• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیل ملز بندش،سینیٹ میں شور شرابہ، حکومت اور اپوزیشن نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران اسٹیل مل کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج ، شور شرابہ،حکومتی اوراپوزیشن ارکان نے اسٹیل ملزکی تباہی کاملبہ ایکدوسرے پر ڈال دیا، سینیٹر مشتاق کے سوال کےجواب میں وزیر مملکت نے بتایاکہ 30جون تا 31دسمبر 2020تک پاکستان سٹیل ملز کا کل خسارہ اور واجبات 67.1ارب روپے ہیں ۔ جولائی 2020تا دسمبر 2020کے دوران 8.247ارب روپے کے خسارے کی اہم وجہ مرحلہ وار لاگت ، بینک اخراجات اور سرکاری قرضے کا سود ہے ۔ سٹیل ملز کا بھٹہ پیپلزپارٹی کے دور میں بیٹھا ، اور خسارے میں چلی گئی ، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے دور میں سٹیل ملز بند ہوئی ۔ اسی دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ اور احتجاج کرتےہوئے’’ جواب دو، حساب دو ‘‘ کے نعرے شروع کردئے ۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر مملکت کو جواب دینے کی ہدایت کی جس پر علی محمدخان نے کہاکہ آپ بھٹو کو جواب نہیں دے سکتے ان کی بنائی سٹیل مل کا بیڑہ غرق کردیا ہے ۔ حکومتی سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ کس نے سیاسی بھرتیاں کی کس نے اس مل کا بیڑہ غرق کیا۔ وزیر مملکت نے کہاکہ سٹیل مل کی تباہی کا نیک کام پیپلزپارٹی نے شروع کیا جبکہ (ن) لیگ نے انجام تک پہنچایا۔ بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوادیا۔ سینیٹر سیمی ایزدی کےسوال کےجواب وزیر پارلیمانی امور نے بتایاکہ پاکستان کے افریقی ممالک کیساتھ تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے ۔ افریقہ بہت بڑی مارکیٹ ہے جو ادویات ، جراحی ، انجینئرنگ سامان سمیت دیگر کی برآ مدکیلئے موزوں ہے ۔ سینیٹر ولید اقبال کے سوال کےجواب میں بتایاگیاکہ مستقبل میں شرح نمو میں اضافےکیلئے موجودہ حکومت کی برآمدات کے فروغ کیلئے پالیسیاں بنائی گئی ہیں ۔ گزشتہ تین سال کی برآمد اور درآمد کے اعدادوشمار کے مطابق 2018-19تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر، 2019-20کے دوران 22ارب ڈالر جبکہ 2020-21کے دوران 31ارب ڈالر رہاہے۔

تازہ ترین