• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف، فضل الرحمٰن کی اتنی سیاسی حیثیت نہیں کہ کوئی ان کو نوازے، فواد چوہدری


وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ہدف تنقید بنالیا۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی اتنی سیاسی حیثیت نہیں کہ کوئی ان کو نوازے۔

انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی کوئی جگہ ہے نہ ہی کوئی اسامی خالی ہے، ان کی بلیک میلنگ اور خوشامد صرف ڈیل کے لیے ہوتی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ شہباز شریف اور فضل الرحمان کی سی ویز بڑی پرانی اور پھٹی ہوئی ہیں، جس پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی نوکری کی باری آئے، ایسا کچھ نہیں ہونا۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور فضل الرحمان دونوں مل کر آہ وزاریاں کریں، وہ ہائے گل پکار والا سلسلہ جاری رکھیں، ان کی ادھر کوئی نوکری ہے نہ ہی کوئی اسامی خالی ہے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں صر ف ڈیل کے چکر میں رہتے ہیں، ان دونوں کی ساری سیاست بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک ان ہی چکروں میں گزر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں حضرات کا کوئی سیاسی قد ہی نہیں شہباز شریف کو تو روز مریم ہی پارٹی سے باہر اندر کرتی رہتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک گروپ ہر وقت سی وی اٹھا کر کھڑا رہتا ہے کہ پتا نہیں کیا ہوجائیگا، کچھ بھی نہیں ہونا، اب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ مجرم سے پوچھیں کہ آپ کی تفتیش کون کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے سب ہی حامی ہیں، حکومت نے اس کی بات کی تو کہا جارہا ہے کہ این آر او دے دیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کسی کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپیہ نکل آئے تو بتانا ہوگا کہاں سے آئے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ہوں یا نیب قوانین، پوری کوشش کی کہ اپوزیشن اصلاحات پر ساتھ بیٹھے، مسئلہ یہ ہے کہ ن لیگ کے فیصلے لندن میں بیٹھ کر ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحات کی بات کریں تو ان کی تمام باتیں ان کے کیسز پر ہوتی ہیں، شہباز شریف کے خلاف ساڑھے 7 ارب روپے کا نیب ریفرنس فائل کرچکا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیکشن 6 میں شامل ہے کہ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگلے ہفتے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت شروع ہوسکتی ہے، اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرنا چاہتے ہیں، شہباز شریف کے ساتھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالم جبہ کیس میں کہاں عمران خان کا نام یا کردار ہے؟، 30 سال جو حکومت میں رہے انھوں نے ہی جواب دینا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چینی، گندم کوئی بھی اسکینڈل ہو یہ ہم نے آپ کو بتایا، ہم نے کمیشن بنایا۔

تازہ ترین