• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر شاہ فرمان نے صوابدیدی فنڈز کی رقم واپس کردی

پشاو ر(ارشد عزیز ملک ) گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے ماضی کی روایات سے ہٹ کر قبائلی علاقوں کے لئے اپنے صوابدیدی فنڈز کے 9کروڑ 60لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کرادی ہے گورنر نئے ضم شدہ اضلاع کی مد میں ہرسال صوابدیدی فنڈز کے طور پر ایک بڑی رقم وصول کرتا ہے۔تاہم ، گورنر شاہ فرمان نے انضمام شدہ اضلاع کو صوبے میں ضم کرنے کے بعد فنڈز کا استعمال روک دیا تھا ۔پچھلے تین مالی سالوں کے دوران گورنر ہائوس کے نامزد بینک اکائونٹس میں ضم شدہ اضلاع کے لئے 9کروڑ 60لاکھ روپے کے فنڈز جمع ہوئے ۔صوبائی حکومت نے 2019-20 کے دوران 4کروڑ 48لاکھ روپے جاری کئے جس میں سے 3کروڑ 6لاکھ روپے خرچ ہوئے جبکہ ایک کروڑ 42لاکھ روپے کی بچت ہوئی۔ اسی طرح 2020-21کے دوران گورنر ہائوس کو سابق فاٹا کے اضلاع کے لئے 4کروڑ 48لاکھ روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی تاہم گورنر نے ایک پائی بھی خرچ نہیں 2021-22کے بجٹ میں 4کروڑ 75 ہزار روپے کی رقم مختص کی گئی جس میں سے 3کروڑ 3لاکھ روپے کی رقم گور نر ہائوس کے اکائونٹس کو جاری ہوئی لیکن اس رقم کو استعمال نہیں کیا گیاجبکہ بینک کی جانب سے ایک کروڑ 69لاکھ روپے منافع ملا یوں گورنر ہائوس کے اکائونٹس میں مجموعی طورپر 9کروڑ 60لاکھ روپے کی رقم موجودتھی ۔ سرکاری خط کے مطابق گورنر نے ہدایت کی ہے کہ سابق فاٹا کے علاقوں کے نامزد اکاؤنٹس میں دستیاب فنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں۔ بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق پر 9کروڑ 60لاکھ روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائےگی ۔جنگ کے رابطہ کرنے پر گورنر شاہ فرمان نے کہا کہ فاٹا انضمام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور اب خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان فنڈز کو انضمام شدہ اضلاع کے لوگوں کی ترقی کے لیے استعمال کرے۔

تازہ ترین