• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوگر اسکینڈل منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے مالکان پیر کو طلب

اسلام آباد (حنیف خالد) شوگر سکینڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے مالکان پیر کو طلب کر لئے گئے۔ گزشتہ روز اپیلٹ ٹربیونل پنجاب کی شوگر ملز مالکان کی دائر کردہ پٹیشنوں کی سماعت نہیں کر سکا تھا۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ نے گزشتہ ہفتے شوگر ملز مالکان کو صارفین تک چینی 84روپے پچاس پیسے فی کلو فراہم کرنے کا آرڈر دیا تھا‘ اور شوگر ملز مالکان کو اس فیصلے کیخلاف وفاقی سیکرٹری تجارت اور وفاقی سیکرٹری قانون و عدل پر مشتمل اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ چالیس میں سے چھبیس شوگر ملوں نے اپیلٹ ٹربیونل میں انفرادی پٹیشن دائر کیں۔ گزشتہ روز پاک سیکرٹریٹ اے بلاک وزارت تجارت کے بورڈ روم میں دن بارہ بجے سماعت کا ٹائم دیا گیا۔ چھبیس شوگر ملز مالکان میں سے کچھ ذاتی طور پر آئے اور بعض نے اپنے وکیل بھجوا دیئے۔ جب اپیلٹ ٹربیونل نے کارروائی کا آغاز کیا تو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل شہزاد الٰہی چوہدری جو کہ بھٹو دور کے صدر پاکستان فضل الٰہی چوہدری کے پوتے ہیں‘ نے اعتراض اُٹھایا کہ ٹربیونل پٹیشنوں کی سماعت نہیں کر سکتا کیونکہ صرف وہ اپیلٹ ٹربیونل سماعت کرنے کا مجاز ہو گا جس میں دو وفاقی سیکرٹری تجارت و قانون بیٹھے ہونگے۔ ٹربیونل میں ایک وفاقی سیکرٹری کامرس تو موجود ہیں مگر وزارت قانون و عدل کے وفاقی سیکرٹری نہیں ہیں۔ جو صاحب ٹربیونل میں میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ وفاقی سیکرٹری قانون نہیں ہیں‘ وہ قائم مقام سیکرٹری قانون ہیں۔ اس معنی خیز اعتراض پر ٹربیونل کے ممبران اور اُنکی ٹیم نے آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کیا۔ اس دوران کیبنٹ سیکرٹری‘ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘ وفاقی وزیر قانون و انصاف اور قائم مقام سیکرٹری قانون نے ٹیلیفون پر مشورے کئے جس کے بعد انہوں نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون کے وکیل شہزاد الٰہی چوہدری کے اعتراض کو وزنی قرار دیکر سماعت پیر 4اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ اپیلٹ ٹربیونل کی غیر قانونی تشکیل کے نتیجے میں ملک بھر کے صارفین کو اکتوبر میں بھی ایک سو پندرہ روپے کلو تک چینی خریدنے پر مجبور کر دیا گیاہے اور اُن کا سستی چینی ملنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ شوگر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کیا ایسا ملک ہے جس کے قائم مقام سیکرٹری قانون و انصاف کو اس قانون کا بھی ادراک نہیں کہ کوئی ایکٹنگ سیکرٹری وفاقی سیکرٹری کی جگہ اپیلٹ ٹربیونل میں بیٹھ سکتاہے۔ شوگر ڈیلرز ذرائع کے مطابق اس طرح پنجاب کی چالیس شوگر ملیں ماضی کے کئی ہفتوں کی طرح اپنی چینی سو روپے کے لگ بھگ ایکس ملز ریٹ پر شوگر ڈیلروں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور تھوک فروشوں کو یہ چینی ایک سو چھ روپے اور گلی محلے کے دکانداروں کو ایک سو دس سے ایک سو بیس روپے تک چینی صارفین کو ملے گی۔شوگر ڈیلرز کا استفسار ہے کہ آیا یہ حکومت اور شوگر ملز مالکان کی ملی بھگت ہے کہ غریب صارفین کو وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی مقرر کردہ چینی کی 84روپے پچاس پیسے فی کلو کے ریٹ پر چینی ملنے کا سلسلہ شروع نہ ہوسکے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ایک اور ذریعہ نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے شوگر ملوں اور انکے چینی کے گوداموں کی سیل توڑنے کا جو حکم جاری کیا تھا چنیوٹ سمیت بہت سے ضلعوں کے ڈپٹی کمشنرز نے اس پر عدم عمل درآمد کرتے ہوئے سربمہر چینی کے گوداموں سے چینی نکالنے کا سلسلہ شروع نہیں ہونے دیا تاہم پنجاب کے ڈیڑھ دو درجن اضلاع میں جو شوگر ملیں ہیں وہاں کے ڈپٹی کمشنرز نے سیل کٹوا دی ہیں اور شوگر ملوں نے ڈیلرز کو چینی کی سپلائی شروع کر دی ہے جس سے مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔

تازہ ترین