوں نے ماننے سے انکار کر دیا، ان کے انکار پر آئن اسٹائن نے اپنے تجربے کی ایسی توجیہ پیش کی جس سے حرکت زمین کا نظریہ ثابت ہو گیا،مگر بقول سید محمد تقی: ’’یہ سائنس کی تاریخ کی سب سے زیادہ غیر عقلی توجیہ تھی“۔

امام احمد رضاؒ نے بھی اس توجیہ کی غیر معقولیت پر بحث وتنقید کی ۔ آئن اسٹائن کے بعد ۱۸۸۱ء میں مائیکل سن اور یار لے نے تجربے کیے۔ ان سے بھی یہ ثابت ہوا کہ نظریہ حرکت زمین باطل ہے۔ مگر سائنس دانوں نے حسب سابق اس نتیجے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پروفیسر وائن برگ نے بھی اپنی کتاب ’’کائنات کی عمر کے پہلے تین منٹ‘‘ میں ایک ایسے تجربے کا ذکر کیا ہے جس سے نظریہ حرکت زمین کی تردید ہوتی ہے۔

غرض پے درپے تجربات کی روشنی میں نظریۂ حرکت زمین کی تردید ہوتی رہی‘ مگر سائنس داں ماننے سے انکار کرتے رہے۔ امام احمد رضا خاںؒ نے اس نظریے کا بھر پور رد کیا ۔ انہوں نے نظریۂ حرکت زمین کے خلاف جو دلائل وبراہین پیش کیے اور مغربی سائنس دانوں پر جو تنقید کی ، وہ قابل توجہ اور لائق مطالعہ ہے۔ انہوں نے اپنے وقت کے مشہور ریاضی داں پروفیسر حاکم علی(پرنسپل، اسلامیہ کالج، لاہور) سے مسئلہ حرکت زمین پر بحث کرتے ہوئے لکھا: ’’یورپ والوں کو طریقۂ استدلال نہیں آتا، انہیں اثبات دعویٰ کی تمیز نہیں،آپ نے دلائل حرکت زمین کتب انگریزی سے نقل فرمائے‘‘۔

امام احمدرضا ؒنے حرکت زمین اور اس کے متعلقات پر مندرجہ ذیل چار مقالات میں بحث کی ہے:۱۔معین مبین در شمس وسکون زمین(۱۳۳۸ھ/۱۹۱۹ء)مطبوعہ لاہور۔

۲۔فوز مبین در رد حرکت زمین(۱۳۳۸ھ/ ۱۹۲۰ء)، مطبوعہ بریلی۔

۳۔الکلمۃ الملھمہ فی الحکمۃ المحکمہ لوھاء فلسفۃ المشئمہ(۱۳۳۸ء/۱۹۲۰ء) مطبوعہ دہلی۔

۴۔نزولِ آیات فرقان بسکون زمین وآسمان (۱۳۳۸ھ/۱۹۲۰ء)، مطبوعہ لکھنؤ۔

نظریہ حرکت زمین کے رد میں امام احمد رضاؒکی ’’فوزمبین‘‘ اہم کتاب ہے۔ اس میں ایک مقدمہ ہے جس میں مقررات ہیئت جدیدہ کابیان ہے جس سے مقالے میں کام لیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ۱۰۵دلائل سے نظریۂ حرکت زمین کو باطل کیا ہے …ان تمام دلائل میں صرف ۱۵دلائل ایسے ہیں جو پچھلی کتابوں میں مل جاتے ہیں ،باقی ۹۰دلائل خودامام احمد رضا خاں کی فکر رسا کا نتیجہ ہیں ۔آخر میں خاتمہ ہے جس میں کتب الٰہیہ سے گردش آفتاب اور سکون ارض کو ثابت کیا گیا ہے۔

’’فوزمبین‘‘ تقریباً ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے۔ تلاش وجستجو کے بعد اس کا ایک قلمی نسخہ بریلی میں ملا ،جو ۱۹۸۸ء میں بریلی کے ادارہ سُنی دنیا نے پہلی بار کتابی صورت میں شائع کردیا ہے(اب پاکستان سے ادارئہ تحقیقات امام احمد رضا اس کا انگریزی ترجمہ شائع کر رہا ہے) اہل فن اگر اس کا مطالعہ کریں تو فائدے سے خالی نہ ہوگا۔

امام احمد رضاؒ نے علوم عقلیہ کو قرآن کی روشنی میں پر کھا اور قرآنی ارشادات کو عقلی دلائل سے ثابت کیا۔ وہ قرآنی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے، ان کے خیال میں قرآنی ارشادات حتمی وقطعی ہیں اور سائنسی افکار ونظریات غیر حتمی غیر قطعی اور ارتقا پذیر۔ اس لیے قرآن کی روشنی میں سائنسی نظریات کو پرکھنا چاہیے اور قرآنی ارشادات کو دور ازکار تاویلات کر کے سائنسی نظریات کے مطابق نہ بنانا چاہے۔ امام احمد رضا خاں کے اس اندازِ فکرنے مسلمان سائنس دانوں کے لیے ایک نئی راہ متعین کر دی ہے جس پر چل کر وہ بہ سرعت ترقی کر سکتے ہیں ،کیوں کہ وحی کی رفتار عقل کی رفتار سے بہت تیز ہے، اس رفتار کا اندازہ لگانا عقل کے بس کی بات نہیں۔