• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 1976 کی بات ہے مارگلہ کے سرسبزو شاداب دامن میں ایشیا کی عظیم و الشان فیصل مسجد تعمیر ہو رہی تھی اور اس کے زیر سایہ ایک گھر بھی زیر تعمیر تھا جو سرواقامت گھگنریالے سیاہ بالوں اور درمیانی جسامت والے ایک سائنس دان کیلئے بنایا جارہا تھا۔ 

یہ سائنس دان کوئی اور نہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے یہ وہ دور تھا جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی اشیر باد کے ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے اور اس کا واحد سبب وہ تڑپ تھی جو اسلام اور پاکستان کیلئے ان کے دل میں موجزن ہے یاد رہے کہ سقوط ڈھاکہ کے وقت ٹی وی پر بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے ہاتھوں پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک اور پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کے مناظر دیکھنے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کیلئے کچھ کرنے کے عزم کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور جب ان کی طرف سے حوصلہ بخش جواب ملا تو برازیل سے پاکستان واپسی کیلئے رخت سفر باندھا تھا۔

جس کے دوران انہوں نے خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر بھی حاضری دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب خود کہتے ہیں کہ میں اپنی بیٹری چارج کرانے کیلئے حجاز مقدس جاتا ہوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وطن واپسی کے بعد 10 سال سے بھی کم عرصے میں انتہائی نامساعد حالات کے باوجود وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنانے کا کارنامہ سرانجام دیدیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں جوہری طاقت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی آگئے 1960 میں جامعہ کراچی سے سائنس میں گریجویشن کی بعد ازاں وہ میٹرلریجکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے برلن جرمنی چلے گئے 1967 میں انہوں نے ہالینڈ کی ڈی لیفٹ Delftٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ماسٹر آف سائنس کی سند پائی جبکہ 1972 میں بیلجیم کی یونیورسٹی آف لیون سے ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ 

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یورپ کے ممتاز سائنسی و تحقیقی مراکز میں کام کیا جن میں ہالینڈ کا یورینیم انرچمنٹ پلانٹ بھی شامل ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ اسی مرکز میں کام کرتے ہوئے انہوں نے یورینیم افزودگی کی تیکنیک میں مہارت حاصل کی تھی۔ 

وطن عزیز کے حکمرانوں میں پہلے ذوالفقار علی بھٹو، پھر جنرل ضیاء الحق ، غلام اسحاق خان ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سبھی نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم کا ساتھ دیا تاہم یہ اعزاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حصے میں آیا کہ بلا خر انہی کے دور اقتدار میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے کامیاب جوہری تجربات کر کے دنیا سے خود کو ایٹمی طاقت منوا لیا۔ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ البتہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے تعلقات کشیدہ رہے انہی کے دور حکومت میں ڈاکٹر خان پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی بیرون ملک منتقلی کے الزامات لگے ان سے اعتراف بھی کروایا گیا اور پھر نظر بند کر دیا گیا۔ 

جب امریکی وزیر دفاع لیون پینٹیا کی طرف سے خطرے کی گھنٹی بجائی گئی اور یہ بیان آیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ رہتا ہے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مختصر مگر جامع ردعمل یہ تھا کہ ہمارے ایٹمی اثاثے بیکری میں رکھا ہوا کیک نہیں جو کوئی اٹھا کر لے جائیگا۔ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج نے جامع نظام بنایا ہوا ہے۔ جس میں جنرل ضیاء الحق ، جنرل اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس نظام میں کوئی شخص گڑ بڑ کر سکتا نہ ایٹمی اثاثے اٹھا کر کہیں لے جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے ایٹم بم اس لئے بنایا تھا کہ دفاعی طور پر ناقابل تسخیر ہونے کے بعد ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ 

ہمیں ذہنی طور پر مفلوج رہنمائوں کی نہیں مثبت اور توانا سوچ کی حامل قیادت چاہئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی اسی سوچ کو آگے بڑھانے کیلئے تحریک تخفظ پاکستان کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی ہے اور آئندہ الیکشن میں میزائل کا انتخابی نشان حاصل کرنے کیلئے ان کی جماعت نے الیکشن کمیشن کو درخواست بھی دے رکھی ہے۔ مضبوط خوشحال خود مختار اور خود کفیل پاکستان یقیناً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح مادر وطن سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کا خواب ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب اسی خواب کو آنکھوں میں سجائے اپنی ہر صبح کا آغاز نماز فجر کے بعد تفسیر قرآن کے مطالعہ سے کرتے ہیں مولانا سید ابو الاعلی مودودی ، مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا عبدالماجد دریا آبادی ، مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مفتی محمد شفیع عثمانی کے تراجم و تفاسیر کے بعد ان دنوں ڈاکٹر محمد فاروق خان کی تفسیر قرآن زیرمطالعہ ہے۔ یہ ان کا روزانہ کا معمول ہے۔ 

ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے وہ پریشان حاصل دوستوں کو سورہ تغابن کی آیت اور اس کا ترجمہ سناتے ہیں۔(کوئی مصیبت اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں آتی اور اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا) اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون کی بند گلی میں جہاں ڈاکٹر خان کی قیام گاہ پر سخت پہرہ رہتا ہے کبھی نوجوانوں کے گروپ ان سے ملنے آجاتے ہیں تو وہ ایک ہی نصیحت کرتے ہیں کہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں رٹا نہ لگائیں تا کہ کلام اللہ کا حقیقی پیغام سمجھ سکیں۔ 

ڈاکٹر خان روزانہ ایک گھنٹہ اپنی قیام گاہ میں موجود چڑیا گھر میں گزارتے ہیں جہاں دنیا کہ مختلف ملکوںکے تعلق رکھنے والے انوائو اقسام کے پرندے موجود ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو موسیقی سے بھی لگائو تھا وہ مائیکل جیکسن ، غلام علی ، عابدہ پروین اور اقبال بانو کی گائیکی کہ مداہ ہیں کوئی پوچھے تو صاف گوئی سے بتاتےتھے کہ اقبال بانوں کی گائی ہوئی غزل ستارو! تم تو سو جائو پریشاں رات ساری ہے اور غلام علی کا گیت چپکے چپکے رات دن آنسو بہانہ یاد ہے۔ انہیں بے حد پسند ہے۔ اس کے علاوہ جانثار اختر اور شکیل بدایونی کے لکھے ہوئے جبکہ پٹھانے خان اور راحت فتح علی خان کے گائے ہوئے گیت بھی ان کی میوزک لائبریری کا حصہ ہیں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ مایہ ناز فرزند بہت اچھا شاعر بھی ہے۔ یہ ڈاکٹر خان کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک دلفریب پہلو ہے ۔

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

ستم ظریف ، مگر کوفیوں میں گزری ہے

پاکستان کو ایٹمی ڈھال اور میزائل پاور سے لیس کرنے کا سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی کے سر ہے جن کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں دو بار انہیں نشان پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ انٹر نیشنل ہیرالڈ ٹریبون کا یہ تبصرہ یقیناً حقائق کا آئینہ دار ہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان ہی پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے حقیقی بانی ہیں۔ السٹریڈ ویکلی آف انڈیا کے مطابق بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرح پاکستان کی خدمت کی اور خود کو مادر وطن کیلئے وقف کر دیا تھا۔