• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا

حافظ طاہر خلیل

یہ دسمبر 1975 کے آخری ہفتے کا واقعہ ہے یعنی کرسمس کے موقع پر جب ڈاکٹر قدیر خان اپنی بیگم اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ پاکستان آئے تھے اس کی تین دن بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات ہوئی اس وقت ملٹری سیکرٹری مرحوم جنرل امتیاز بھی موجود تھے ، بھٹو صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان آپ ذرا دیکھیں کہ منیر احمد خان اور ان کے ساتھیوں نے ایٹمی پروگرام پرا یک سال میں کتنی پیش رفت کی ہے ، جب دیکھا تو سخت دھچکا لگاڈاکٹر خان بتا رہے تھے کہ ایک نا سمجھ ،ناتجربہ کار انجینئر کی سربراہی میں آٹھ دس جونیئر لوگ ایک کھنڈر میں ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہے تھے ، میں نے جا کر بھٹو صاحب کو حقیقت بیان کر دی ،بھٹو صاحب فکر مند ہوئے اور سوچ میں پڑ گئے اور پوچھا کہ ڈاکٹر خان آپ کا کیا پروگرام ہے ؟

جواب میں کہا کہ ہم 15 جنوری کو واپس ہالینڈ چلے جائیں گے ، بھٹو صاحب نے فوراً کہا کہ ڈاکٹر خان آپ واپس نہ جائیں یہ کام آپ کے بغیر نہ ہو گا، ڈاکٹر خان ہکا بکا رہ گئے اور کہا ،سر! ہم چھٹی پر آئے ہیں صرف گرمیوں کے چند کپڑے ساتھ لائے ہیں میری اعلیٰ نوکری ہے ،بچیاں وہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں ،کتابیں اور لٹریچروغیرہ دفتر میں ہیں ،ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ 18 مئی 1974 کے بعد بھٹو پاکستان کے وجود کے بارے میں فکر مند تھے ۔ ڈاکٹر خان نے ان سے کہا کہ میں بیگم سے بات کر کے جواب دوں گا۔ 

ڈاکٹر خان UGCکے گیسٹ ہائوس گئے جہاں منیر احمد خان نے انہیں ٹھہرایا تھا ، بیگم کو ملاقات کی تفصیل بتائی اور پھر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست کے بارے میں کہا ،جیسا کہ توقع تھی وہ گھبرائیں اور کہا کہ یہ ناممکن ہے تمہارے پاس اتنی اعلیٰ ملازمت ہے اور بچیاں وہاں زیر تعلیم ہیں ہمارا سب کچھ وہاں ہے ہم یہاں نہیں رک سکتے ، مگر میں فیصلہ کر چکا تھا اور اس فیصلے سے جب بھٹو کو آگاہ کیا گیا تو بھٹو صاحب نے میٹنگ بلالی اور خوش آمدید کہنے کے بعد مجھ سے کہا کہ بتائو کیا چاہیے ؟ میں نے کہا کہ فوج کی کورآف انجینئر ز کی ایک ٹیم چاہیے ،جنرل ضیا ءالحق جو اس وقت آرمی چیف تھے اور میٹنگ میں شریک تھے ، نے کہا وہ یہ کام کر دیں گے ۔

وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ میں بورڈ کو اپنے اختیار ات تفویض کرتا ہوں اور بورڈ کو انہیں استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہوں ۔بورڈ کے ممبران ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بھر پور مدد کریں اور کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ان تینوں محبان وطن ،قابل آفیسروں نے میری مدد کی وہ اس ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے ، اے جی این قاضی سیکرٹری جنرل خزانہ تھے ، آغا شاہی سیکرٹری جنرل خارجہ تھے اور غلام اسحاق خان سیکرٹری جنرل دفاع تھے، اس سے بڑا بورڈ نہیں بن سکتا تھا یہ پاکستان پر بہت بڑا احسان تھا، اے کیو خان بتا رہے تھے کہ 31 جولائی 1976 میں بھٹو نے ملک میں یورینیم کی افزودگی کیلئے ایک اہم پراجیکٹ کے قیام کی منظوری دی۔ 

اس کا قیام اے جی این قاضی ،غلام اسحٰق خان ، آغا شاہی اور جنرل امتیاز علی اور میرے مشورے پر عمل میں آیا اور اسے ایک خود مختار ادارہ کی حیثیت دے دی گئی ۔اس ادارہ کا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اور مجھے اس کا سربراہ مقرر کیا گیا،بھارت نے 18 مئی 1974 کو ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کا ایٹمی توازن درہم برہم کر دیا، ہندوستان کو اپنی سلامتی کے بارے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھا اس نے روس کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا ہوا تھا، 31 جولائی 1976ء میں حکومت نے تاریخی فیصلہ کیا کہ ہم یورینیم افزوددگی کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں اور اپنے ایٹمی ری ایکٹروں کے ایندھن کی دستیابی میں خود کفیل ہو جائیں ، مجھے متعلقہ ٹیکنالوجی کا نہایت وسیع اور قیمتی تجربہ تھا، میں نے یہ چیلنج کھلے دل سے قبول کیا اور کام کرنا شروع کر دیا ۔

میں نے پورے ملک سے چند نہایت محنتی ،قابل اور محب وطن سائنسدانوں اور انجینئرز کا انتخاب کیا اور ہم اس پراجیکٹ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنانے میں تن من دھن سے لگ گئے ،آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ آسان کام نہ تھا، میرے ساتھیوں نے کبھی سینٹری فیوج اور اس کی مدد سے یورینیم کی افزود گی کا نام تک نہ سنا تھا حالانکہ ان میں سے کئی ایک باہر سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگریاں رکھتے تھے ، نیوکلیئر سائیکل میں یورینیم کی افزودگی کو مشکل ترین سمجھا جاتا ہے، میرے رفقا ء کار اور میرے لئے یہ ایک بڑا چیلنج تھا، ہم قدرت کے نئے قوانین تلاش نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ اور مشکل انجینئر نگ مسئلہ سے مقابلہ تھا، میں نے بھی پراجیکٹ کی بہتری کی خاطر کوئی اقدام اٹھانے میں قطعی کسی ہچکچاہٹ و خوف کا اظہار نہیں کیا، پاکستان پر بہت سخت دبائو ڈالا گیا، امریکہ نے معاشی امداد بند کر دی اور مغربی ممالک نے چھوٹی سے چھوٹی چیزوں مثلاً ربر کے رنگز پر تک پابندی لگا دی ،مارجننگ اسٹیل اور مقناطیسی چھلے (Maraging Steel & Magnetic Rings)برآمد نہیں ہونے دیئے لیکن ہم نے بہادری سے ان پابندیوں کا مقابلہ کیا یورینیم کی افزودگی نیو کلیئر سائیکل میں سب سے مشکل ترین کام یا مرحلہ ہوتا ہے ۔

سنٹری فیوج ٹیکنالوجی میں میٹا لرجی ، میکنیکل انجینئرنگ ، کیمیکل انجینئرنگ ،الیکٹرونکس ،پروسیس ٹیکنالو جی ، کمپیوٹر سافٹ ویئر ( کنڑول اور آٹو مشین ) ، نیو کلیئر فزکس، ویکیوم ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے علوم میں بہت مہارت کی ضرورت ہے ، ہم نے نہ صرف اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی بلکہ ایک نہایت اعلیٰ پلانٹ لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک غیور ، ذہین اور لائق قوم ہیں ،ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پاکستانیوں کی کاوشوں کا پھل ہے اور یہ ایک غریب اور ترقی پذیر مگر غیور ملک کے انجینئر وں اور ہنر مندوں کے اس مصمم ارادے کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان نے غیر ملکی دباؤ اور بلیک میلنگ کو مسترد کرتے ہوئے کیا تھا۔ 

یہ نہ صرف میرے لئے باعث فخر و تسکین کی بات ہے بلکہ میرے رفقا کا راور پوری قوم کیلئے باعث فخر ہے ،پاکستان کے یورینیم کی افزودگی کے کامیاب پروگرام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر پاکستانی قوم مصمم ارادے اور سنجیدگی سے کوئی ہدف حاصل کرنا چاہئے تو وہ توقع سے پہلے یہ حاصل کر سکتی ہے ، جو کچھ ہم نے سات سالوں میں نہایت قلیل رقم خرچ کر کے حاصل کیا وہ دوسروں کی نگاہ میں پچاس سال میں بھی حاصل کرنا ناممکن تھا لہٰذا پاکستان اب بھی دنیا کو یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ قومی مفاد اور وقار کیلئے ہر چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ 

کام کے سلسلے میں میری وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو ، اے جی این قاضی سیکرٹری جنرل فنانس ، غلام اسحٰق خان سیکرٹری جنرل ڈیفنس اور آغا شاہی سیکرٹری جنرل خارجہ سے باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ ماحول ہمیشہ نہایت ہی اچھا اور دوستانہ ہوتا تھا ،پہلی ہی میٹنگ میں چند منٹ  بعد غلام اسحٰق خان نے بھٹو صاحب کی جانب دیکھا اور پوچھا سر!  اجازت ہے اور دونوں انگلیاں اٹھا کر سگریٹ پینے کی اجازت چاہی ، بھٹو صاحب نے مسکرا کہا ہاں ! خان صاحب ، ساتھ ہی خود بھی سگار نکال کر سلگا لیا تاکہ خان صاحب سکون سے سگریٹ نوشی کر سکیں ، اس کے بعد میں نے ہمیشہ ان تینوں کی بھٹو صاحب سے لا تعداد ملاقاتیں دیکھیں اور کبھی بھی یہ تاثر نہ پایا کہ ان میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تنائو موجود ہے۔ 

ڈاکٹر خان کہہ رہے تھے کہ جو قومیں اپنی تاریخ ساز شخصیات اور واقعات کو یاد نہیں رکھتیں جلد یا بدیر تاریخ بھی ان کو فراموش کر دیتی ہے ،ہمارا وجود ،ہماری شناخت 14 اگست 1947 ء سے ہے ، جس دن ہم دنیا کے نقشہ پر ایک آزا د ملک کی حیثیت سے رونما ہوئے ، 14 اگست 1947 کو مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی قیادت و سربراہی میں پاکستان بنایا اور بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے 16 دسمبر 1971 کو ملک کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اس کے بعد ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ، مگر 28 مئی 1998ء کے تاریخ ساز دن ہم نے ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور جس طرح 14 اگست ایک یاد گار اور ناقابل فراموش دن ہے اسی طرح 28 مئی بھی ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ 

ڈاکٹر قدیر خان بتار ہے تھے کہ پاکستان کے مزید ٹکڑے کرنے کے مذموم خواب بھارت دیکھ رہا تھا ایٹمی پاکستان یہ ایک ناممکن منزل تھی جس کو ہم نے ممکن بنا دیا ، ڈاکٹر اے کیو خان کے مطابق 28مئی 1998ء کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کر کے ایٹمی کلب میں شمولیت اختیار کر لی تھی ۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس سے پوری پاکستانی قوم اور دنیا ئے اسلام کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ 

اگرچہ مغربی ممالک کو شک تھا کہ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہے اور ہم جب چاہیں دھماکہ کر سکتے ہیں لیکن کہاوت ہے کہ جب تک دیکھ نہ لو یقین نہیں آتا، 1984 میں ہم نےایٹمی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور میں نے 10 دسمبر 1984ء کو صدر جنرل ضیا ء الحق کو تحریری طو ر پر اس سے آگاہ کر دیا تھا ، ایٹمی دھماکوں سے پیشتر اپریل 1998 ء کو کے آر ایل نے لمبی مار والے بیلسٹک میزائل غوری کا کامیاب تجربہ کیا تھا اور بار ہ سو(1200)کلو میٹر دور ہدف کو صیحح نشانہ بنا دیا تھا۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں  ذوالفقار علی بھٹو ،جنرل ضیا ءالحق ،غلام اسحٰق خان ، آغا شاہی ،جنرل امتیاز ، بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف ،جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے نہایت کلیدی رول ادا کیا تھا۔ 

ایٹمی دھماکوں اور میزائل کی تیاری میں کے آرایل کے کلیدی رول پر تمام سابقہ وزرائے اعظم ،صدور مملکت اور افواج پاکستان کے سربراہوں نے تحریری بیان دیئے ۔ ماضی کے حوالے سے ڈاکٹر خان نے بتایا کہ جولائی 1977 ء میں مارشل لا ء لگنے کے بعد غلام اسحٰق خان صاحب ڈی فیکٹو وزیر اعظم بن گئے اور پروگرام ان کی نگرانی میں آگیا، وہ ہرماہ میٹنگ کرتے تھے اور کام کا جائزہ لیتے تھے ۔ 

ایٹمی دھماکے کا جب وقت آیا تو ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد ہی صدر مملکت رفیق تارڑ ، وزیر اعظم نواز شریف ،آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت ، نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری ، ایئر چیف مارشل پرویز مہدی اور لاتعداد لوگوں نے مبارکباد کے پیغامات بھیجنے ،صدرمملکت رفیق تارڑ نے اپنے ایک خط میں لکھا ،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سےہم نے 28 مئی کو اپنی ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کر دیا ، پوری قوم نے دل وجان سے اپنے سائنسدانوں کے اس کارنامہ کی تعریف کی ،میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو اپنی جانب سے اور پوری قوم کی جانب سے ہماری تاریخ کی اس عظیم ترین کامیابی پر دلی مبارکباد دیتا ہوں ۔

اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیوں اور خوشیوں اور اعزازات سے نواز ے ، (آمین) وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خط میں لکھا کہ آپ کی اور آپ کی ٹیم کی انتھک کوششوں سے تمام رکاوٹوں پر قابو پالیا گیا اور ہمارا دیرینہ خواب کہ پاکستان محفوظ ہو جائے پورا ہو گیا ، حکومت اور پوری قوم کی جانب سے میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو دلی مبارکبادپیش کرتا ہوں اور تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے بہترین کام انجام دے دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو مستقبل میں بھی کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔ 

ایئر چیف مارشل پرویز مہدی نے لکھا ۔ 28 مئی 1998 ء ہماری تاریخ میں ایک ناقابل فراموش دن رہے گا ۔ میں اس کیلئے آپ کے مصمم ارادے اور جدوجہد کو جو آپ نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں کی، ’’سلام کرتا ہوں ‘‘ میں آپ کی قابل و محب وطن ٹیم کو بھی دلی مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ قوم کی توقعات پر پورے اترے ،چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل فصیح بخاری نے لکھا میں اپنی جانب سے اور پاکستان نیوی کے تمام اسٹاف کی جانب سے ہماری تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ،غوری میزائل کی کامیاب لانچنگ اور کامیاب ایٹمی دھماکوں ، پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ 

آپ کی مسلسل اور مصمم جد و جہد و کوششیں اس قومی فریضہ کے انجام دینے میں نہایت قابل تحسین ہیں ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے لکھا ،بلاشبہ یہ کارنامہ ہماری قوم کا آپ کی او رآپ کی ٹیم کی صلاحیتو ں پر یقین اور اعتماد کا اظہار ہے ، آپ کی کامیابیاں پوری قوم کیلئے باعث قوت وقار ہیں ، آغا شاہی نے لکھا ، پاکستان کا ایٹمی قوت بننے کی صلاحیت حاصل کرنے کے دعویدار بالکل صیحح طور پر ڈاکٹر کیو خان ہیں ، جنہوں نے اس ناممکن مشن کو ممکن بنا دیا اور حاصل کر لیا ۔ یہاں ایک اور اہم واقعہ کا ذکر ضروری ہے کہ 28 مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد سعودی عرب کے وزیر دفاع پرنس سلطان ابن سعود اور ان کے صاحبزادے جنرل خالدبن سلطان ابن سعودوزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو مبارکباد دینے پاکستان آئے تو انہو ں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں بے حد دلچسپی لی۔

ڈاکٹر خان نے یاد دلایا کہ 27 فروری 2001 کو ایوان صدر میں ڈاکٹر اشفاق اور میری ریٹائرمنٹ پر الواعی ڈنر ہوا، اس ڈنر میں وزرا ء اعلیٰ سول و فوجی حکام اور سائنسدان شامل تھے جنرل پرویز مشرف نے یاد گار تقریر کی اور کہا کہ آج ہم یہاں اپنے قومی ہیروز کو خراج تحسین اور کہا کہ میری یاداشت مئی 1974کے اس دن کی طرف لوٹ جاتی ہیں جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور جنوبی ایشیاکی سلامتی کے منظر کو بدلتے ہوئے پاکستان کیلئے انتہائی نامساعد صورت حال پیدا کر دی تھی۔ 1971 ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے فوراً بعد اس واقعہ نے ہمارے عدم تحفظ اور جراحت پزیر ہونے کے احساس کو مزید گہرا کر دیا تھا ۔ہمارے روایتی عدم توازن میں ایک اور سبب کا اضافہ ہو گیا تھا اور وہ یہ کہ پاکستان کو اپنی حفاظت کے بارے میں لاحق تشویش کئی گنا بڑھ گئی تھی ۔ اس موقع پر عالمی برادری نے روایتی علامتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی تھی ۔پاکستان کو تن تنہا ہی بھارت کی ایٹمی بلیک میلنگ اور دھمکیوں کاسامنا کرنا تھا اور دوسری طرف پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا نام تک نہ تھا ۔

ایسی صورت میں ہم سب پاکستانیوں کو صرف خدا ہی آسرا تھا، ہم حقیقی معنوں میں مدد کیلئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے ، ہم نے ہمت نہ ہاری اور ہمارا عزم قائم رہا۔ آخر کا راللہ تعالیٰ نے قوم کی دعائیں سن لیں ، ہماری حالت پر رحم آگیا اور ایک معجزہ رونما ہوا، پردہ غائب سے ایک بلند قامت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نابغہ کا ظہور ہو ااور یہ نابغہ روز گار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے ۔ایسے نابغہ جنہوں نےتن تنہا قوم کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کر دیا ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دوبار ’’ نشان امتیاز ‘‘ حاصل کرنا ان کے منفر د پاکستانی ہونے کا ثبوت ہے اور وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں یہ اعزاز دو بارہ دیا گیا۔