• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنڈورا پیپرز کی شکل میں ایک نیا پنڈورا بکس کُھل چکا ہے۔پناما پیپرز جب منظرِعام پر آئے تھے تو دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی بھونچال آیا تھا اور منتخب وزیرِ اعظم کو بالاآخر سزا ہوگئی تھی،حالاں کہ کہا جاتا ہے کہ پناما پیپرز میں ان کا نام نہیں تھا۔تاہم اس مرتبہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ پاکستانیوں کے آف شور کھاتے اور کمپنیز سامنے آئی ہیں،لیکن پہلے جیسا شور ہے،فلاں چورکے نعرے ہیں اور نہ ہی کسی نے عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔حکومت نے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے ،لیکن اس کے لیے وہ ہی مستغیث اور وہ ہی منصف ہوگی۔ پھر یہ کہ اس کام کے لیے کوئی کمیشن قایم ہوا ہے اور نہ اس کے ٹرمز آف ریفرنس کے بارے میں تنازع پیدا ہوا ہے۔کوئی جے آئی ٹی بھی بننے کی امّید تاحال نظر نہیں آرہی۔اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وفاقی وزیرِ داخلہ،شیخ رشید نے اسے ’’کھودا پہاڑ،نکلا چوہا‘‘ کے مترادف قرار دے کر سارا معاملہ خود ہی ’’نمٹادیا‘‘ہے۔

امریکا سے قطر تک پھیلاؤ

دنیا بھر میں ٹیکس کی چوری،محاصل بچانے،قانونی یا غیر قانونی طور پر بھاری رقوم کی ایک سے دوسرے ملک منتقلی وغیرہ کے لیے بہت سے مال دار افرادمتعدد قانونی اور غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ قانونی یا غیر قانونی طورپر بھاری رقوم بیرونِ ملک رکھنے کے ضمن میں عام آدمی کے ذہن میں سب سے پہلے جس ملک کا نام آتا ہے وہ سوئٹزرلینڈ ہے۔اس ملک کے بعد کیریبیائی جزائر کے نام سامنے آنے لگے۔ لیکن تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایسی جنّتیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق بہت چھوٹے ممالک سے ہے اور بعض بہت طاقت ور ممالک کی حکم رانی میں آتی ہیں۔ ٹیکس جسٹس نیٹ ورک نامی ایک برطانوی غیر سرکاری تنظیم کے تحت ترتیب دیے گئے فنانشل سیکریسی انڈیکس (ایف ایس آئی)کی 2020کی درجہ بندی کے مطابق دنیا کی بیس اوّلین ٹیکس ہیونز(محاصل سے بچانے والی جنّتیں)امریکا سے قطر تک پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں دنیا بھر کے دولت مندوں کے ساڑھے چھ کھرب ڈالرز موجود ہیں۔

ان میں پہلے نمبر پر کے مین آئی لینڈ ز(کیریبیائی خِطّہ ) ہیں۔ ان کے بعد بالترتیب امریکا، سوئٹزر لینڈ، ہانگ کانگ ، سنگاپور، لکسمبرگ، جاپان، نیدرلینڈ، برٹش ورجن آئی لینڈ ز ،متحدہ عرب امارات،گُمسی، انگلستان ، تائیوان، جرمنی، پناما، جرسی، تھائی لینڈ،مالٹا،کینیڈا اور قطرکا نمبر آتا ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے دس جنّتیں یورپ میں اور باقی برّ ِاعظم امریکا اور ایشیا میں واقعے ہیں۔ دوسرا دل چسپ نکتہ یہ ہے کہ یورپ کی ان جنّتوں میں سے کئی کا تعلق کسی نہ کسی طرح انگلستان سے جاملتا ہے۔اور جو جنّتیں بہ راہِ راست انگلستان کی عمل داری والے علاقوں میں قایم ہیں ،وہ علیحدہ ہیں۔کے مین آئی لینڈ، برٹش ورجن آئی لینڈز،گرنسے اور جرسی، برطانیہ کے مملکت سے دور واقعےخِطّے ہیں یا وہ ملکہ کے ماتحت ہیں۔تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایف ایس آئی کی درجہ بندی کے تحت معلومات کو اِخفا میں رکھنے کے ضمن میں سب سے زیادہ نمبر مالدیپ،انگولا اور الجزائر کے ہیں ،لیکن آف شور فراہم کی جانے والی خدمات میں ان کا حصہ صفر اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرسے سالانہ سو تا ڈھائی سو ارب ڈالرز نقل مکانی کرکے (جائز یا ناجائز انداز میں)مذکورہ جنّتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔پھر یہ رقم متعلقہ ممالک کی کارپوریشنز استعمال کرتی ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ قوموں کو کس طرح ان کی دولت اور جائز محاصل سے دور رکھا جاتا ہے۔پھر ان ہی مال سے کس طرح خود کو طاقت ور بنایا جاتا ہے اور اسی مال کو ان کے ایک ہاتھ سے نکال کر پہلے کم زور کیا جاتا ہے اور پھر دوسرے ہاتھ سے قرض کی شکل میں پکڑا کر اپنا غلام بنالیا جاتا ہے۔ بہ غور جازہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اس سارے مکروہ دھندے کی کڑیاں برّ ِ اعظم یورپ سے ملی ہوئی ہیں اور یورپ میں اس کا مرکز و محور سوئٹزر لینڈ ہے۔

وہ ممالک جو دنیا کی مختلف کارپوریشنزاور افراد کو اپنے ملک میں ٹیکس سے بچنے کے راستے دکھاتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کے ملک میں آف شور کمپنیز کی شکل میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا دھن سفید ہےیاکالا۔ اس خفیہ مالی کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے ان ممالک نے اس پر قانون کاغلاف چڑھا رکھا ہے۔ان میں سات ممالک شامل ہیں، جن میں برطانیہ سرفہرست اور امریکا دوسرے نمبر پر ہے۔ برٹش ورجن آئی لینڈ کو دنیا کی سب سے بڑی ٹیکس پناہ گاہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس جزیرے کی قدر اس کی معیشت سے پانچ ہزار گنا زیادہ ہے اور یہ سب آف شور کمپنیز کی مرہونِ منت ہے۔

یہ کیریبیائی خِطّے میں واقعے ایک جزیرے کا حصہ ہے اور برطانوی اقتدارکے تحت ہے۔ یہاں آف شور اکائونٹس پر کوئی ٹیکس نہیں، نہ ہی اس کا دیگر ممالک کے ساتھ کوئی ٹیکس کا معاہدہ ہے۔ اسی طرح یہ بینک کے کھاتے داروں کے مالی رازداری کے بارے میں بھی سختی سے عمل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سب سے زیادہ ٹیکس چوراور دولت مند افراد اپنا سرمایہ محفوظ کرنے کےلیےبرٹش ورجن آئی لینڈ کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں آف شور بینکنگ صارفین اور آف شور کمپنیز کے لیے ایک فائدہ یہ ہے کہ کوئی ایکسچینج کنٹرول نہیں ۔ اس سے مالیاتی رازداری کی حفاظت کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے خفیہ فنڈز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

اسی طرح کیمن آئی لینڈ کی آف شور کمپنیز دنیا میں سب سے زیادہ موثر ٹیکس پناہ گاہیں تصور کی جاتی ہیں۔ یہ ایک برطانوی سمندر پار علاقہ ہےاور تین جزائر پر مشتمل ہے۔ کیمن آئی لینڈ میں کوئی بھی کارپوریٹ ٹیکس نہیں ہے۔ کارپوریشنز کےلیے اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کےلیے یہ بھی ایک بڑی کشش ہے۔ کیمن جزائر بہت سی کارپوریشنز کو بڑھنے اور خاطر خواہ حد تک ٹیکس سے بچانے میں بھی بہت مدد کرتے ہیں۔ ایک اور بڑا فائدہ ان جزائر میں سود کی کمی کاہے جو سرمایہ کاری پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ ٹیکس چوروں اور دولت مندوں کے محفوظ اثاثوں کا ایک اور بڑا مرکز برمودا آئی لینڈ ہے۔ یہ بھی ایک برطانوی جزیرے کا علاقہ ہے۔

یہاں ٹیکس کی شرح صفر ہے۔ برمودا بھی اپنے آف شور کلائنٹس کو مکمل رازداری فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب پناما بھی دنیا بھر کے ٹیکس چوروں کے لیے بڑی کشش کا باعث ہے۔ یہ وسطی اور جنوبی امریکا کو جوڑنے والاملک ہے۔وہاں علاقائی ٹیکس کا نظام ہے جس میں ملک کے اندر کمائی گئی دولت پر ٹیکس لگایاجاتاہے۔ لیکن دوسری جگہ سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ پناما میں قایم ایک فرم دنیا میں کہیں بھی اپنے اثاثے رکھ سکتی ہے۔ یہ قانون پناما انٹرپرائزز کی رازداری کی بھی حفاظت کرتاہے۔ لہٰذا کلائنٹ کو یقین دلایا جاتاہے کہ پاناما میں اس کے کاروباری معاملات اور مالیاتی راز خفیہ رکھے جائیں گے ۔ تاہم دو ہزار سولہ میں پناما پیپرز اور اب پینڈورا پیپرز کا اسکینڈل جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے بعد یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ یہ ٹیکس پناہ گاہیں آگے چل کر زیادہ محفوظ نہیں رہیں گی۔

یورپ کاایک چھوٹاسا علاقہ لکسمبرگ بھی بہت اہم ٹیکس ہیون ہے۔یہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہےجس کا زیادہ تر انحصار اس کے مالیاتی شعبے اور آف شور کمپنیزپرہےجو اس کی جی ڈی پی کا پینتیس فی صد سے زیادہ بنتا ہے۔ لگسمبرگ کا مالیاتی نظام،کثیرالقومی کارپوریشنزاور امیر ترین افراد کو ٹیکس کے نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی پوری اجازت دیتا ہے۔ رازداری لکسمبرگ کی پالیسی کا مرکزی اصول ہے۔ 

فنڈز یا آف شور اکائونٹ کا مالک ہی اپنے مالی معاملات کے بارے میں ذاتی تفصیلات شیئر کرنے کی اجازت دےسکتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کلائنٹ یا موکل خود کو محفوظ محسوس کرے۔ یہاں آف شور بینک اکائونٹس میں سود شامل نہیں کیا جاتا۔ہالینڈ بھی ٹیکس چور کارپوریشنز اور افراد کے لیے ایک محفوظ مقام ہے۔اگرچہ یہ دیگرپناہ گاہوں کی طرح کھلے عام ٹیکس فری نہیں، لیکن دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں ہالینڈ کافی کم ٹیکس کی شرح پیش کرتا ہے۔ ہالینڈ کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا ملک ٹیکس کی پناہ گاہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گوگل جیسی بڑی کمپنیز بھی اپنے ماتحت ادارے کھول کر ہالینڈ کی ٹیکس کی پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔

منبع ومرکز،سوئٹزرلینڈ

ہر طرح کے جائز اور ناجائز مال و دولت کو محفوظ رکھنے والے ممالک میں سوئٹزر لینڈکا درجہ منبع و مرکز جیسا ہے۔ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہونے کے ساتھ سوئٹزر لینڈ اپنے مالیاتی اداروں کی مضبوطی اور کامیابی کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ملک آف شور ٹیکس پناہ گاہوں کے حوالے سے اپنی مستقل قابل اعتماد رازداری کےلیے جانا جاتا ہے۔ اس کی بینکنگ سروسز کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ بینکرز کو اپنے کلائنٹس کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات دینے کی سخت ممانعت ہے۔ یعنی صارفین کے مالی اثاثوں کے بارے میں سخت رازداری برتی جاتی ہے۔

تاریخ میں موجود جڑیں

یہ یہودہی تھے جنہوں نے 1776ء میں نیو ورلڈ آرڈر کا نعرہ لگایاتھا۔ یاد رہے کہ یہ ہی امریکاکی آزادی کا سال ہے اوریہی وہ سال ہے جب یہودیوں نےیورپ میں سود خوری کی اجازت حاصل کی تھی۔اس سے قبل یورپ میں سودی کاروبار کی اجازت نہ تھی اور یہود نے یہ سب کچھ پوپ کے خلاف بغاوت کر کے حاصل کیا تھا۔ پوپ کے خلاف بغاوت کا اوّلین مظاہرہ ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ کا قیام اور پھر بعد میں ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ کا بننا تھا۔ انگلستان میں ان کام یابیوں کے بعد یہودیوں نے کہا تھا : ’’یہ ہمارا اسرائیل ہے اور ہمیں تو یہاں جنت مل گئی۔ 

ہم یہاں آ گئے اور یہاں ہم برابر کے شہری ہیں۔‘‘ بینک آف انگلینڈ کے بعد یہودیوں نے پہلے پورے یورپ اور پھر پوری دنیا میں بینکاری کا نظام قایم کیا اور بینکوں کاجال بچھا دیا۔1897ء میں سوئٹزر لینڈ کے شہر برسلز میں یہودیوں نے باقاعدہ طور پرProtocols of the Elders of Zion مرتب کیے اور اس میں یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں منصوبے بنائے گئے۔

سوئٹزرلینڈ میں بینکاری کی،ملک میںمرچنٹ تجارت کے ذریعے اٹھارہویں صدی کے اوائل تک کی تاریخ ہے اور صدیوں کے دوران یہ ایک پے چیدہ ، منظم اور بین الاقوامی صنعت میں شامل ہوئی۔ بینکنگ کو سوئس الپس ، سوئس چاکلیٹ ، گھڑی سازی اور کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ کا نشان بھی سمجھا جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بینکاری کی رازداری اور کلائنٹ کی رازداری کی ایک طویل تاریخ ہے جو1700کی دہائی کے اوائل تک پہنچتی ہے۔ دولت مندیورپی بینکاری کے مفادات کے تحفظ کے راستے کے طور پر شروع کرتے ہوئے ، سوئس بینکاری کے رازداری کے نظام کو1934میں تاریخی وفاقی قانون ، بینکوں اور بچت کےبینکوں پر فیڈرل ایکٹ کی منظوری سےمستحکم کیا گیا۔

یہ قوانین جومبینہ طورپرنازی حکام کے ذریعے ظلم و ستم کا شکار افراد کے اثاثوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوئے تھے۔ پھر لوگوں اور اداروں نے بھی غیر قانونی طور پر محاصل سے بچنے ، اثاثےچھپانے یا عام طور پر مالی جرم کرنے کے لیے استعمال کرنا شرع کیے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں کے متنازع تحفظ نے متعدد مجوزہ مالی قواعد و ضوابط کو جنم دیا ۔بیسویں صدی کے وسط سے سوئٹزرلینڈ دنیا کے سب سے بڑے غیر ملکی مالیاتی مراکز اور ٹیکس پناہ گاہوں میں سے ایک رہاہے۔ 

بین الاقوامی طورپر ملک میں بینکاری راز داری کے قوانین کو ختم کرنے کے لیے عالمی دباؤ کے باوجود ، سوئس سماجی اور سیاسی قوتوں نے مجوزہ رول بیک کو کم سے کم اور تبدیل کردیاہے۔ موکل کی معلومات کو افشا کرنا 1900 کی دہائی کے اوائل سے ہی یہاں ایک جرم سمجھاجاتا ہے۔ سوئس بینکوں میں اور بیرون ملک کام کرنے والے ملازمین طویل عرصے سے کسی غیر تحریری کوڈ پر عمل پیرا ہیں۔ سوئس بینکرز ایسوسی ایشن (ایس بی اے) نے 2018 میں تخمینہ لگایا تھا کہ سوئس بینکوں کے پاس 6.5 ٹریلین امریکی ڈالرز کا اثاثہ ہے۔

ویانا کی کانگریس نے 1815میں باضابطہ طورپر سوئٹزرلینڈ کی بین الاقوامی غیرجانب داری قایم کی جس کی وجہ سے یہ ملک غیرجانب دارقرار پایا۔1910کی دہائی کے دوران ، سوئس بینکرزنے پہلی جنگ عظیم کے دوران اپنے بینکاری کے نظام کی رازداری کی تشہیرکےلیے فرانس کا سفر کیا۔ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے دنوں میں جنگ نے سوئٹزرلینڈ میں تیزی سے سرمایہ کی تحریک کو جنم دیا۔ 

جب یورپی ممالک نے جنگ کی مالی اعانت کے لیے محاصل میں اضافہ کرنا شروع کیا تو مال دارلوگوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنی دولت سوئس اکاؤنٹس میں منتقل کردی۔ صدیوں سے سوئٹزرلینڈ میں موکل کی معلومات افشا کرنا ایک سول جرم تھا۔ سوئس وفاقی اسمبلی نے اس بارے میں قانون سازی کی اور بینکوں اور بچت کے بینکوں پر فیڈرل ایکٹ کی منظوری سے 1934 میں اسے وفاقی فوج داری جرم قرار دے دیا۔

سوئٹزرلینڈ کا پہاڑی علاقہ سونے کو زیرزمین بنکرز میں ذخیرہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جرمن یہودی اثاثوں کی حفاظت کے ساتھ ، سوئس بینکوں نے زیر زمین والٹ میں اپنے سونے اور نقد بیلنس کو محفوظ کرکے نازی جرمنی اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ 

ایڈولف ہٹلر نے یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (یو بی ایس) میں ایک اکاؤنٹ برقرار رکھا جس کا تخمینہ1.1بلین ریخ مارک تھا۔ 1990 کی دہائی میں جب امریکا نے اس بینک سے باضابطہ طور پر رقم کی منتقلی کےلیے کہا تو ، UBS نے 400 سے 700 ملین امریکی ڈالرزکے ریخ مارکس امریکی حکام کو بھیجے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ، یو بی ایس نے سیکڑوں جرمن یہودی کاروباری افراد اور گھرانوں کے اکاؤنٹ بھی برقرار رکھے تھے۔

1980 اور 1990 کی دہائیوں کے دوران ، غیر ملکی ریاستوں کی طرف سے بینک سیکیورٹی رول بیکس کے لیےپیش کی گئیں متعدد بین الاقوامی تجاویز بہت کم کام یابی حاصل کرسکیں۔ دراصل بینکاری کی رازداری ختم کرنے کے بین الاقوامی دباؤ کو سوئس ثقافت اور اقدار پر حملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سوئس پارلیمنٹ نے 2017 میں اپنے آئین میں بینکاری کی رازداری کو اپنانے میں دل چسپی کا اظہار کیا۔ 2008 کے مالی بحران کے بعد ، سوئٹزرلینڈ نے یورپی یونین کی بچت کی ہدایت (ای یو ایس ڈی) پر دست خط کیے جس کے تحت سوئس بینکوں کو ٹیکس کے اعدادوشمار کی شناخت نہ کرنے والے 43 یورپی ممالک کو رپورٹ کرنے کا پابند کیا گیا۔

تین دسمبر ، 2008 کو ، وفاقی اسمبلی نے بینکنگ کی رازداری کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کی سزا کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ سے بڑھا کر پانچ سال کردیا۔ 2008 کے آخر میں ، امریکی ٹیکس چوری میں سوئٹزرلینڈ کے کردار کے بارے میں بین الاقوامی ، کثیر الملکی تفتیش کے بعد ، یو بی ایس نے امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ ایک محدود ، التوائےاستغاثہ کا معاہدہ (ڈی پی اے) کیا۔ اس معاہدے کے تحت چارہزارسے زیادہ موکلوں کے بارے میں معلومات کا اہم انکشاف برکین فیلڈنے کیا ۔ 

تاہم اگر کوئی مؤکل اپنی معلومات IRS کے ساتھ شیئر کرنے پر راضی نہیں ہوتا ہے تو ، سوئس قانون انکشاف پر پابندی عاید کرتا ہے۔ اگر کوئی مؤکل رضامندی دیتا ہے تو ، سوئس بینک اکاؤنٹ ہولڈر کے بارے میں آئی آر ایس ٹیکس سے متعلق معلومات بھیجتے ہیں لیکن انہیں 1934 کےبینکنگ قانون کے آرٹیکل47کے تحت شناخت ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے بینکنگ کنونشن آف بینکنگ انفارمیشن (اے ای او آئی) کو 2017 میں منظور کیا ، اورٹیکس آڈٹ کے واحد مقصد کےلیے کچھ ممالک کو خودبہ خود محدود مالی معلومات جاری کرنے پر راضی ہوا۔ 

اس معاہدے میں کامن رپورٹنگ اسٹینڈرڈ (سی آر ایس) شامل ہے جو سوئس بینکوں کو خودبہ خود غیر ملکی ٹیکس حکام کو موکل کا نام ، پتا ، ڈومیسائل ، ٹیکس نمبر ، تاریخ پیدائش ، اکاؤنٹ نمبر ، سال کے اختتام پر اکاؤنٹ کا توازن ، اور مجموعی سرمایہ کاری کاحجم بھیجنے پر مجبور کرتا ہے۔ تاہم ، سی آر ایس ، 1934 کے سوئس بینکنگ قانون کو ختم نہیں کرتا ہے ، لہذا موکل کے اخراجات (انخلا) اور انویسٹمنٹ کو ظاہر نہیں کیا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سوئس بینکس نے آمروں ، غاصبوں ، اسلحہ فروشوں ، کرپٹ عہدے داروں اور ہر طرح کے ٹیکس دھوکا دہی کے مال و دولت کے محفوظ ٹھکانے کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2018 میں ، لندن میں قائم ٹیکس جسٹس نیٹ ورک نے ایک بڑی آف شور بینکنگ انڈسٹری اور انتہائی سخت رازداری کے قوانین کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کے بینکنگ سیکٹر کو دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوان قرار دیا۔

سوئس غیر جانب داری اور قومی خودمختاری ، جسے غیر ملکی ممالک نے طویل عرصہ سے تسلیم کیا ہے ، نے بینکاری کے شعبے کی ترقی اور ترقی کے لیے مستحکم ماحول کو فروغ دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈنے دونوں عالمی جنگوں میں غیر جانب داری برقرار رکھی۔ وہ یورپی یونین کارکن نہیں ہےاور 2002 تک اقوام متحدہ میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دنیا کے مرکزی بینکوں کے مابین تعاون کی سہولت فراہم کرنے والی تنظیم ، بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ (بی آئی ایس) کا صدر دفتری ہیں ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ سوئس بینکوں کو درج ذیل وجوہ کی بنا پر سب سے محفوظ ٹیکس ٹھکانے قرار دیا گیا ہے: ایک تو مستقل غیر جانب دار ملک کی حیثیت سے جنگ سےاستثنیٰ۔

آج دوسو سے زیادہ ممالک اور خطوں میں سات غیر جانب دار ممالک ہیں ، اور سوئٹزرلینڈ دنیا کا پہلا مستقل غیر جانب دار ملک ہے جسے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی سوئزرلینڈ اس جنگ میں زندہ رہا۔ مستقل غیر جانب داری کی حیثیت یقینی بناتی ہے کہ سوئس بینک صارفین کی املاک کو جنگ کا خطرہ نہیں ہے۔دوم، سوئس بینکاری کی صنعت کا سیکیورٹی نظام اور خدمات بیرون ملک مشہور ہیں۔یو بی ایس کے پاس عالمی سطح کا حفاظتی نظام موجود ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ بینک میں موجود املاک بالکل محفوظ ہیں ۔

سوئس بینکاری عملہ عموما اعلی معیار کی اورآسان خدمت کی ضمانت دیتا ہے۔سوم سوئس بینکاری کی صنعت میں صارفین کی رازداری کے لیے سخت تحفظ کا نظام ہے۔1934 میں منظور کردہ فیڈرل بینکنگ ایکٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈنےبینک سیکیورٹی سسٹم قایم کیا۔ سخت رازداری کے نظام کا تقاضا ہے کہ بینک کے ایگزیکٹیوزیا ملازمین کو کسی اکاؤنٹ کی معلومات تیسرے فریق کو افشا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، جو سوئٹزرلینڈ کو دنیا کا سب سے قابل اعتماد بینک بناتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی تقریبا ایک چوتھائی دولت سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ سیاسی معززین ، کاروباری کمپنیز اور تفریحی صنعت کے ستاروں نے بھی سوئٹزرلینڈ کی دنیا کی مشہور مالیاتی صنعت تشکیل دی ہے۔

سوئس حکومت نے 2010ء میں غیر قانونی طور پر لوٹی ہوئی دولت کو واپس کرنے کا قانون بنایا تھا اور ہم آج تک موجودہ کو ہی اس کے مطابق نہیں بنا سکے۔TAAC نے درج ذیل ضروری ترامیم کی ہیں:

1۔ اب چند ممالک مل کر سوئس حکومت کو گروپ کی حیثیت سے گزارشات پیش کر سکتے ہیں جس کے تحت ٹیکس نادہندگان کو منظرِ عام پر لانے میں تیزی آئے گی کیوں کہ گروپ درخواست ہونے کی وجہ سے دستاویزات فراہم کرنے میں آسانی ہو جائے گی اور وقت کی بچت بھی۔

2۔ اس کے ذریعے اس بات کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں کہ ٹیکس چور اب اپنا پیسہ نکال کر کہیں اور لے جائیں گے۔

TAAC پاکستان اور اس جیسے ممالک کےلیے بہت سے روشن امکانات پیش کرتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے بلامقصد اس قانون کا اجراء نہیں کیا۔ دراصل OECD اور G-20 کی طرف سے اس پر مکمل دبائو تھا کہ یہ ٹیکس چوروں اور حقیقی سرمایہ داروں کے درمیان حدِفاصل کو واضح کریں اور ہر حال میں دوسرے ممالک کو ٹیکس چوروں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ البتہ ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ عالمی سطح پر بااثر گروپ جیسا کہ ٹیکس جسٹس نیٹ ورک ہے، کو ایک کثیر الجہتی نظام کے لیے زور دینا چاہیے جس کے تحت ہر ملک پر لازم ہو کہ وہ دوسرے کسی ملک کے شہری کے بارے میں خودبہ خود معلومات کا تبادلہ کرے۔ 

اس طرح کا ایک معاہدہ سوئٹزر لینڈ اور او ای سی ڈی کے ممبر ملکوں کے درمیان ہو چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ G-20 ممالک کی طرف سے اس طرح کے معاہدے کو دیگر ممالک تک بھی پھیلایا جائے۔ اسی طرح تمام اقوامِ عالم مشترکہ طور پر ٹیکس چوری اور لُوٹی جانے والی دولت کا سدِّ باب کر پائیں گی۔ جب تک یہ نہیں ہو پاتا کم از کم پاکستان اور بھارت کو اس خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر سوئٹزرلینڈ کے ساتھ اسی طرح کا کثیرالجہتی معاہدہ کرنا چاہیے جیسا کہ او ای سی ڈی کے ساتھ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔