اسلام آباد (نیوزایجنسیاں،ٹی وی رپورٹ) پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شدید احتجاج کیا اور نعرے لگائے، قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس سے حزب اختلاف نے واک آؤٹ بھی کیا۔ بعد ازاں اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیئے گئے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، حکومت کیخلاف نعرے بازی کی،پلے کارڈز لہرائے اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پھر پٹرول اور گیس کا بم چلا دیا گیا ہے، عوام پر رحم کریں۔
شازیہ مری نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کرکے عوام کا جینا اجیرن کر دیا، پولیس پٹرول بم گرانے والے گینگ کو کب گرفتار کریگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن نے سینیٹ میںبھی شدید احتجاج کیا سینیٹر رضا ربانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غریب کا چولہا بجھ رہا ہے، سعودی عرب کے ساتھ تیل کی قیمتوں سے متعلق معاہدہ کہاں ہے۔
سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ اوگرا نےبہت زیادہ قیمت بتائی ،کم سے کم اضافہ کیا، تیل نکل آئے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائیگا، وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی میں کمی روپے کی قدر میں کمی کے سبب ہے ،سلسلہ سابق حکومتوں سے شروع ہوا۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف ،آغا رفیع اللہ اور دیگر متعدد ارکان نے نکتہ اعتراض پر فلور مانگنا شروع کر دیا ۔
اپوزیشن ارکان کو نظر انداز کر دیا گیا جس پر ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے حکومت کیخلاف نعرے لگانے شروع کر دئیے۔حکومت مخالف پلے کارڈز لہرا دئیے گئے۔ گو نیازی گو، عمران سستا روٹی مہنگی، عمران سستا چینی مہنگی، عمران سستا پٹرول مہنگا اور حکومت کیخلاف دیگر نعرے لگائے گئے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ وقفہ سوالات میں حکومت کی جانب سے سوالات کے جوابات موصول نہیں ہو رہے۔یہ سولات پچھلے سیشن سے موخر شدہ ہیں ۔ یہ حکومت کی غیر سنجید گی کا عالم ہے۔ کیا اس ہا ئوس کی یہی توقیر ہے کہ سوالوں کا جواب بھی نہ دیا جا ئے۔
انہوں نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سے مطالبہ کیا کہ وہ سوالات کے جوابات موصول نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے ہدایت کی کہ اگلے سیشن میں جواب لازمی آ نے چاہئیں ۔انہوں نے ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ ʼعوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا ہے۔ خدارا پاکستان کےعوام پر رحم کریں۔
خدا کے واسطے رحم کریں۔اپوزیشن ممبران بطور احتجاج اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی ۔ڈپٹی اسپیکر نے ہنگامہ کے با وجود کارروائی جاری رکھی ۔شا زیہ مری بغیر مائیک کے بولتی رہیں اور کہا کہ حکومت نے مہنگائی کرکےعوام کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔
بعد ازاں متحدہ ا پوزیشن نے قومی اسمبلی کے ایوان سے شاہراہ دستور تک مارچ کیا ۔ یہاں بھی مظاہرے کے دوران حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے بڑی تعداد میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی خواتین ارکان بھی موجود تھیں ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے چیف وہیپ سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی ایجنڈے کو سبوتاژ کر رہی ہے ۔ پٹرولیم کی مصنوعات میں آئے روز اضافہ کیا جا رہا ہے اور اس معاملے پر حکومت کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، حکومت پارلیمنٹ کو بے توقیراور پارلیمنٹ کو مفلوج کر رہی ہے، جنہوں نے ان حکمرانوں کو قوم پر مسلط کیا تھا وہ بھی اب سوچ رہے ہونگے۔
وہ تو پیچھے ہٹ چکے ہیں مگر حکمران قوم کی گردنوں پر سوار ہیں آئے روز مہنگائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے حکمران ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں پی ڈی ایم کی طرف سے واضح لائحہ عمل دے دیا گیا ہے ۔
پیپلزپارٹی کے رہنما آغارفیع اللہ نے بھی کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو غیر فعال کررہی ہے بے توقیر کر رہی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی قیادت میں مشترکہ احتجاج کیا جا سکتا جو کہ سڑک پر ہو گا ۔
سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اپوزیشن نے شدید احتجا ج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ سینیٹ کو بتایا ہے گیا کہ جی ڈی پی میں کمی روپے کی قیمت میں کمی کے سبب ہے ،اسکے ذمہ دار سابق حکمران ہیں، اب آئی ایم ایف نے جب قرضوں میں چھوٹ کو بڑھایا تو خسارہ 1500 ارب سے بڑھ گیا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت کی کاوش سے ڈیبٹ ٹو جی ڈی پی کم ہوا ، اس سے اپوزیشن کو حیرت تو ہو گی، امید ہے اس سال گروتھ ریٹ 5 فیصد یا اس سے زیادہ رہے گی۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔