• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

داتا گنج بخش ؓ کےعرس پر بدتمیزی قابل مذمت ہے، قاضی عبدالعزیزچشتی

لندن ( پ ر) مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کےجنرل سیکرٹری خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے جماعت کے قائدین اور برطانیہ کے ممتاز علما ومشائخ کےمشورے اور ہدایت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویریؒ کے سالانہ عرس سراپا قدس کے مقدس موقع پر جس بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا اور مرکز تجلیات اور پورے عالم اسلام کے روحانی مرکز کے تقدس کو پامال کیا گیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، یہ قبیح اور مذموم حرکت باقاعدہ ایک خاص منصوبے کے ساتھ تیاری کر کے کی گئی اورپوری دنیا میں اہلسنت کو نہ صرف بدنام کیا گیا بلکہ ایک ایسا دروازہ کھولا گیا جس سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک میں دنگا وفساد اور مذہبی دہشت گردی کی راہ ہموار ہو گی، عالمی مبلغ اسلام عظیم مناظرہ خاندان رسالت مابؐ سے تعلق رکھنے والے عالمی نسب سید زادے حجۃ الاسلام پیر سید عرفان شاہ مشہدی موسوی کو اور دیگر علمائے اہلسنت جس میں مناظر اسلام علامہ مفتی محمد حنیف قریشی ودیگر نامور جید علمائے کرام جن کو پوری دنیا میں عزت واحترام سے دیکھا جاتا ہے نہ صرف خطاب سے روکا گیا بلکہ ان کی تضحیک کی گئی جب کہ اسٹیج پر درجنوں علماء ومشائخ جن میں بزرگ ترین علمائے کرام ومشائخ باالخصوص استاذ العلماء شیخ الحدیث والتفسیر قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ جن کے ہزاروں شاگرد پوری دنیا میں اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں ان کی بزرگی کا بھی خیال نہ رکھا گیا ،ان بدنصیب افراد نے جو اپنے آپ کو اہلسنت کہلاتے ہیں انہیں بھی اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ اس مذموم فعل سے خود حضور داتا صاحبؒ کو بھی ناراض کر رہے ہیں اور ان کے اس فعل سے پوری دنیا میں اہلسنت بدنام ہوں گے اور اسلام دشمن قوتوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ آئندہ کیلئے ان مقامات مقدس اور شعائر اللہ میں مذہبی تقاریب اور تقاریر پر پابندی لگا دی جائے۔ہماری حکومت پاکستان اور باالخصوص حکومت پنجاب اور صوبائی مذہبی اموراور داتا دربار کی انتظامیہ سے پُرزور اپیل ہے کہ واقعہ کی مکمل عدالتی انکوائری کرائے تاکہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے مزید کہا کہ علمائے کرام کے درمیان فقہی اور علمی اختلافات ہوتے رہے ہیں مگر ہمارے اکابرین نے ہمیشہ ایک دوسرے کی عزت وتکریم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کو حل کیا لیکن آج جو روش چل نکلی ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتا ہے اور دیگر کو اہلسنت سے خارج کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں، اگر اس طریقہ کو اپنا یاگیا تو پھر کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہو گی، شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھرائو کرنے سے اپنا آشیانہ چکنا چور ہوتا ہے، آخر میں رب العزت کے حضور دعا والتجا ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیب کریم ﷺکے وسیلے سے ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تحفظ ناموس رسالتﷺ و تحفظ صحابہؓ واہلبیتؓ اور تحفظ اولیاؒ کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا چشتی نے کہا کہ سرکار مدینہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ آخر زمانے میں ہر طرف سے فتنے امڈ امڈ کر آئیں گے اور ہر طرف فتنوں کا دور دورہ ہو گا، ا س وقت ان فتنوں سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہو گا کہ اپنے آپ کو قرآن کے ساتھ وابستہ رکھا جائے، ہمیں اپنی زندگی قرآنی تعلیمات اور نبی پاکﷺ کے اسوئہ حسنہ کے مطابق گزارنی چاہئے تاکہ امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکے۔
تازہ ترین