• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھرپارکر اور عمرکوٹ کا شمار سندھ کے مفلوک الحال اضلاع میں ہوتا ہے۔ چند عشرے قبل تک یہاں کے باسیوں کو سوائے روزی روٹی کے کسی چیز کا علم نہیں تھا، مگر اب یہاں منشیات کی بھرمار ہوگئی ہے بلکہ چند روز قبل کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن بھی پکڑی گئی۔ عمر کوٹ کے نواحی علاقوں میں دیسی شراب کی ہزاروں بھٹیاں چل رہی ہیں ۔اس شراب میں نہ جانے ایسا کون سا کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے جسے ایک مرتبہ پینے کے بعد لوگ اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔ 

ان اضلاع میں غیر ملکی شراب کی دکانیں بھی موجود ہیں، جنہیں صرف غیر مسلموں کو شراب کی فروخت کا لائسنس دیا جاتا ہے لیکن وہ غیر قانونی طور پر یہ شراب مسلمانوں کے ہاتھ بھی فروخت کرتے ہیں۔ اس کاروبار میں مبینہ طور پر پولیس اور محکمہ ایکسائز کا عملہ بھی ملوث ہے۔ عمرکوٹ میں دو دکانوں کے پاس شراب کی فروخت کا لائسنس ہے جب کہ 70 سے 80 دکانیں بغیرپرمٹ کے کاروبار کررہی ہیں۔

عمرکوٹ شہر کے علاوہ ڈھورونارو ، کنری ، پتھورو ، چھور ، سامارو ،بنی سر سمیت دیہی قصبات میں گٹکا، مین پڑی چرس کھلے عام فروخت ہورہی ہے۔ حکومت سندھ کے بار بار اعلان کے باوجود منشیات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ عمرکوٹ میں ہیروئن کی فروخت کے اڈے بھی قائم ہوگئے ہیں ’’حملمہر ‘‘ گاؤں اس کی خریدو فروخت کے لیے شہرت حاصل کرچکا ہے۔

یہاں کسٹم، نارکوٹکس اورمحکمہ ایکسائز نے متعدد مرتبہ چھاپے مارے لیکن قبل ازوقت مخبری ہونے کی وجہ سے یہ محکمے منشیات اور اڈہ مالکان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔گزشتہ دنوںحمل گاؤں سے ایک گاڑی کے ذریعے بھاری مقدار میں ہیروئن گڈڑو بارڈر کے راستےبھارت لے جائی جارہی تھی کہ اطلاع ملنے پر نارکوٹکس حیدرآبادکی ٹیم نے چھاپہ مار کر پانچ افراد کو گرفتار کرکے گاڑی اپنی تحویل میں لے کر 82 کلوگرام ہیروئن برآمد کرلی جب کہ ان کا سرغنہ یار محمد مہر فرار ہو گیا ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کی ترسیل کے راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔ عمر کوٹ اور تھرپارکر میں منشیات کے اڈوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید