اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت نے اوگرا کی سفارشات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم اضافہ کیا ہے اس سے حکومت کو دو ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی سب سے سستی ہیں ‘عوام کو مچھلی نہیں دینگے بلکہ اسے پکڑنا سکھائیں گے۔
حکومت نے ساڑھے بارہ ملین نچلے طبقے کو آٹے، چینی، دالوں اور گھی میں براہ راست سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، ایک ہفتہ بعد پورے ملک میں چینی 90 روپے فی کلو فروخت ہوگی۔
وزیراعظم کے حکم پر گندم کی قیمت کم کرکے 1950 کردی گئی ہے جس سے آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1100 روپے میں ملے گا، خوردنی تیل پر سیلز ٹیکس کی شرح میں 44 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے گھی کی قیمتوں میں واضح کمی ہوگی۔
بلا سود سستے قرضے فراہم اور مہنگائی میں کمی کیلئے انتظامی ایکشن لیے جائیں گے، پاور سیکٹر میں ٹیرف میں اضافہ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہوگا اس سے غریب آدمی پر دباؤ بڑھے گا، آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں مہلت مانگی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیوی میں کمی سے عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا اور حکومت کو دو ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔
پیٹرولیم لیوی 2018 میں 30 روپے فی لیٹر تھی جو آج دو ڈھائی روپے ہے، ہم نے پیٹرولیم لیوی کے لیے 600 ارب روپے رکھے ہیں لیکن ہم نے نہیں لگائی کیونکہ وزیراعظم نے لیوی لگانے سے منع کیا ہے خطےمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان 17 ویں نمبر پر ہے۔