• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے مہنگائی کو گویا پر لگ جاتے ہیں۔کوئی ایسی ضرورت کی شے نہیں بچتی جو گرانی کی زد میں نہ آئے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رواں ماہ دوسری مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول مزید 4روپے مہنگا کردیا۔خزانہ ڈویژن کی جانب سے جاری پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 127 روپے 30 پیسے ہوگی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق، 'ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے، کیروسین کی قیمت میں 7روپے 5 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 8روپے 82 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ قیمتوں کا نیا ریکارڈ ہے، جس کی ایک وجہ ڈالر کی کی قدر میں مسلسل اضافہ ہے جو 173 کی حد پار کر چکا ہے۔ دریں اثنا، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور حکومت کے درمیان ایک ارب ڈالر کے قرض کے اجرا کیلئے رواں ماہ مذاکرات ہونے ہیں جس میں عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت پر یہ شرائط عائد کی ہیں کہ آٹے، دالوں ، گھی کے علاوہ گیس اور بجلی پر بھی سبسڈی ختم کی جائے اور احساس پروگرام کے تحت ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جائے۔شنید ہے کہ حکومت گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کیلئے تیاری مکمل کر چکی ہے اور اس باب میں گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں 35فی صد اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جبکہ حکام مہنگائی کی جو تاویلیں پیش کر رہے ہیں، ان میں مہنگائی کی حالیہ لہر کو عالمی رجحان سے منسلک کیا گیا ہے ،یہ نہیں بتایا گیا کہ دنیا میں اور پاکستان میں فی کس آمدنی کیا ہے؟ وزیراعظم کورونا کو گرانی کی وجہ قرار دیتے ہیں اور اگلے روز ہی انہوں نے مہنگائی کی لہر پر قابوپانے کے حوالے سے خوشخبری سنائی تھی مگر اب ایسا ہوتا ممکن دکھائی تو نہیں دیتا،تاہم حکومت کو چاہئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واپس لے کر عوام کو ریلیف دے جو اب بھی اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین