• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ڈکیتی، راہ زنی اور لوٹ مار کی وارداتیں پولیس قابو پانے میں ناکام

گذشتہ چند ماہ سے حیدرآباد میں امن و امان کی صورت حال ابتر ہے۔ صرف ڈیڑھ ہفتے کے دوران 35سے زائد وارداتوں میں تاجروں سمیت شہری ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے سونے سمیت لاکھوں روپے نقدی، موبائل فونز، کاروں اور ایک درجن سے زائد موٹر سائیکلوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ سابق ایس ایس پی حیدرآباد، عبدالسلام شیخ کی تعیناتی کے دوران وارداتوں کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے۔ 

تاجروں، سماجی وسیاسی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے جب ان پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے خود کو دفتر یا سرکاری اجلاس تک محدود کرکے عوامی رابطوں کا سلسلہ بند کردیا۔ رابطوں کے فقدان کے نتیجے میں شہر میں جرائم پیشہ عناصر بے لگام ہوگئے، وارداتوں میں اضافہ ہوا، منشیات فروشوں دیگر جرائم کی روک تھام پر پولیس کی گرفت کمزور ہوگئی۔

ایس ایس پی عبدالسلام شیخ کے تبادلے کے بعد ساجد امیر سدوزئی کو حیدرآباد کا نیا ایس ایس پی مقرر کیا گیا اور انہوں نے 13ستمبر کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کردیا۔ تعیناتی کے بعد انہوں نے ضلع بھر کے پولیس افسران کے ساتھ اجلاس کرکے شہر میں امن وامان کے قیام ، جرائم کے خاتمہ، وارداتوں کی روک تھام اور ٹریفک نظام کی درستی کے عزم کااعادہ کیا ۔

عوام سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے دوران صحافیوں،تاجروں، صنعتکاروں ومعززین شہر نے جرائم میں اضافہ، ٹریفک کی بے ہنگم صورتحال، تجاوزات کی بھرمار، قبضہ مافیا، منشیات فروشی اور دیگر سماجی برائیوں کے حوالے سے پولیس کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مثبت تجاویز اور مشورے دیئے۔ ان کی تعیناتی کے بعد ایس ایچ اوز کے تبادلوں کا بھی سلسلہ شروع ہوا لیکن جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پولیس مقابلوں کاسلسلہ شروع کیا گیا اور 7 مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 6زخمی ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ۔ اس سلسلے میں پولیس ترجمان نے کہا کہ گرفتار ملزمان ڈکیتی ،رہزنی اورچوری سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس نکلے۔ سول اسپتال لائے گئے ایک زخمی ملزم سجاد عرف سجو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اسے چند گھنٹے قبل ایک امام بارگاہ سے گرفتارکرکے نامعلوم مقام پر رکھاگیا اور بعدازاں ٹانگ میں گولی مارکر زخمی کردیا جبکہ چند سال قبل بھی اسے مبینہ مقابلے میں ٹانگ میں گولی مارکر زخمی کیا گیا تھا۔

سول سوسائٹی نے جعلی پولیس مقابلوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی بیخ کنی کے لئے ریپڈ ریسپانس فورس‘ 15مددگار فورس کو فعال بنانا ہوگا۔ گاڑی چوری کی بیشتر وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے بعد متعلقہ تھانوں کی جانب سے پولیس ریکارڈ کی مدد سے ملزمان کو گرفت میں لینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وارداتوں کے انداز، طریقہ اور سماج دشمن عناصر کی نشاندہی کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کی جائے۔

گذشتہ چند سالوں سےسی آئی اے پولیس کی کارکردگی بھی ناقص رہی ہے۔ سابق ایس ایس پی نےسی آئی اے کے دو افسران سمیت 9اہلکاروں کے پولیس لائن تبادلے کئے تھے، جبکہ متعدد افسران کے خلاف انکوائریاں کی جاری ہیں ۔سی آئی اے میں اچھی شہرت کے حامل قابل اور باصلاحیت افسران واہلکاروں کو تعینات کرکے شہر میں جرائم پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید