لندن (سعید نیازی) کورونا وبا کے سبب لگنے والے لاک ڈائون کے بعد ورکرز کو حکومت کی طرف سے تنخواہ کا80فیصد حصہ ادا کرنے والی فرلو اسکیم 30ستمبر کو اختتام کو پہنچ گئی۔ اسکیم کے اختتام پر بھی اس سے10 لاکھ کے قریب افراد مستفید ہورہے تھے۔ فرلو اسکیم مارچ2020ء میں شروع کی گئی تھی جس سے مجموعی طور پر11.6ملین ورکرز نے فائدہ اٹھایا اور اس پر70بلین پائونڈ کی لاگت آئی۔ بینک آف انگلینڈ سمیت دیگر اداروں نے فرلو اسکیم کے اختتام پر بیروزگاری میں اضافہ کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔ چانسلر رشی سوناک نے کہا کہ انہیں فرلو اسکیم متعارف کرانے پر فخر ہے لیکن چند بری طرح متاثر ہونے والی کمپنیوں کے اسکیم میں توسیع کے مطالبے کے باوجود یہ اس کو ختم کرنے کا درست وقت ہے۔ ٹریژری کے چیف سائمن کلارک نے کہا کہ حکومت نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ تمام نوکریاں محفوظ رہیں گی کیونکہ کوویڈ نے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔ وبا کے دوران جو شعبے زیادہ متاثر ہوئے ان میں ٹریولنگ کا سیکٹر سرفہرست رہا جس میں پابندیوں میں نرمی کے باوجود مسافروں کے اعتماد کی بحالی میں وقت لگے گا۔ لاک ڈائون کے اختتام کے بعد معیشت تیزی سے بحالی کی طرف گامزن ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اپریل سے جون تک معیشت میں5.5فیصد اضافہ ہوا جب کہ ابتدائی اندازہ4.8لگایا گیا تھا۔ بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے کمی بھی واقع ہورہی ہے جس کی بڑی وجہ مہمان نواز کے شعبہ کے علاوہ ہیوی گڈز وہیکلز ڈرائیورز اور ویٹر ہائوس میں کام کرنے والوں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق جولائی کے اختتام تک50برس سے زائد عمر کے5لاکھ40ہزار افراد فرلو پر تھے جوکہ مجموعی تعداد کا35فیصد ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق کرسمس سیزن کے سبب وافر مقدار میں نوکریاں دستیاب ہوں گی جس سے فوری طور پر بیروزگاری میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت فرلو اسکیم کے خاتمے اور یونیورسل کریڈٹ میں20پائونڈ کے اضافہ کو بھی ختم کرنے کے فیصلے کے بعد500ملین پائونڈ کی نئی گرانٹ کا ایسے خاندان کیلئے اعلان کیا ہے جنہیں اخراجات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے فنڈز سے خاندانوں کی خوراک کی خریداری اور بلز کی ادائیگی میں مدد دی جائے گی اور اس گرانٹ کو مقامی کونسلز تقسیم کریں گی۔ ہائوسنگ چیرٹی شیلٹر نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے بلز اور بینیفٹس میں کمی سے بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ 31 جولائی کو لندن میں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں فرلو کی سطح زیادہ رہی لندن کے آٹھ علاقے ان لوگوں میں شامل تھے جن میں فرلو کی شرح 9 فیصد سے 10 فیصد تھی اب 50 سال سے زیادہ عمر کے کارکنوں کی تعداد کے بارے میں تشویش پائی جا رہی ہے جو ابھی تک چھٹی پر ہیں بانی سٹورٹ لیوس نے کہا کہ مکمل اثرات ابھی بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ،50یا اس سے زیادہ عمر کے نصف ملین سے زائد افراد آخری گنتی کے وقت بھی فرلو پر ہیں ہم ہزاروں محنتی ، تجربہ کار بوڑھے کارکنوں کا ہنر تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں ایک طرف نوکریوں کی قلت تودوسری طرف اشد ضرورت نے معاملات کو پریشان کن بنایا ہے ملک میں ایچ جی وی ڈرائیوروں سمیت کئی شعبہ جات میں لاکھوں نوکریاں درکار ہیں تو لاکھوں لوگ بیروزگار بھی ہوئے ہیں جن کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں ۔