• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رشوت نہ دی تو بجلی کے بغیر پتھر کے دور میں رہنا ہوگا، پائیڈ کی تحقیق

اسلام آباد (قاسم عباسی)رشوت نہ دی تو بجلی کے بغیر پتھر کے دور میں رہنا ہوگا، پائیڈ کی تحقیق، بجلی کنکشن کی قانونی فیس 18 ہزار سے کم، رشوت کی پیشکش سے لاکھوں روپے تک جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بجلی کے نئے کنکشن کی تنصیب کے حوالے سے PIDE کے ایک تحقیقی مقالے کا کہنا ہے کہ اگر آپ رشوت دینے پر راضی نہیں ہیں تو آپ کو بجلی کے بغیر پتھر کے دور میں رہنا ہوگا۔ قانونی طور پر 18 ہزار سے کم لاگت والی پوری کارروائی تنصیب کو تیز کرنے اور بجلی ایجنسی کے کارکنوں کی تاخیر اور سستی سے بچنے کے لیے رشوت کی پیشکش کے طور پر لاکھوں روپے تک جا سکتی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق ایک پاکستانی کو بجلی کا نیا کنکشن حاصل کرنے میں دو ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور یہ مزید بڑھ سکتا ہے اگر آپ سروے کرنے والوں یا ایجنسی کے ارکان کو رشوت نہیں دے رہے جو مخصوص کام کے لیے تفویض کیے گئے ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے (رشوت کی عدم موجودگی میں) نہایت سست اپلیکیشن پراسیسنگ بدعنوانی کا بڑا ذریعہ ہے۔ 21 ستمبر 2021 کو شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں پر مناسب چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔PIDE ایک خود مختار تحقیقی ادارہ ہے جو وزارت منصوبہ بندی ، ترقی اور اصلاحات کے تحت کام کرتا ہے۔ پائیڈ کی تحقیق نے چھ چیلنجوں کی نشاندہی کی جو ایک پاکستانی کو نئے بجلی کے کنکشن حاصل کرنے میں درپیش ہوتے ہیں۔ چیلنجز میں طویل پراسیسنگ کی کاروائیاں ، ضرورت سے زیادہ دستاویزات کی طلب، پیچیدہ عمل وغیرہ شامل ہیں۔ تحقیق نے اس تھکاوٹ اور تناؤ کی سطح کو بھی ظاہر کیا ہے جو ایک شہری ضرورت سے زیادہ اور بلا جواز بھاگ دوڑ کرتے ہوئے اس طرح کے کاموں کو انجام دیتا ہے۔ پائیڈ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں درخواست دہندگان کو درپیش دفاتر میں غیر ضروری اقدامات کو ختم کرنے کے لیے کچھ تجاویز کی سفارش کی گئی ہے۔ تحقیق میں تجویز کیا گیا کہ شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپی، گواہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپی اور پڑوسی کے بجلی بل کی تصدیق شدہ کاپی،نئے بجلی کنکشن کے لیے یہ تمام ضروریات بے کار ہیں اگر سرکاری محکموں کو نادرا ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوں۔ لہٰذا نادرا کی رسائی گورنمنٹ کے دفاتر کو دی جانی چاہیے۔ ریسرچ میں لائن مین فراڈ کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ہر نئے کنکشن کے ساتھ 40 میٹر تار الاٹ کی جاتی ہے لیکن لائن مین صرف 10 میٹر استعمال کر کے کھمبے پر (درخواست گزاروں کی پراپرٹی دیوار کے بجائے) میٹر لگاتا ہے۔ وہ باقی 30 میٹر تار مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں اور پیسے کماتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں اگر نئے کنکشن میں 2 نئے کھمبے اور 160 میٹر تار لگانے کی ضرورت ہو تو اس کی سرکاری فیس تقریباً 35000 روپے ہے۔ لیکن سروے کرنے والا اس وقت تک درخواست کلیئر نہیں کرے گا جب تک کہ آپ ڈیڑھ تا 2 لاکھ روپے ادا کرنے پر راضی نہ ہوجائیں۔ لہٰذا اگر آپ رشوت دینے پر راضی نہیں ہیں تو آپ کو (بجلی کے بغیر) پتھر کے دور میں رہنا پڑے گا۔دوسری جانب اگر آپ کے قریب 11 کے وی ٹرانسمیشن موجود ہے اور نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب کی ضرورت ہے تو 4 لاکھ روپے کے لگ بھگ رشوت دینا پڑے گی۔

تازہ ترین