• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیگم رعنا لیاقت علی خان (انتہائی دائیں جانب) میت کے پاس بیٹھی ہیں
بیگم رعنا لیاقت علی خان (انتہائی دائیں جانب) میت کے پاس بیٹھی ہیں

مجید لاہوری

قائد ملت کا آخری سفر کس قدر طویل ہے۔ اس سے پہلے وہ دورے پر جاتے تھے کراچی سے مشرقی بنگال پنجاب سرحد بلوچستان سندھ اور پھر واپس کراچی آجاتے تھے۔ پاکستان کے علاوہ وہ باہر کے دورے پر نکلتے تھے انگلستان جاتے تھے پھر پلٹ آتے تھے وہ امریکا گئے مشرقی وسطیٰ گئے ایران گئے دنیا کے گوشہ گوشہ میں انہوں نے پاکستان کے جھنڈے کو اونچا کیا اور پاکستانیوں کی گردن بھی اونچی ہو گئی۔ وہ جہاں کہیں جاتے تھے وہاں سے واپس آجاتے تھے جاتے وقت کئی بار ہم نے انھیں رخصت کیا اور واپسی پر کئی بار ہم نے ان کا شاہانہ استقبال کیا۔

لیکن یہ آخری سفر کتنا طویل تھا وہ کہنے کو تو یہاں سے راولپنڈی گئے تھے ہمیں انتظار تھا کہ وہ دو ایک روز میں واپس آجائیں گے لیکن اب کی وہ اتنے دور چلے گئے کہ جہاں سے کوئی پلٹ کر نہیں آیا۔ ایک بار جب انہوں نے دہلی جانے کا ارادہ کیا تھا۔ ہم نے کہا تھا آپ نہ جائیے حالات مخدوش ہیں وہ ملک جہاں گاندھی جی سلامت نہ رہ سکے وہاں سے آپ کس طرح سلامت آسکیں گے انہوں نے کہا کہ فرض کی ادائیگی سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا میرا خدا پر بھروسہ ہے خدا میری نظر اور مددگار ہے میں ایک نیک مقصد کے لئے جا رہا ہوں وہ مقصد امن ہے انسانیت کی بقاء ہے۔

قائد ملت! نے جان پر کھیل کر یہ سفر کیا۔ سب کہتے تھے یہ سفر بہت ہی مخدوش ہے لیکن انہوں نے پروا نہ کی وہ اس سفر سے بھی نہ صرف بخیر و عافیت بلکہ کامران و بامراد لوٹے۔

مگر یہ آخری سفر کس قدر طویل تھا۔ وہ ایک دن کے بعد اس سفر سے جسمانی طور پر کراچی واپس آئے۔ لیکن روحانی طور پر وہ بہت دور چلے گئے۔ آنسووں آہوں اور کراہوں نے ہوائی اڈہ پر ان کا استقبال کیا لاکھوں روتی ہوئی آنکھوں نے ان کی قیام گاہ پر ان کو آخری بار دیکھا اور پھر جنازے کا جلوس نکلا۔ کراچی نے اس سے پہلے اتنا بڑا ہجوم کہیں نہیں دیکھا۔ لاکھوں عقیدت بھری نگاہیں آنسو بہارہی تھیں۔ چہرے افسردہ و مغموم تھے۔

جب جنازہ قائدآباد کے قریب پہنچا تو مہاجر عورتوں اور بچوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا۔ مہاجروں کو جب کبھی تکلیف ہوئی انہوں نے قائد ملت کے سامنے اپنا دکھ درد پیش کیا۔ قائد ملت کی محبت اور شفقت کو وہ کیسے بھول سکتے ہیں وہ قائد ملت جس نے دفاع کے بعد سب سے زیادہ اہمیت مہاجرین کی آبادکاری کو دی تھی۔ مہاجر آج محسوس کررہے ہیں کہ وہ یتیم ہو گئے۔ ان کا سہارا ٹوٹ گیا۔

غروب آفتاب سے پہلے قائد ملت کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ قائداعظمؒ کا جانشین قائداعظم کے پاس پہنچ گیا اس پہلے۔۔۔

قائد ملت اپنے دورے میں بڑے لوگوں سے ملتے تھے اب وہ قائداعظمؒ سے ملنے گئے ہیں وہ قائداعظمؒ سے کہہ رہے ہوں گے کہ میرے قائد! تو نے جو امانت میرے سپرد کی تھی میں نے اس کی مرتے دم تک حفاظت کی تونے جس پاکستان کی بنیاد رکھی تھی میں نے اس کی تعمیر کی اُسے مستحکم اور مضبوط بنایا چار برس کی قلیل مدت قوموں کی زندگی کا ایک لمحہ ہے اس ایک لمحہ میں اے میرے قائد! میں نے پاکستان کو دنیا کے زندہ اور ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کر دیا اور آخر کار میں نے اس امانت کی بقا کے لئے اپنی جان تک پیش کردی میرے پاس ایک دولت تھی میں نے کوٹھیاں نہیں چھوڑیں، ریلیں نہیں بنائیں، جاگیریں نہیں چھوڑیں میں نے سب کچھ ملت کی نذر کر دیا۔

اب قائد ملت! اس صفر سے واپس نہیں آئیں گے مگر وہ ہم سے دور گیا وہ ہمارے دلوں میں اس طرح آباد ہیں جس طرح قائداعظمؒ۔ قائداعظمؒ اور قائد ملتؒ نے "اتحاد تنظیم اور یقین محکم" کے اصول کے لئے زندگی بھر کام کیا۔ یہی اصول پاکستان کے استحکام اور بقا کی ضمانت ہے۔

آئیے ہم اس اصول کو لے کر قائد ملتؒ کے ساتھیوں کی رہنمائی میں شاندار مستقبل کی طرف بڑھیں۔

طبِّ پاکستان ---- پائندہ باد!

مملکتِ پاکستان ---- زندہ باد!