اسلام آباد (صالح ظافر) پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے تحت ’’ریس ٹو زیرو‘‘ کے لئے 26؍ کمپنیوں کے حصول کے لئے کوششیں شروع کی ہیں جو پاکستان میں آلودگی کے اخراج کو 2050ء تک ختم کرنے کے لئے کام کریں گی۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق اب تک پاکستان میں 12؍ کمپنیوں نے آمادگی کا اظہار کیا ہے جس میں سے ایک کمپنی نے ہائی کمشنر کے دورہ کراچی میں رضامندی کا اظہار کیا، سی او پی۔26گلوبل کلائمٹ چینج کانفرنس کے برطانیہ میں انعقاد میں ایک ماہ باقی ہے۔ پوری دنیا میں اس مقصد کے لئے تین ہزار کمپنیوں سے معاہدے کئے گئے ہیں۔ ہائی کمشنر کا دورہ کراچی اسی مقصد کے لئے تھا۔ انہوں نے گھارو میں زیفرونڈفارم کے ذریہ ازسرنو توانائی کے حصول کیلئے پاک برطانیہ مہارت کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹرٹرنر کو اس موقع پر دکھایا گیا کہ پاکستان کس طرح فطری ذرائع سے ماحول کو درست کررہاہے۔ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ساحلوں پر مینگروز کے ذریعہ (دلدلی نباتیات) کے ذریعہ سیلابوں سے بچائو 50؍ گنا سستا ہے۔ دنیا بھر میں سمندری آلودگی کیو جہ سے روزانہ 8؍ ملین ٹن کچرا جمع ہوتاہے اور ہائی کمشنر نے ساحلی صفائی کے لئے کلفٹن کے ساحل مہم میں حصہ بھی لیا۔ دنیا بھر میں ایسی کوششوں کے لئے 100؍ ارب ڈالرز درکار ہوں گے۔ ہائی کمشنر نے پاکستان میں کام کرنے والی صف اول کی 6؍ کمپنیوں کے اعلی عہدیداروں سے بھی ملاقات کی جن کا پاکستان کی شرح نمو میں حصہ ایک فیصد ہے انہوں نے میڈیا ہائوسز کے مالکان سے ملاقات میں احتساب کے لئے آزاد میڈیا کی ضرورت پر بھی بات کی۔ انہوںنے سندھ اسمبلی سے صحافیوں کے تحفظات کے بل کی منظوری کا بھی خیرمقدم کیا انہوںنے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی پر 31؍ اکتوبر تا 12؍ نومبر گلاسگو میں کانفرنس ہوگی۔