• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

50 سال سے زائد عمر کے 540000 سے زائد ورکرز بدستور فرلو ہونے پر تشویش

لندن (پی اے) ایک ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ فرلو سکیم ختم ہونے سے کچھ دن قبل تک 50 سال سے زائد عمر کے بدستور فرلو ورکرز کے بارے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس ایج گروپ کے 540000 سے زائد ورکرز جولائی کے آخر میں فرلو تھے جو کہ کل تعداد کا 35 فیصد ہیں۔ معمر افراد کی مدد اور ایڈوائس فراہم کرنے والی تنظیم ریسٹ لیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران کورونا وائرس پینڈامک نے معمر ورکرز کیلئے جاب مارکیٹ کو تباہ کردیا ہے۔ ریسٹ لیس کے بانی سٹیورٹ لیوس نے کہا کہ اس کے بھرپور اثرات ابھی محسوس کئے جائیں گے۔ 50 سال سے زائد عمر کے نصف ملین سے زائد ورکرز آخری گنتی تک فرلو تھے۔ انہوں نے کہا ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں تجربہ کار محنتی معمر ورکرز فالتو ہو جائیں گے اور بالآخر کرسمس رن اپ میں اپنے لئے کوئی نئی جاب تلاش کریں گے۔ فی الوقت جاب مارکیٹ پولرائزڈ ہو چکی ہے ۔ ایک جانب ہمارے پاس ریکارڈ اسامیاں ہیں اور کمپنیز کو اہم ایریاز میں ٹیلنٹ کی خدمات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، مثال کے طور پر ایچ جی وی ڈرائیورز اور ہیلتھ کیئر میں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب بہت سے ایچ گروپس میں بیروزگاری کی سطح ابھی تک ریکور نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مڈ لائف افراد کی اقتصادی سرگرمیوں میں بہت زیادہ کمی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیزرفتار ایسسمنٹ پروگرامز اور انٹینسیو ریٹینگ کے ذریعے اس گیپ کو پر کرنے کیلئے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ریسٹ لیس آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اس کی ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے روزگار میں اضافے کے طویل المیعاد رجحانات گزشتہ دو برسوں میں لٹ کر رہ گئے۔ سٹیورٹ لیوس نے مزید کہا کہ ورک فورس سے سوسائٹی کے کسی بھی بڑے حصے کا نقصان اور ضائع ہونا باعث تشویش ہے اور یہ صورت حال سب کیلئے اکنامک ریکوری کو روکنے کے خطرات کا باعث ہے جبکہ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے کچھ ورکرز کیلئے اقتصادی عدم سرگرمی ورک فورس سے منصوبہ بند اور چوائس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر بہت سے افراد کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ وہ مالی یا جذباتی اعتبار سے اس کیلئے خود کو تیار خیال نہیں کرتے ہیں۔ ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ ملازمتوں کیلئے ہمارا جابس کیلئے 400 بلین پونڈ کا پلان کارگر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کے خدشات کے مقابلے میں اب تقریباً 20 لاکھ کم افراد کے کام (جابس) سے باہر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کا عروج تھا تو تقریباً12 ملین جابس کو بچانے کیلئے فرلو سکیم درست اقدام تھا لیکن اب کورونا لاک ڈائون پابندیوں میں نرمی ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ واپس کام پر جا رہے ہیں اور فرلو سکیم ختم ہو رہی ہے۔ ایک سال پہلے کے مقابلے میں اب 50 سے 64 سال عمر کے 194000 زیادہ افراد جابس پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے بحال ہونے کی وجہ سے ہم اب اپنے پلان کو دگنا کر رہے ہیں۔ حکومت ہرعمر کے لوگوں کو کام پر واپس لانے کے سلسلے میں انہیں ایسے سکلز اور مواقع فراہم کر رہی ہے جن کے ذریعے وہ ترقی کر سکیں اور زیادہ کمائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں 50 سال سے زائد عمر کے افراد بھی شامل ہیں۔ سینٹر فار ایجنگ بیٹر سے منسلک ایمیلی اینڈریوز نے کہا کہ کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو زیادہ تر چھانٹیوں اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا ہے اوریہ ممکن ہے کہ فرلو سکیم کے اختتام میں بھی ان کیلئے کوئی استثنیٰ نہیں ہوگا۔ اس گروپ کیلئے جابس کے مواقع میں کمی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اس ایج گروپ کے ورکرز کو کام پر واپس آنے کیلئے سخت جدوجہد اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماضی میں بیک ٹو ورک 50 سال سے زائد عمر کیلئے کارگر ثابت نہیں ہوئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ اب ہمیں معمر افراد کو ملازمتوں اور ورک فورس میں واپس لانے کیلئے انٹینسیو پروگرامز کے ذریعے سپورٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی، اس میں انہیں ملازمتوں پر برقراررکھنا اور ری سکل کرنا شامل ہے۔

تازہ ترین