• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کالعدم تحریک طالبان کو عام معافی دینا بہت بڑا فیصلہ ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد(جنگ نیوز)مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کالعدم تحریک طالبان کو عام معافی دینا بہت بڑا فیصلہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کی کوئی بھی کوشش دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ہزاروں بیگناہ پاکستانی شہریوں ‘ فورسز کے جوانوں اوراے پی ایس پشاورکے معصوم شہداء کی توہین ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماءنیئر بخاری نے کہا ہے کہ اس ایشو پر پارلیمان کو بائی پاس ہرگز نہیں کیا جاسکتا‘اس طرح کے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر ملک سے متعلق منفی تاثر جنم لے گا‘سابق وزیرخارجہ حناربانی کھر کہتی ہیں کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کرنے اور ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انھیں معاف کیے جانے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوشش ان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں، سکیورٹی فورسز کے جوان و افسران اور پشاور اے پی ایس اسکول کے درجنوں معصوم بچوں کی توہین ہے۔حکومت کو ایسے فیصلے تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد کرنےچاہئیں نہ کہ بند کمروں میں بیٹھ کر۔ 

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کالعدم تحریک طالبان کو عام معافی دینا بہت بڑا فیصلہ ہے، اس کے لیے پوری قوم خصوصاً شہدا کے لواحقین کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ 

جیونیوزکے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے پر تیار نہیں لیکن طالبان کو معاف کرنے کی بات کررہی ہے۔

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے نہ پہلے مذاکرات غلط تھے نہ اب غلط ہیں‘ دونوں فریقین متفق ہوں تب ہی مذاکرات بامعنی ہوتے ہیں‘ موجودہ حکومت نے اتفاق رائے کیے بغیر تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کی بات کی جس کا ٹی ٹی پی سے تلخ جواب آیا۔ 

عمران خان بتائیں سیاسی ڈائیلاگ پاکستان کے اندر کیوں نہیں ہوسکتا، کیا قوم سانحہ آرمی پبلک اسکول کو بھولنے کیلئے تیار ہے، ٹی ٹی پی آج بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

حکومت مذاکرات کی طرف جائے لیکن یہ پراسس ٹی آر ٹی کو انٹرویو سے نہیں پارلیمنٹ سے شروع ہونی چاہئے، ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے پہلے پاکستان میں اس پر بات ہونی چاہئے۔

تازہ ترین