• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

TTPسے مذاکرات پر نمبر بنائینگے تو پورا عمل سبوتاژ ہوجائیگا، تجزیہ کار


کراچی ( ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان محمد جنید نے کہا کہ ٹی ٹی پی کیساتھ مذاکرات پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس وقت مذاکرات کیوںاور کس کے لئے کئےجارہے ہیں۔

ماضی میں جب بھی پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیے وہ ناکام ہوئے اور کالعدم جماعت کے حملوں میں اضافہ ہوتا رہا، سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ TTPسے مذاکرات پر نمبر بنائینگے تو پورا عمل سبوتاژ ہوجائیگا۔

نمائندہ جیو نیوز قسیم سعید نے کابل سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کو کسی سیاسی اپوزیشن کا تو سامنا نہیں لیکن عسکری محاذ پر داعش کے خطرے کا سامنا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ ہم گزشتہ پندرہ بیس سال دہائی دیتے رہے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کو الگ نہیں کرسکتے، نیک محمد اور بیت اللہ محسود نے افغان طالبان کیخلاف امریکا کا ساتھ دینے پر پاکستان کیخلاف بندوق اٹھائی۔

اردوبولنے والے ہوں ،بلوچ ہوں یا تحریک طالبان پاکستان ہو ان کے ساتھ بحالی کا راستہ نکالنا چاہئے، حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات خاموشی سے کرے تو بہتر طریقے سے ہوسکتے ہیں، لیکن اگر حکومتی عہدیدار اس سے نمبر بنانا چاہیں گے تو پورا عمل سبوتاژ ہوجائے گا، عمران خان نے انٹرویو میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی بات کر کے تمام پیشرفت کو سبوتاژ کردیا۔

سلیم صافی کا کہنا تھا کہ پچھلے چند مہینوں میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں، افغان طالبان کبھی بھی پاکستانی طالبان کیخلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، پاکستان خاموشی سے مذاکرات کرے تو افغان طالبان سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔ 

نمائندہ جیو نیوز قسیم سعید نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں اب بھی عسکری شدت پسند تنظیم کیخلاف طالبان کی کم شدت کی جنگ جاری ہے۔ 

تازہ ترین