• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ 22کروڑ کی کثیر آبادی کے حامل وطنِ عزیز میں زرعی و صنعتی پیداواری استعداد بدرجہ اتم موجود ہے تاہم اس تلخ حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ غیرمساوی تقسیمِ دولت، ٹیکس وصولی کا کمزور نظام، بدعنوانی غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں یہ سب مل کر ایک ایسی آہنی زنجیر کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو ملک میں پیدا شدہ مہنگائی کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے جسے توڑ کر ہی صحیح معنوں میں مہنگائی سے نجات مل سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان بارہا عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی مساعی کر چکے ہیں اور اپنے اس عزم میں غیر متزلزل ہیں، جمعرات کے روز مٹیاری(سندھ) تا لاہور برقی 660کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے موجودہ گرانی کو عارضی کہتے ہوئے اس کے جلد خاتمے کا عندیہ دیا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ملک میں دولت پیدا کرنے کے کثیر الجہتی پروگرام پر یقین رکھتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ترقی یافتہ ملک کے عوام دولت مندی کے باعث مہنگائی کے اثرات کم ہی محسوس کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاک چین راہداری منصوبے کو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں معاون قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے گزشتہ مہینوں کے دوران بعض مسائل پیدا ہوئے جن پر قابو پا لینے کے بعد اب اس منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین کا جو نظام متاثر ہوا اس کے اثرات پاکستان میں مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑے۔وزیراعظم نے کہا کہ لائن لاسز کی وجہ سے بجلی موجود ہونے کے باوجود صارفین تک ان کی سپلائی میں مشکل کا سامنا ہے اس ضمن میں 886کلو میٹر طویل مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن منصوبے سے لائن لاسز کو 17سے چار فیصدپر لانے میں مدد ملے گی۔ یہ بات بجا ہے کہ لائن لاسز کا اثر صارفین پر ہی پڑتا ہے جو دوسروں کے بل بمع ٹیکس اپنی جیب سے ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں وزیراعظم نے یہ بات تسلیم کی کہ ایک فیصد لائن لاسزکا مطلب اربوں روپے کا نقصان ہے۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی ایک وجہ لائن لاسز بھی بنے اورباوجود یکہ مہنگے ترین منصوبوں سے بجلی تیار کی جا رہی ہے لیکن لائن لاسز پر قابو پانا حکومت کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں غیرملکی قرضے اتارنے کیلئے صنعتی عمل کی رفتار تیز کی جائے گی اس حوالے سے انہوں نے زرعی ترقی اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پاکستان کے پاس زرعی شعبے کا مکمل انفرا اسٹرکچر موجود ہے لیکن عدم توجہی اور فنڈز کی کمی کے باعث جدید ٹیکنالوجی کا فقدان پایا جاتا ہے جس کے دستیاب ہونے سے ملک اتنی کثیر پیداوار حاصل کر سکتا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے برآمد کرکے قیمتی زرِمبادلہ کما سکے۔ شومئی قسمت کہ ان سب کے باوجود اس وقت ایک طرف غریب اور متوسط طبقہ روز افزوں مہنگائی کے ہاتھوں شدید مشکلات کا شکار ہے تو دوسری طرف آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کر کے آئے دن بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں جبکہ رہی سہی کسر ڈالر کی اونچی اڑان نے پوری کر دی جس کی قدر میں روپے کے مقابلے میں روز افزوں اضافہ گرانی کے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ بن رہا ہے اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو مہنگائی کی نئی لہرکو روکنا ناممکن ہو جائے گا، زرِمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوں گے اور غیر ملکی قرضوں کا حجم اسی رفتار سے بڑھے گا۔

تازہ ترین