راچڈیل(ہارون مرزا) انگلش چینل پر تارکین وطن کی نقل وحمل روکنے کیلئے تعینات فرانسیسی کمانڈر جنرل فرانٹزٹاورٹ نے برطانیہ کی طرف سے طے شدہ معاہدے کی رقم روکے جانے کی صورت میں سمندر میں جاری پیٹرولنگ بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی ساحل پر غیر قانونی مہاجرین کو روکنے کیلئے بھر پور آپریشن جاری ہے مگرمالی امداد بند ہونے کی صورت میں مہاجرین کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ پریتی پٹیل کی طرف سے طے شدہ معاہدے کی 54ملین پائونڈ کی رقم روکنے کی دھمکی کے بعد فرانسیسی جنرل فرانٹز ٹاورٹ نے کہا کہ فرانسیسی ساحل پر رات کے وقت 130ریگولر اور ریزروسٹس ٹیمیں غیر قانونی مہاجرین کو روکنے کیلئے کام کر رہی ہیں، اس کے باوجود برطانیہ کی طرف سے مالی امداد روکے جانے کی دھمکی سمجھ سے بالاتر ہے، ہماری کارکردگی کا ثبوت ہے کہ انسانی اسمگلرز فرانسیسی ساحل کی بجائے بجلیم اور سومے کے ساحلوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، یہ امر قابل ذکر ہے کہ جولائی میں سیکرٹری داخلہ پرپتی پٹیل نے 54ملین پائونڈ کا معاہدہ اور رقم دینے پر اتفاق کیا تھامگر چند ہفتے قبل ٹوری ارکان پارلیمنٹ کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ جب تک فرانس غیر قانونی مہاجرین کا مکمل طور پر راستہ نہیں روکتا اسے طے شدہ معاہدے کی رقم ادا نہیں کی جائے گی ،اس پر فرانس کی طرف سے بھر پور ردعمل بھی سامنے آیا تھا ۔فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمنین نے کہا کہ ان کا ملک سمندری قانون کے برعکس کوئی بھی عمل قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی مالی بلیک میلنگ کو برداشت کیا جائے گا۔برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کے باوجود انگلش چینل عبور کرنے والے غیر قانونی مہاجرین نے رواں سال ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور غیر قانونی مہاجرین کی تعداد میں سال کے اختتام تک ریکارڈ اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ہوم آفس کے خفیہ چینل تھریٹ کمانڈر ڈین اوماہونی نے کہا ہے کہ فرانس برطانیہ جانے کے خواہشمند ہزاروں مہاجرین کو روکنے میں کامیاب رہا ہے ،ہم ہر ممکن جدوجہد کو یقینی بنا رہے ہیں کہ انگلش چینل میں غیر قانونی نقل وحمل کو روکا جا سکے مگر دوسری طرف وزیر اعظم بورس جانسن اور سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کو غیر قانونی مہاجرین کی آمد پر زبردست تنقید اور دبائو کا سامنا ہے ۔ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر قانونی داخلے کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث گزشتہ تین سال میں امیگریشن نافذ کرنے کے معاملات پر خطیر سرمایہ خرچ کیا جا چکا ہے، مائیگریشن واچ یوکے، کے مطابق ہوم آفس کی طرف سے خطیر سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود مہاجرین کی آمد کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکا۔