• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا بَھر میں ہر سال عالمی ادارۂ صحت اور عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت (World Food and Agriculture Organization) کے زیرِ اہتمام 16اکتوبر کو’’عالمی یومِ خوراک‘‘منایا جاتا ہے۔ اِمسال یہ یوم منانے کے لیے جس تھیم کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ،Our Actions Are Our Future"" ہے۔ یعنی ہمارا طرزِ عمل ہی ہمارا مستقبل ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 2050ء تک پوری دُنیا کی آبادی دس ارب تک پہنچ جائےگی،جب کہ فی الوقت دُنیا بَھر کی آبادی 6 ارب نفوس پر مشتمل ہے،جن میںسے 700 ملین افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان حالات میں اگر زرعی اور غذائی نظام مربوط بنیادوں پر قائم نہ کیا گیا، تو خدشہ ہے کہ 2050ء تک بھوک اور غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد بڑھ کر دو ارب تک جا پہنچے گی۔

زرعی غذائی نظام درحقیقت ایک ایسا طویل غذائی سفر ہے، جو کھیت سے شروع ہو کر دسترخوان پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ غذا ئی حصول کے اس سفر میں فصل کی تیاری، کٹائی، پراسیسنگ، پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور خریدوفروخت کے مراحل شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی ادارۂ برائے خوراک و زراعت کی جانب سے جاری کردہ تھیم میں غذا کے حصول میں چار بہترین عوامل کی نشان دہی شامل ہے۔ یعنی بہترین پیداوار، غذائیت، ماحول اور زندگی۔

٭بہترین پیداوار سے مُراد ہے کہ غذائی ضروریات کے مطابق زرعی ترقّی کے ذریعے بہتر غذا کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ ترقّی پذیر مُمالک کی اکثریت زرعی نظام سے منسلک ہونے کے باوجود خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ زرعی اجناس کی زائد پیداوار کے لیے فصلوں کی بہترسے بہترکاشت ضروری ہے،جس کے لیے چھوٹے کسانوں کو معقول معاوضے کے ساتھ جدید تربیت دینا ناگزیر ہے۔ 

ایک اندازے کے مطابق دُنیا بَھر میں 14فی صد غذا صرف غلط کٹائی، درست طریقے سے ذخیرہ نہ کرنے اورآمد و رفت کے مناسب ذرائع استعمال نہ کرنے کے سبب خراب ہوجاتی ہے، جب کہ 16فی صد غذا خرید و فروخت ، پراسیسنگ کے مراحل ،ریستوران، ہوٹلز اور گھروں میں ضایع ہوجاتی ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ 30فی صدنباتات سے حاصل شدہ غذا بنا کسی فائدے کے کچرے کی نذر ہوجاتی ہے۔

٭بہترین غذائیت سے مُراد بھوک کا خاتمہ، غذائی قلّت سے بچائو اور صحت بخش غذا کا حصول ہے۔ ہمارے آس پاس ایسے کئی افراد بستے ہیں، جنہیں پیٹ بَھر کر کھانا تو مل جاتا ہے، مگر خوراک میں ضروری مائکرو نیوٹریئنٹس (Micro Nutrients)نہ ہونے کے سبب وہ غذائیت کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔مائکرونیوٹرینٹ سے مُراد نمکیات اور وٹامنز ہیں۔مثال کے طور پر اگرروزمرّہ کی خوراک میں آئرن، زنک اور وٹامنز وغیرہ شامل نہ ہوںتو اس کے براہِ راست اثرات ذہنی و جسمانی نشوونما، مختلف جسمانی اعضاء کی کارکردگی اور میٹابولک نظام پر مرتّب ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے غذا کے حصول کے ضمن میں یہ اقدام سب سے اہم ہے کہ ہر ایک کو مناسب قیمت پر متوازن غذا میسّر آئے۔ 

اصل میں جسمانی توانائی بحال رکھنے میں وہی غذا بطور ایندھن کام آتی ہے، جو روزانہ استعمال کی جائے۔ اگر روزانہ کی غذا ناقص ہوگی، تو ظاہر سی بات ہے کہ جسم غذائیت کی کمی کا شکار ہوتا چلا جائے گا۔ اور اگر متوازن غذا استعمال کی جائے، تو جسم توانا و صحت مند رہےگا۔ موجودہ دَور میں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ عوام الّناس کو بتایا جائے کہ ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے متوازن غذا کس قدر ضروری ہے۔

٭بہترین ماحول میں غذا کا حصول اس امر کی جانب نشان دہی کررہا ہے کہ ہمیں نہ صرف ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانا ہے، بلکہ صاف ستھرے ماحول کی بحالی کے ساتھ زمینی اور آبی ماحول میں شامل کیے جانے والے صنعتی زہریلے فاسد مادّوں کو شامل ہونے سے روکنا ہے،کیوں کہ اگر صنعتی فضلے کی آمیزش والا پانی پھلوں، سبزیوں اور دیگر اجناس کی کاشت میں استعمال ہوگا تو اس کے مضر اثرات انسانی جسم پر بھی مرتّب ہوں گے۔

٭بہتر زندگی گزارنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے، جو معاشی ترقّی اور معاشرے میں موجود طبقاتی فرق کے خاتمےہی کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ طبقاتی فرق صرف علاقائی حد تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ جیسے شہری و دیہی علاقے، امیر غریب،ترقّی یافتہ، ترقّی پذیر مُمالک، عورت و مَرد کی تفریق وغیرہ۔

جدید ترقّی نے انسانی زندگی پرخاصے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ جیسے غذائیں محفوظ کرنے کے لیے مختلف تیکنیکس متعارف کروائی گئیں،جن کی بدولت طویل عرصے تک کھانےمحفوظ رکھنا سہل ہوا، لیکن ساتھ ہی ان کھانوں میں استعمال کیے جانے والےکیمیکلز(preservative)جو غذا کومحفوظ بناتے ہیں، انسانی صحت کے لیے مضر تصوّر کیے جاتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ preservative کو ایک مقررہ مدّت تک استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ طویل عرصے تک محفوظ شدہ غذائیں بھی ایک مقررہ میعاد ہی تک استعمال کی جاتی ہیں اور ان کی میعاد کو واضح کرنے کے لیے جو طریقہ اپنایا جاتا ہے، اس میں غذا اور اس کی پیکنگ دونوں ہی کو مدِّنظر رکھا جاتاہے۔

ان میں سے جس کی میعاد پہلے ختم ہوگی، وہی اس پراڈکٹ کی تاریخِ تنسیخ تصوّر کی جائے گی۔ مثلاً نمک کی اپنی کوئی میعاد نہیں، لیکن جس پیکنگ میں اسےرکھا گیاہے، اس کے استعمال کی مدّت ایک سال ہو، تو وہی ختم المیعاد تصوّر کی جائے گی۔ منرل واٹر کی بوتل عموماً ایک سال کی میعاد کے ساتھ مارکیٹ میں آتی ہے اور اس کے ریپر پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ اس بوتل کو دوبارہ استعمال نہ کریں۔ اس کی وجہ پلاسٹک میں موجود وہ کیمیکلز ہیں، جو میعاد ختم ہونے کے بعد بتدریج پانی میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اگر یہ کیمیکلز طویل عرصے تک استعمال کیے جائیں، تو سرطان لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

متوازن غذا کا استعمال نہ صرف غذائیت کی کمی سے بچاتا ہے، بلکہ غیر متعدّی امراض (Non Communicable Diseases)خصوصاً ذیابطیس، دِل اور اس سے ملحقہ عوارض، فالج اور سرطان سے بھی تحفّظ فراہم کرتا ہے۔ دَورِ حاضر میں عالمی سطح پر صحتِ عامّہ کا سب سے بڑا مسئلہ غیر متوازن غذا کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی ہے۔ عمومی طور پر ایک فرد کو پورے دِن میں تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کیلوریز کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن ان کیلوریز کو مختلف جسمانی سرگرمیوں میں استعمال کرنا ازحد ضروری ہے، تاکہ جسم موٹاپے کا شکار نہ ہو۔ 

دِن بَھر میں استعمال کی جانے والی غذا کے متعلق جو قواعد مرتّب کیے گئے ہیں، اُن کے مطابق کُل حاصل شدہ توانائی کا 30 فی صد سے زائد حصّہ تیل یا چربی پر مشتمل نہ ہو، جب کہ سیر شدہ چربی کی مقدار دس فی صد سے زائد نہ ہو۔ اس کے ساتھ سیر شدہ چربی میں ٹرانس فیٹ (Transfat)کی مقدار ایک فی صد سے زائد شامل نہ کی گئی ہو۔ 

عالمی ادارۂ صحت کی گائیڈ لائن کے مطابق صنعتی طور پر تیار شدہ گھی میں ٹرانس فیٹ کی مقدار مکمل طور پر ختم کرنا بے حد ضروری ہے، لیکن اس وقت پاکستانی قوانین میں ٹرانس فیٹ کی مقدار پانچ فی صد تک رکھی گئی ہے، جو کہ بہت زیادہ ہے۔واضح رہے، ٹرانس فیٹ کا استعمال براہِ راست امراضِ قلب کا سبب بنتا ہے۔

ہمارے روزمرّہ کھانوں میں مٹھاس کے لیے چینی کا استعمال کیا جاتا ہے۔اگر دِن بَھر میں چینی کے استعمال کا اندازہ لگایا جائے، تو یہ پورے دِن میں حاصل کی جانے والی توانائی کے ایک بڑے حصّے پر مشتمل ہے۔ جب کہ عالمی ادارۂ صحت کی گائیڈ لائن کے مطابق خالص چینی سے حاصل شدہ توانائی اگر دس فی صد سے زائد ہو، تو صحت کے لیے سنگین خطرے کاسبب بن سکتی ہے۔ ایک عام فرد کے لیے یہ مقدار دِن بَھر میں تقریباً 60 گرام بنتی ہے۔ عام طور پر ہم جوچینی سے تیار پراڈکٹس استعمال کرتے ہیں، ان میں کولڈا ڈرنکس، شربت، مختلف اقسام کے ڈبّوں کے جوسز، مٹھائیاں، کیکس، چاکلیٹس، ٹافیاں وغیرہ شامل ہیں۔ کولڈڈرنک کی 600ایم ایل کی ایک بوتل میں دس فی صد یعنی 60گرام چینی استعمال کی جاتی ہے۔

پھر عام طور پر دِن میں تین وقت کی چائے میں تقریباً 15گرام چینی استعمال ہوتی ہے۔ اگر ایک کے بجائے دو چائے کےچمچ استعمال کیے جائیں تو یہ تعداد دگنی ہوجائے گی۔ یاد رہے،چینی کا زائد استعمال نہ صرف ذیابطیس کے خطرے کو جنم دیتا ہے، بلکہ جسم کے دیگر اعضاء کے افعال بھی شدید متاثر کردیتا ہے۔اسی طرح روزانہ 5 گرام سے زائد نمک کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ واضح رہے، سمندری اسنیکس، جنک فوڈز اور انواع و اقسام کے کھانوں میں ذائقے کے لیے نمک کا زائد استعمال کیا جاتا ہے، جو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسی غذائیں، جن میں زیادہ سوڈیم پایا جائے، صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ زیادہ سوڈیم والی غذاؤں سے مُراد جن میں 12گرام سے زائد نمک اور ساڑھے تین گرام سے کم پوٹاشیم شامل ہو۔ ایسی غذائیں جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن بگاڑ دیتی ہیں، جو بُلند فشارِخون کا عارضہ لاحق ہونے باعث بنتا ہے اور بُلند فشارِخون پر کنٹرول نہ رہے ،تو دِل کا دورہ پڑسکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق عالمی سطح پر روزانہ پانچ گرام سے زائد مقدار میں نمک کا استعمال کرنے والے افراد میں اموات کا تناسب سالانہ 17لاکھ ہے۔

غذائوں میں تغیر نہ ہونا بھی جسمانی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص زرعی اجناس کا استعمال معاشی بوجھ بھی ہے۔ عالمی سطح پر صرف آٹھ اقسام کے زرعی اجناس استعمال کیے جاتے ہیں، جن کا زیادہ حصّہ گندم اور چاول پر مشتمل ہوتاہے۔ اس قدر یک ساں اجناس کا استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ 

جب شہری اور دیہی علاقوں میں غذاؤں کے استعمال کا جائزہ لیا گیا، تو یہ بات سامنے آئی کہ شہری علاقوں میں گندم اور چاول کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے، جب کہ مکئی، باجرہ اور جوار وغیرہ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔یاد رکھیے، ایک ہی قسم کے نشاستے کا استعمال جسمانی طور پر صحت مند نہیں کرتا ۔ اس کے برعکس مختلف اقسام کے اناج سے حاصل شدہ نشاستہ نہ صرف توانائی فراہم کرتا ہے، بلکہ قوّتِ مدافعت بھی بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہات میں سہولتیں کم ہونے کے باوجود بیماریاں اور وبائیں پھیلنے کا تناسب کم پایا جاتا ہے۔

متوازن غذا اور صحت مند طرزِزندگی کے لیے ضروری ہے کہ غذائوں کا زیادہ انحصار نباتاتی ذرائع یعنی پھلوں، سبزیوں، دالوں اور مختلف زرعی اجناس پر ہو۔ روزانہ ایک مناسب مقدار میں ڈیری مصنوعات یعنی دودھ، دہی اور پنیر کا استعمال کیا جائے،تو ہفتے میں پانچ دِن انڈے اور مچھلی کا استعمال بے حد مفید ثابت ہوتا ہے، جب کہ شکر اور روغن و تیل سے بنی اشیا ءکم سے کم استعمال کی جائیں۔ اس کے علاوہ کولڈ ڈرنکس کے بجائے پانی اور پھلوں کے تازہ رَس کو ترجیح دی جائے، تاکہ جسم میں پانی کا تناسب برقرار رہے اور جسمانی درجۂ حرارت بھی معتدل رہ سکے۔ ساتھ ہی ہلکی پھلکی جسمانی ورزش بھی صحت مند رہنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ (مضمون نگار،جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سےبطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں،جب کہ سندھ فوڈ اتھارٹی بورڈ اور سائنٹیفک پینل کے رُکن بھی ہیں)

بھرپور صحت مند زندگی گزارنے کا بہترین کلیہ

ایک بَھرپور صحت مند زندگی گزارنے کا بہترین کلیہ’’متوازن غذا، موسمی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، بَھرپور نیند اور باقاعدگی سے ورزش ہے۔‘‘اگر اس کلیے پر عمل کرلیا جائے تو دماغ اور جسم دونوں صحت مند رہتے ہیں۔گرچہ غیر متوازن غذا صحت کے شدید مسائل کی موجب بنتی ہے،مگر افسوس کہ ہمارے یہاں متوازن غذاسے متعلق معلومات عام نہیں۔ یاد رکھیے، متوازن غذا تین حصّوں میں منقسم ہے،جس کے پہلےحصّے میں اناج مثلاً گندم، چاول، مکئی، باجرا، جَو، جوار اور دالیں وغیرہ شامل ہیں۔ 

دوسرے حصّے میں سبزیوں، پھلوں کو شمار کیا جاتا ہے،جب کہ تیسرے حصّے کو مزید تین گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک گروپ پروٹین والی اشیاء پر مشتمل ہے۔ان اشیاء میں گوشت، انڈے اور مچھلی وغیرہ شامل ہیں۔ دوسرا گروپ تیل، شکر، مکھن، گھی، مارجرین پر مشتمل ہےاور تیسرا حصّہ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کے لیے مخصوص ہے۔ان تما م اشیاء کا اعتدال میں استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔

اگر ورزش کی بات کی جائے، تو باقاعدہ ورزش کو سرگرم طرزِ زندگی کا انتہائی اہم جزو قرار دیا گیا ہے کہ جو افراد سہل زندگی بسر کرتے ہیں، وہ کئی امراض میں باآسانی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اگر باقاعدہ ورزش ممکن نہیں ،تو چہل قدمی ہی کو معمول بنالیں کہ یہ سرگرمی جسم کی توانائی میں اضافہ کرتی ہے،تومیٹابولک سسٹم بھی بہتر طور پر کام کرتا ہے۔

کولیسٹرول اور شریانوں کی تنگی کا مرض لاحق نہیں ہوتا اور دِل کے دورے کے امکانات بھی کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہڈیاں مضبوط و توانا اور دماغ متحرک رہتا ہے۔ رات کی بَھرپور نیند اس لیے ضروری ہے کہ اس کے ذریعے ہارمونز کا توازن برقرار رہتا ہے۔

نیز، فاسد مادّے بھی جسم میں جمع نہیں ہوپاتے۔ پھر چوں کہ سونے کے دوران ہمارے اعضاء سُکون کی حالت میں رہتے ہیں، تو ان کی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ 

یاد رکھیے، ایک صحت مند فرد کے لیے روزانہ آٹھ گھنٹے کی نیند ضروری ہے، لہٰذا آج ہی سے متوازن غذا کے استعمال کے ساتھ ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنالیں اور اپنا شیڈول اس طرح ترتیب دیں کہ رات میں کم از کم آٹھ گھنٹے سُکون سے سوسکیں۔

تازہ ترین