کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندری طوفان کی لپیٹ میں آنے کے بعد ایک طرف یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک سائیکلونک اسٹارم کی کیفیت سامنے آسکتی ہے۔ دوسری جانب طوفانی ہوائوں کے باعث گرے ہوئے کھمبے، اکھڑے ہوئے درخت، ادھڑی ہوئی سڑکیں اور نشیبی علاقوں میں جمع پانی نے طوفان آنے سے پہلے ہی طوفان کے بعد کا منظر دکھانا شروع کردیا ہے۔ ہنگامی صورت حال کے باعث جمعہ کے روز کراچی میں ایمرجنسی خدمات اور لازمی سروس دینے والے سرکاری اداروں کے سوا تمام سرکاری، کاروباری اور تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے ۔سائیکلون جن علاقوں سے ٹکراتا یا جن کے قریب سے گزرتا ہے وہاں لوگوں کو بارشوں، طوفانی ہوائوں اور ان کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹھٹھہ، بدین، سکھر، شکارپور، خیرپور اور دیگر شہروں کو شب جمعہ کی بارشوں اور طوفانی ہوائوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ مغرب اور شمالی مغرب سے بڑھنے والے ڈپریشن کے باعث سندھ اور مکران کے علاقوں کے علاوہ میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ اور دیگر اضلاع کے دو اکتوبر تک اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیلابی کیفیت 3اکتوبر تک نظر آنے کا امکان ہے۔ کراچی کی حد تک کوڑے کچرے کے انباروں کی تاحال موجودگی، بعض نشیبی وکچی بستیوں کے ناگفتہ حالات کے حوالے سےجن اقدامات کے اعلانات سامنے آئے وہ موثر ہوئے تو لوگوں کی مشکلات میں کچھ نہ کچھ کمی کی امید کی جاسکتی ہے۔ حیدرآباد سمیت کئی علاقوں میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی اور ریسکیو یونٹس کی تیاری اچھے اقدامات ہیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ وطن عزیز کےہر حصے میں شہری حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کا سینیٹ آف پاکستان کی طرح تعطل سے عاری نظام جاری و فعال اور ہر صورتحال سے نمٹنے کیلئے مستعد نظر آتا۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998