• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برٹش ایشین ٹرسٹ کی پاکستانی خواتین کی بہتری کیلئے 2 ملین پونڈز کی سرمایہ کاری

لندن (جنگ نیوز) برٹش ایشین ٹرسٹ برطانوی حکومت سے حاصل کردہ 2 ملین پونڈز (46 کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، یہ رقم ایسی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے پروگرام میں ان پاکستانی خواتین کی مدد کے لئے خرچ کی جائے گی جن کی روزی کوویڈ۔ 19 سے متاثر ہوئی ہے۔ ویمنز اکنامک امپاورمنٹ پروگرام کے ذریعے پاکستانی خواتین کو ہنر، علم اور اعتماد سے آراستہ کیا جا رہاہے جو نوکری تلاش کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اب تک اس نے9800 سے زیادہ خواتین کو اپنی آمدنی بڑھانے میں مدد فراہم کی گئی ہے۔ 3400سے زائد خواتین کو تنخواہ کے ساتھ انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع فراہم کئے گئےہیں اور 7000 سے زیادہ خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ برٹش ایشین ٹرسٹ کی پاکستان ڈائریکٹر کمیلا ماروی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کی مالی معاونت سے پروگرام نے 2017 سے 2020 تک 10 ہزار سے زائد خواتین کو محفوظ ملازمتوں کے حصول یا اپنے بزنسز قائم کرنے میں مدد دی ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں وسیع پیمانے پر غربت، عدم مساوات اور ناانصافی سے نمٹنے کے لئے برٹش ایشین ٹرسٹ کی بنیاد ایچ آر ایچ دی پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس اور برطانوی ایشیائی کاروباری رہنماؤں نے 2007 میں رکھی تھی۔ برٹش ایشین ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ہاکس نے کہا ہے کہ ہم مکمل طور پر 4.69 ملین پونڈز (108 کروڑ روپے) کی ناقابل یقین رقم جمع کر کے بہت خوش ہیں۔ اس میں 2 ملین پونڈز کی وہ رقم بھی شامل ہے جو کہ برطانیہ کی حکومت نے فراہم کی ہے۔ یہ امر انتہائی اہم ہے کہ ہم سب پسماندہ لوگوں اور برادریوں کی مدد کے لئے اکٹھے ہوں، خاص طور پر وہ لوگ، جن کی زندگی وبا کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا یہ حکومت، عوام اور ایک فلاحی ادارے کی ایک بہترین مثال ہے، جو ناقابل یقین حد تک کامیاب چیز پر کام کر رہی ہے، جس سے لاکھوں خواتین کی زندگی بدل جائے گی۔ برٹش ایشین ٹرسٹ کی جانب سے کوویڈ کے بعد کی بحالی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے دیگر اقدامات میں "پیلس آن وہیلز" چیرٹی سائیکل سواری شامل ہے، جس میں ایچ آر ایچ پرنس آف ویلز نے پاکستانی اور برٹش ایشیائی سائیکل سواروں کو 400 کلومیٹرکے چیلنج پر روانگی کے موقع پر الوداع کہا۔ اس مہم کو برٹش ایشین ٹرسٹ کے سفیروں بشمول بین الاقوامی پاپ سٹار کیٹی پیری، برطانوی اداکار سنجیو بھاسکر، ٹی وی پریزینٹر کونی حق، چارٹ ٹاپنگ کرنے والے برطانوی موسیقار شرارتی لڑکے، انگلینڈ کے کرکٹر جوس بٹلر اور پاکستانی میوزک استاد راحت فتح علی خان نے سپورٹ کیا۔ فنڈ ریزنگ کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر برٹش ایشین ٹرسٹ نے اپنی پہلی ٹی وی اپیل کے لئے مشہور پاکستانی چینل جیو ٹی وی کے ساتھ تعاون کیا۔ برٹش ایشین ٹرسٹ نے سن رائز ریڈیو میں ایک اشتہاری مہم اور ناز لیگیسی فاؤنڈیشن کے ساتھ ورچوئل افطار کی ایک سیریز کی میزبانی کی۔

یورپ سے سے مزید