• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر پنجاب کا دورہ برسلز اختتام پذیر، یورپی پارلیمنٹ کی کئی اہم کمیٹیوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور یورپین دارالحکومت برسلز کا اپنا چار روزہ دورہ مکمل کرکے وہاں سے روانہ ہو گئے ہیں۔ اپنے اس دورے میں انہوں نے یورپین پارلیمنٹ کے 3 نائب صدور ، 3 اہم ترین پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہوں، 2 کمیٹیوں کے وائس چیئرمینز ، ڈیلیگیشن برائے افغانستان کے چیئرپرسن سمیت 2 درجن ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات کی۔

گورنر پنجاب نے پارلیمنٹ میں موجود مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے جن 3 نائب صدور سے ملاقات کی ان میں گورنر کو اس دورے کی دعوت دینے والے نائب صدر فابیو ماسیمو کیستالدو ایم ای پی، ہیدی ہوتالا ایم ای پی اور پیڈرو سلوا پیریرا شامل تھے۔

اسی طرح جن اہم کمیٹیوں کے چیئر اور وائس چیئر سے ان کی ملاقات ہوئی اس میں سب کمیٹی آن ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن ماریا ارینا ایم ای پی، وائس چئر برنارڈ گوئٹا ایم ای پی اور یورپین پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے بین الاقوامی تجارت کے چیئرپرسن برنڈ لانگ ایم ای پی اور ایوو لیو ونکلر ایم ای پی شامل تھے۔

اس کے علاوہ گورنر پنجاب سول لبرٹیز، جسٹس اینڈ ہوم افئیرز کمیٹی کے چئیر جوآن فرنیندو لوپیز ایم ای پی اور ڈیلیگیشن برائے افغانستان کے چیئرپرسن پیتراس آستریویسیس ایم ای پی سے بھی ملے اور افغانستان کے حوالے سے ان تک پاکستان کا موقف پہنچایا۔

ان تمام ملاقاتوں میں یورپین یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں سفیر پاکستان ظہیر اے جنجوعہ اور ان کی ٹیم نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی بھر پور معاونت کی۔

اس دورے میں گورنر پنجاب نے جن اہم کمیٹیوں کے ممبران سے ملاقاتیں کیں ان میں کمیٹی برائے بین الاقوامی تجارت اور فارن افئیرز کمیٹی کے ممبران نمایاں تھے۔

اپنے دورے کے آخری روز انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ برطانیہ سے سابق رکن یورپین پارلیمنٹ ڈیوڈ مارٹن ان کے یورپین افئیرز کیلئے کو آرڈینیٹر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہاں کے دورے میں انہوں نے جی ایس پی پلس، بھارت کی جانب سے باسمتی چاول کے حقوق کے دعوے اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پہنچایا ہے۔

انہوں نے امید ظاہرکی کہ ان کے اس دورے کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کو یورپین پارلیمنٹ پر پوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی مسلسل ضرورت ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید