• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسکراہٹ، ہنسہی اور قہقہوں کا طویل سفر تمام ہوا

یہ اُس وقت کی بات ہے، جب اداکار عمر شریف کو وزیر ثقافت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سن کر بہت خوشی ہوئی، میں نے عمر کو فون پر مبارک باد دینا چاہی تو فون کسی اور نے ریسیو کیا اور بتایا کہ وہ اسٹیج پر پرفارم کررہے ہیں اور مجھے ان کی آوازیں فون پر بھی سنائی دے رہی تھیں۔ فون ریسیو کرنے والے کو میں نے کہا کہ عمر کو میری طرف سے مبارک باد کہہ دینا۔ بعد ازاں عمر کا فون آیا، وہ میرا شکریہ ادا کررہے تھے، میری بہت دیر تک اُن سے بات ہوتی رہی اور پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اور میں آرام کرنے چلا گیا، کیوں کہ دوسرے دن مجھے ریکارڈنگ پر جانا تھا، دوسرے روز ذرا جلدی اٹھ گیا، کیوں کہ سو بھی جلدی گیا تھا، جیسے ہی میں نے اپنا موبائل فون آن کیا۔ 

دوسری طرف عمر شریف تھے، وہ مجھے دوپہر کی دعوت دے رہے تھے کہ معین بھائی! آج میرا بہ حیثیت مشیر سندھ حکومت دفتر میں پہلا دن ہے، میں نے کچھ دوستوں اور صحافیوں کودعوت دی ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس میں ضرور شریک ہوں۔ میں نے بہت معذرت چاہی ، کیوں کہ جو وقت وہ مجھے بتارہے تھے، اس وقت مجھے ریکارڈنگ کے لیے جانا تھا، لیکن عمر کا اصرار تھا کہ معین بھائی! آپ بس تھوڑی دیر کے لیے آجائیں، پھر چلے جائیے گا۔ عمر کے سامنے میں مجبور ہوگیا، کیوں کہ عمر نے ایک ایسی بات کردی تھی کہ انکار ممکن نہیں تھا۔ 

جیو کے مقبول’’دی شریف شو‘‘ میں ماضی کی معروف اداکارہ بابرہ شریف سے گفتگو کرتے ہوئے
جیو کے مقبول’’دی شریف شو‘‘ میں ماضی کی معروف اداکارہ بابرہ شریف سے گفتگو کرتے ہوئے

عمر کہنے لگے معین بھائی! مجھے آپ کے آنے سے سب سے زیادہ خوشی ہوگی، کیوں کہ آپ میرے بڑے ہیں۔ تو میں نے کہا اچھا تقریر کی ضرورت نہیں ہے، میں آجائوں گا، لیکن زیادہ دیر رُک نہیں پاؤں گا۔ اس وعدے پر کہ مجھے وہ جلدی فارغ کردیں گے، میں نے عمر شریف کو گلے لگا کر ڈھیر ساری مبارک بادیں دیں، کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں، کافی آرٹسٹ عمر شریف کو مبارک باد دینے کے لیے موجود تھے، جن میں طلعت حسین، انور سولنگی، قیصر نظامانی، زیبا شہناز، صلاح دین تنیو، منظور مراد اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر مجھے بولنے کے لیے کہا گیا۔ 

میں نے سب سے پہلے عمر کو مبارک باد دی اور کہا کہ جب یہ اسٹیج پر بولتے ہیں، تو کسی کی سُنتے نہیں ہیں، لیکن اب ان کو بولنا کم اور سُننا زیادہ پڑے گا اور پھر طلعت حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آخر میں مَیں نے ایک بات کہی کہ کسی بھی آرٹسٹ کے لیے کوئی کام کیا جائے یا اس کی مدد کی جائے تو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پائے، ورنہ سارا کیا دھرا بیکار ہوجاتا ہے۔ عمر شریف نے اس مرتبے کو قبول کرلیا ہے، لیکن اس طرح ان کی ذمے داریاں ایک فن کار کی حیثیت سے اور بڑھ جائیں گی۔ یہ کام ناممکن تو نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے، ماضی میں مجھے بھی کئی حکومتوں کی طرف سے سرکاری منصب کی پیش کش کی گئی، لیکن میں نے ہمیشہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ معذرت کرلی۔ 

میں فن کاروں کی سیاسی وابستگی کے خلاف نہیں تو حامی بھی نہیں ہوں، کیوں کہ ہمارے ملک میں سیاسی اتار چڑھائو بڑی تیزی سے رونما ہوتے ہیں۔ ہر آنے والا جانے والے پر الزاموں کی بارش کردیتا ہے۔ جو قطعاً ایک اچھی بات نہیں ہے۔ اگر جانے والے نے کوئی اچھا کام کیا ہے ، تو اسے سراہنا بہت ضروری ہے۔ جس دن ہم یہ سیکھ گئے، ہماری منزل بہت آسان ہوجائے گی۔ اب عمر شریف نے اپنے ذمے یہ اہم کام لے لیا ہے، تو میری دعا ہے کہ وہ اس کو خیر اور خوبی سے انجام دیں۔ شاید اداکار محمد علی کے بعد عمر شریف دوسری مثال ہیں۔، جن کو کوئی سرکاری ذمے داری دی گئی ہے، کچھ لوگوں کو اس پر اعتراض بھی ہوا ہوگا، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک عام آدمی کے بہ جائے ایک فن کار اس طرح کی ذمے داری زیادہ احسن طریقے سے ادا کرسکتا ہے، کیوں کہ فن کار عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ 

عمر شریف بہرحال ایک ذہین فن کار ہیں اور یقینا وہ اس شعبے میں بھی اپنی پوری ذہانت کے ساتھ کام کریں گے، لیکن عمر کو اب اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈھالنا ہوگا، اُن کو اپنی بہت سی عادتوں کوبدلنا ہوگا۔ انہیں اپنی زندگی میں سنجیدہ بھی ہونا پڑے گا، جو ان کے لیے بہت مشکل ہے، لیکن جو باتیں انہوں نے مجھ سے کی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو اس کام کی سنجیدگی کا احساس ہوگیا ہے اور یہی احساس ان کو کام یابی دلائے گا۔ یہ سب کچھ لکھتے ہوئے میں ذرا ماضی میں بھی جھانکنا چاہتا ہوں۔ 

مجھے یاد ہے ناظم آباد میں میرے گھر فرقان حیدر ایک نوجوان کو لے کر آئے، جس کے ماتھے پر نماز کا واضح نشان تھا اور چہرے پر بڑا نور تھا، اس نوجوان لڑکے سے میرا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ اس نوجوان کا نام عمر شریف ہے اور یہ بہت اچھا آرٹسٹ ہے۔ میں نے اس نوجوان کی باتوں کے انداز میں ایک جوان منور ظریف کو دیکھ لیا۔ میں نے اس سے نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو کہنے لگے جی میں پانچوں وقت کی نماز ادا کرتا ہوں اور اعتکاف میں بھی بیٹھتا ہوں۔ میرا دل خوش ہوگیا، میں نے کہا فرقان حیدر اسے اپنی ٹیم میں شامل کرلو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ڈراما لکھتے بھی ہیں۔ ان ہی دنوں ہم ایک کھیل کرنا چاہتے تھے، جس کا نام تھا "Bionic Servant"۔ پہلا کھیل ہم نے کنور خورشید سے لکھوایا، جس کا نام وہاں موجود ایک لڑکے نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ اس ڈرامے کا نام رکھ دیں ’’بچاؤ معین اختر‘‘۔ لوگوں کو نام بہت اچھا لگا اور حد تو یہ تھی کہ تین دن کی بکنگ دو دن میں مکمل ہوگئی تھی اور یُوں ہمارے حوصلے بلند ہوگئے۔

خیر عمر شریف میرے سامنے بیٹھے تھے اور فرقان حیدر ان کے فن اور صلاحیتوں کے بارے میں بتارہے تھے۔ میں نے عمر سے کہا ہم Bionic Servant کے نام سے ڈراما کرنا چاہتے ہیں کہ ایک Robot ہے جو نوکروں کا کام کرتا ہے۔ تھیم بالکل نئی تھی، اس لیے اس پر کام بھی بہت ہورہا تھا، میرا لیزر کا ایک ایسا لباس تیار کیا گیا، جس میں بے شمار Lights لگی ہوئی تھیں۔ اس میں بٹن لگے ہوئے تھے اور یہ Robot بٹن دبانے سے احکامات بجا لاتا تھا۔ عمر شریف کو سنائی گئی اور اس نوجوان نے ایک ہفتے کے اندر ہمیں اسکرپٹ لا کر دیا، میں بہت خوش ہوا کیوں کہ عمر نے لکھا بہت اچھا تھا۔ یہی تھیم اور کردار ہم نے کنور خورشید کو بھی بتائے تھے، کیوں کہ انہوں نے میرا پہلا سپرہٹ کھیل ’’بچائو معین اختر‘‘ تحریر کیا تھا۔ 

اب بڑی دل چسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی کہ انٹرویل تک خورشید نے اچھا لکھا تھا اور انٹرویل کے بعد کا حصہ عمر نے اچھا لکھا تھا، پھر ہم نے ایک تجربہ کیا کہ دونوں کے حصے شامل کر لیے۔ انٹرویل تک خورشید کا کھیل اور اس کے بعد عمر کا لکھا ہوا۔ کنور خورشید بہت ناراض ہوئے کہنے لگے یہ نہیں ہوگا، بہرحال چوں کہ خورشید سے دوستی ہوگئی تھی، اس لیے اسے سمجھا بجھا کر راضی کرلیا۔ اب ہم نے اس کی ریہرسل شروع کی۔ نرالا، شہزاد رضا، زیبا شہناز، خالد نظامی اور اس میں ایک چھوٹا سا رول تھا، اس ایک چھوٹی سی انٹری نے عمر شریف پر کمرشل ڈرامے کے دروازے کھول دیے تھے۔ وہ ڈراما بھی بہت کام یاب ہوا، پھر ایک نیا آئیڈیا آیا، جس کا نام رکھا گیا ’’بہروپیا معین اختر‘‘ اسے عمر شریف نے لکھا تھا۔ 

اس میں ایک رول قوال کا تھا، جسے میں نے عمر شریف سے کرنے کے لیے کہا۔ جب کہ عمر شریف بھی وہی رول کرنا چاہتے تھے، جب ریہرسل شروع ہوئی تو سب اپنا اپنا رول بنارہے تھے اور میں فرقان حیدر کے ساتھ بیٹھ کر خود بھی سب کو بتا رہا تھا، کیوں کہ ڈائریکشن کا شوق مجھے بھی بہت ہے۔ عمر اپنے قوال کے رول میں غلام فرید صابری کا انداز پیش کررہے تھے، جو مجھے کمزورلگا، میں عمر شریف کو الگ لے گیا اور میں نے کہا عمر مزہ نہیں آرہا۔ کیا تم عزیزمیاں کی نقل کرسکتے ہو؟ 

کہنے لگے معین بھائی! کوشش کرتا ہوں۔ پھر عمر نے کیا اورسب کو بہت اچھا لگا۔ میں نے اعلان کردیا کہ عمر بس یہ فائنل ہے۔ اور پھر اس ڈرامے نے عمر شریف کو عمر شریف بنادیا۔ ہر انسان کی کام یابی کی وجہ کوئی نہ کوئی ضرور بنتی ہے اور جس کے نصیب میں شہرت لکھ دی جائے، اسے مشہور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن عمر شریف اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے ان کو بھرپور موقع دیا، جو دوسرے آرٹسٹ ذرا کم ہی دیتے ہیں اور خاص کر اگر ایک ہی شعبے سے ہوں تو یہ بات تو ناممکن ہے اور پھر عمر شریف کو اس بات کی گواہی دینی چاہیے کہ جب میرے نام سے شو ہاؤس فل ہوجایا کرتا، وہاں ایک نئے لڑکے عمر شریف کو ڈرامے کے آخر میں تعارف کرواتے ہوئے میں کہتا تھا کہ خواتین و حضرات اگر معین اختر کو مستقبل میں کسی سے خطرہ ہوسکتا ہے، تو یہ وہ نوجوان عمر شریف ہے۔ 

اب اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میرے ایسا کہنے سے اس کو شہرت ملی۔ دراصل اس کو شہرت اپنی صلاحیت کی وجہ سے ملی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اداکار محمد علی کے بڑے بھیا ارشاد علی بھائی اور طاہر بھائی میرے پاس ایک اسکرپٹ لے کر آئے، جس کا نام تھا ’’اب بول‘‘ میں نے ڈراما کرنے سے معذرت کرلی، کیوں کہ میرا اور فرقان حیدر کا ایک زبانی معاہدہ تھا کہ میں سوائے اپنی پروڈکشن یعنی "Fun Rama" کے سِوا کسی اور کا کھیل نہیں کروں گا اور جب میں زبان دے دیتا ہوں، تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کی پاس داری کروں۔ میں نے ارشاد بھائی اور طاہر بھائی سے کہا کہ آپ اس ڈرامے میں ٹائٹل رول عمر شریف سے کروالیں۔ 

اب لوگ اسے جانتے ہیں اور ڈرامے کا نام رکھ دیں ’’اب بول عمر شریف‘‘ وہ مان تو گئے، لیکن چلتے چلتے وہ ایک جملہ کہہ گئے جو مجھے نہیں بھولتا کہ معین! تو اپنا مخالف خود پیدا کررہا ہے۔ میں نے جواب دیا، میں نہ تو کسی کی تقدیر بناسکتا ہوں، نہ بگاڑ سکتا ہوں، اس کے نصیب میں اگر ترقی ہے، تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر وہ ڈراما ہوا ’’اب بول عمر شریف‘‘ وہ بہت زیادہ کام یاب نہیں ہوا ، لیکن لوگوں نے دیکھا اور اس ڈرامے کے آخری شو میں طاہر بھائی نے محمد علی بھائی اور زیبا بھابھی کو بھی شاید بلایا تھا، اگر میں بھول نہیں رہا، تو بہرحال عمر شریف کی کام یابی کا سفر شروع ہوگیا تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کا اضافہ ہورہا تھا۔

’’بہروپیہ معین اختر‘‘ کی انتہائی کام یابی کے بعد ایک اور بہت کام یاب ڈراما ہم نے اکٹھے کیا، جس کا نام تھا ’’ٹارزن معین اختر‘‘ وہ بھی بہت سپر ہٹ ہوا، پھر آتا ہے، وہ ڈراما، جس نے پُوری دُنیا میں ڈرامے کو تبدیل کردیا، اس کا نام تھا ’’بکرا قسطوں پر‘‘ اس میں مَیں کام نہیں کررہا تھا، لیکن ڈرامے کے آخری دنوں میں عمر اور فرقان کے اصرار پر میں بھی اس میں شامل ہوگیا۔ اس ڈرامے میں عمر شریف اپنی فنی بلندیوں پر نظر آئے اور وہ ڈراما پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی بہت مشہور ہوا۔ اس کا کریڈٹ یقینا عمر شریف کو ہی جاتا ہے کہ انہوں نے اس ڈرامے میں پورا لوڈ خود پر لے کر کام کیا تھا اور خُوب کیا تھا۔ 

پھر عمر اور میں نے جو کھیل اس کے بعد کیا، وہ ہمارا ایک ساتھ آخری کھیل تھا، جس کا نام ’’بڈھا گھر پہ ہے‘‘ اس کے بعد ہم نے اسٹیج پر ایک ساتھ کام نہیں کیا۔ اسی دوران کچھ پروڈیوسروں نے لاہور سے مسرت شاہین کو ڈراما کرنے بُلایا، جس میں ان کے چار رقص تھے، میں نے بہت مخالفت کی کہ بڑی مشکل سے میں نے اسٹیج ڈرامے کو انڈسٹری بنایا ہے ، یہ سب کچھ برباد ہوجائے گا، لیکن اس وقت پروڈیوسروں کی ترجیح صرف پیسہ تھی اور پھر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا، عمر شریف اور مجھے نیچا دکھانے کے لیے وہ سب کچھ اسٹیج پر ،جس نے ان فیملیز کو جن کو ہم نے بڑی مشکلوں سے جمع کیا تھا، انہیں بھگادیا گیا اور پھر میرا ڈرامے سے جی اچاٹ ہوگیا۔ 

میرا کہنا یہ تھا کہ بیشک کم ہنسائو، لیکن اچھی باتوں پر۔ لیکن پھر وہ سب کچھ ہوا، جس کی کوئی توقع نہیں کرسکتا تھا۔ عمر شریف اس ماحول میں کام کرنے پر مجبور تھے، کیوں کہ میرے ڈرامے چھوڑ جانے کے بعد عمر شریف کے سِوا کوئی تیسرا نام ایسا نہیں تھا، جس پر ڈراما چلتا۔ ایک آخری کوشش مجھے اور عمر کو ساتھ کام کروانے کی ہدایت کار جاوید فاضل نے فلم ’’دشمنوں کے دشمن‘‘ میں کی، اس فلم کے رائٹر بھی عمر شریف ہی تھے۔ بعد ازاں عمر شریف نے ایک فلم بنائی ’’مسٹر چار سو بیس‘‘ بس اس فلم نے عمر شریف کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ اس کی فلم سال کی بہترین فلم قرار پائی اور پھر لاہور میں ان کو بہترین ایکٹر کا ایوارڈ، بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ، بہترین کہانی کا ایوارڈ اور بہترین فلم کے چار ایوارڈز انائونس ہوئے۔

لاہور میں نگار ایوارڈ کی تقریب تھی اور میں اس کا میزبان تھا۔ تقریب کے کچھ دنوں بعد مجھے حیرت کی انتہا نہ رہی، جب میرے ملازم نے آکر بتایا کہ صاحب! عمر شریف صاحب ملنے آئے ہیں۔ میرا ماتھا ٹھنکا اب یہ کوئی نئی کہانی شروع ہونے والی ہے۔ لیکن عمر آکر مجھ سے لپٹ گئے اور جذبات میں آکر میرے پیر بھی چھونے لگے ان کے یہ سب کچھ کرنے سے مجھے بہت خلوص نظر آیا میں نے اسے اٹھا کے گلے لگایا۔ میں نے کہا بے وقوف آدمی! اگر میرے دل میں کوئی کدورت ہوتی تو میں تم کو اتنا آگے آنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔

بہرحال پھر عمر نے بتانا شروع کیا کہ کس نے کیا کہا اور کس نے کہا۔ لیکن عمر کی بات میں مان گیا اور میں نے عمر سے کہا تم جانتے ہو، میں نے تمہارے بارے میں کبھی کسی سے کوئی بات نہیں ہی نہیں کی، میں ایسے مزاج کا آدمی ہی نہیں ہوں۔ پھر ہم دونوں وہی پرانے والے معین اختر اور عمر شریف ہوگئے۔ ساتھ مل کر شرارتیں کرنا، کسی ایک کو ٹارگٹ بنا کر اس کی مصیبت کردینا۔ لیکن اب عمر شریف میں کافی تبدیلیاں آگئی ہیں سب سے بڑی بات تو یہ ہوئی ہے کہ اب اُن کو اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان ہوگئی ہے۔ 

عمر سے مجھے بہت محبت ہے، کیوں کہ عمر شریف میرے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا ہے، جو اب ایک درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے اور شاید اس کی شہرت بھی مجھ سے زیادہ ہے۔ لیکن وہ کبھی معین اختر نہیں بن سکتا اور نہ میں کبھی عمر شریف بن سکتا ہوں۔ تو ہم جو ہیں ہمیں وہی رہنا چاہیے، جب عمر کے دل کے آپریشن کی خبر مجھے ملی، تو میں نے اپنی بھابھی یعنی عمر کی بیگم کو لاہور فون کیا اور ٹھیک ٹھاک بات کرتے کرتے نہ جانے میں کیوں پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑا اور کہا، اس سے کہنا کہ انسان کا بچہ بن جا اور جلدی ٹھیک ہوجا، ہم سب کو تیری بڑی ضرورت ہے۔ 

پھر میں اس کو دیکھنے لاہور اس کے گھر گیا اور اسے اچھی حالت میں دیکھ کر دل کو بہت اطمینان ہوا۔ ہمارے درمیان اب کوئی غلط فہمی نہیں ہے، وہ مجھے اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھتا ہے اور جب بہت پیار میں آتا ہے تو یہ تک کہہ دیتا ہے کہ یہ میرے باپ کی جگہ ہیں۔ بس عمر میری تم سے یہی گزارش ہے کہ زندگی ایسی ہی رکھنا، کبھی محسنوں کو بھولنا مت، پرانے دوستوں سے نظریں مت چُرانا اور اپنے ماضی پر کبھی پچھتانا مت۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اِک ذمے داری دی ہے، اب وقت آیا ہے کہ تم اپنے بڑے پن کا ثبوت دو کہ جو لوگ باصلاحیت ہیں، مگر تمہیں اگر پسند نہیں ہیں، تو تم شروع وہاں سے کرو، سب سے پہلے اُن کو اپنے ساتھ شامل کرو، پھر دیکھو وہ تمہاری کتنی عزت کرتے ہیں، ہاں اگر تم واقعی مجھے اپنا رہبر سمجھتے ہو توکسی مشورے اور کسی اپنے کام میں تم مجھے پیچھے نہیں پائو گے۔ 

اب پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، اب تمہیں صرف آگے کی جانب دیکھنا ہے اور اپنے جیسے کئی عمر شریف اور کئی معین اختر کو تلاش کرنا ہے، جو شو بزنس کی سیاست سے تنگ آکر نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں۔ اب یہ کام ایک ثقافتی مشیر کا ہے کہ وہ آسمان کے تارے کیسے توڑ کر لاتا ہے۔ میری دِلی دُعا ہے کہ اس عمر شریف کے لیے جو بہت سال پہلے میرے گھر کسی کے ساتھ آیا تھا، تب اُس کے ماتھے پر نماز کا نشان تھا، سب کچھ تو تمہیں مل گیا۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ عمر تم نے میری بہت باتیں مانی، سدا خوش رہو۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔

عمر شریف ایک نظر میں

عالمی شہرت یافتہ کامیڈی کنگ نے 19 اپریل 1955ء کو زندگی کی پہلی سانس پاکستان کے جاگتے شہر کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں لی ،جب کہ 2 اکتوبر 2021 ء کو آخری سانس جرمنی کے نیو رمبرگ اسپتال میں لی ۔1974ء میں عمر شریف نے کیر ئیر کا آغاز ایک اسٹیج ڈرامے سے کیا ۔اُس وقت عمر کی عمر 14 سال تھی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے کامیڈی کی دنیا کے کنگ بن گئے۔انہوں نے کامیڈی کا جومنفرد ٹرینڈ متعارف کرایا اُس میں عوامی لہجہ، انداز اور روزمرہ کے واقعات کا مزاحیہ تجزیہ شامل تھا۔ 

عمر شریف کو تھیٹر اور اسٹیج ڈرامے کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے، انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی اپنے فن کامظاہرہ کیا لیکن ان کی مقبولیت کی بڑی وجہ مزاحیہ اسٹیج ڈرامے ہیں۔ عمر شریف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ہندوستان اور جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں ان کے مداح موجود ہیں۔عمر شریف نے میزبانی شروع کی تو وہاں بھی کامیابی کے جھنڈے بلند کیے، جیو انٹرٹینمنٹ پر نشر ہونے والا عمر کا ’’ شریف شو‘‘، تاریخ کا مقبول پروگرام ثابت ہوا۔’’بکرا قسطوں پے اور بڈھا گھر پے ہے‘‘ جیسے لازوال اسٹیج ڈراموں کو ان کے مداح آج بھی دیکھتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

عمر شریف کی خدمات کے عوض انہیں نگار ایوارڈ اور تمغہ امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ پہلے اداکار ہیں ،جس نے 10 نگار ایوارڈزوصول کیے ،نیز ایک سال میں 4 نگار ایوارڈز وصول کرنے کا اعزاز بھی عمر شریف کے حصے میں آیا ۔اپنے شانداز کیرئیر کی مشہور فلم ’’مسٹر 420 ‘‘کی ہدایت بھی دیں اور اداکاری بھی کی ،جس پر انہیں بیسٹ ڈائریکٹر اور بیسٹ اداکار کا ایوارڈ بھی ملا ۔ حقیقت یہ ہےکہ عمر شریف کامیڈی کا وہ سورج ہے جو کبھی غروب نہیں ہوسکتا۔

میرے لیے مستقبل میں خطرہ عمر شریف

 عمر شریف کو ڈرامے کے آخر میں تعارف کرواتے ہوئے میں کہتا تھا کہ خواتین و حضرات اگر معین اختر کو مستقبل میں کسی سے خطرہ ہوسکتا ہے، تو وہ نوجوان عمر شریف ہے۔’’بہروپیہ معین اختر‘‘ کی انتہائی کام یابی کے بعد ایک اور بہت کام یاب ڈراما ہم نے اکٹھے کیا، جس کا نام تھا ’’ٹارزن معین اختر‘‘ وہ بھی بہت سپر ہٹ ہوا۔ 

پھر آتا ہے، وہ ڈراما، جس نے پُوری دُنیا میں ڈرامے کو تبدیل کردیا، اس کا نام تھا ’’بکرا قسطوں پر‘‘ اس میں مَیں کام نہیں کررہا تھا، لیکن ڈرامے کے آخری دنوں میں عمر اور فرقان کے اصرار پر میں بھی اس میں شامل ہوگیا۔ اس ڈرامے میں عمر شریف اپنی فنی بلندیوں پر نظر آئے اور وہ ڈراما پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی بہت مشہور ہوا۔ عمر شریف کے دل کا آپریشن کا سُن کر معین اختر پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔