• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک کویتی اسائلم سیکر کا ڈیوڈ ایمز کو حقیقی مددگار کے طور پر خراج عقیدت

لندن ( پی اے) ایک اسائلم سیکر نے جمعہ کو رکن پارلیمنٹ کے قتل کے بعد سر ڈیوڈ ایمز کو حقیقی مددگار کے طور پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔69 سالہ رکن پارلیمنٹ پر ایسیکس کے ایک حلقے کی سرجری کے دوران انتہائی تکلیف دہ واقعے میں کئی بار چاقو کے وار کئے گئے۔37 سالہ احمد جابر، جو ساؤتھ اینڈ آن سی میں رہتا ہے، ستمبر 2019 میں انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن سے یو سی ایل میں ماسٹر ڈگری کیلئے برطانیہ آمد کے بعد رکن پارلیمنٹ سے بات کی تھی۔ اس نے پی اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جب میں اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کے لئے تیاری کر رہا تھا تو بعض حالات آڑے آ گئے کیونکہ میں کویت میں ایک دیسی بے وطن کمیونٹی سے آیا ہوں جسے ’’ بدو‘‘ کہا جاتا ہے۔ مسٹر جابر نے کہا کہ وہ کویت میں حکومت کو بے نقاب کرنے کے اپنے تعلیمی کام کے امکان کی وجہ سے زیادہ خطرے میں پڑ گیا تھا۔ مسٹر جابر نے کہا کہ جب اسے 3 جون 2021 کو ہوم آفس نے ساؤتھ اینڈ آن سی منتقل کیا تو دوستوں نے کہا کہ آپ کے رکن پارلیمنٹ کنزرویٹو ہیں، وہ قدامت پرست تصورات کی وجہ سے آپ کی مدد نہیں کریں گے۔ اس نے مزید کہا کہ میں ان سے رابطے کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے بات کی تو انہیں بہت خوش اخلاق اور ایک اچھا سننے والا پایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں مشکل میں مبتلا ہوں، مجھے ہوم آفس نظر انداز کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس زاویئے سے دیکھیں، میں کام کر سکتا ہوں کیونکہ میری اہلیت ہے، میرے پاس ماسٹر ڈگری ہے۔ میں کام کرکے ٹیکس ادا کر سکتا ہوں اور نظام، رہائش اور رزق پر انحصار کرنے کی بجائے معیشت کو سہارا دے سکتا ہوں اور ان کے لئے یہ معنی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں اور معاملے کا جائزہ لے کر میری مدد کریں گے اور انہوں نے واقعی مددکی۔ جب مسٹر جابر کو ہوم آفس کی طرف سے سیاسی پناہ کے دعوے کے بارے میں عمومی ردعمل ملا تو سر ڈیوڈ نے ہوم آفس سے دوبارہ رابطہ کیا اور کہا کہ ہمیں حقیقی جواب کی ضرورت ہے، ہمیں اس بارے میں اپ ڈیٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر جواب درست نہیں آتا تو براہ کرم مجھے دوبارہ کال کریں اور جب تک ہم انصاف حاصل نہیں کرتے میں آپ کی حمایت جاری رکھوں گا۔ جب سر ڈیوڈ کی موت کی خبر آئی، مسٹر جابر ہوم آفس کو بھیجنے کے لئے ایک نیا بیان بھجوانے کی تیاری میں تھے۔ اس نے مزید کہا کہ میں اسے واپس سر ڈیوڈ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ جب میں نے ان کے قتل کا سنا تو میں بہت مایوس ہوا لیکن اب مجھے اپنے حالات کی پرواہ نہیں ہے۔ میرا دل، میرے خیالات ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان کا خاندان اس وقت کتنا دکھ میں ہے۔ انہوں نے کم از کم میرے معاملے میں انصاف کیا۔ وہ بہت مددگار تھے اورانہوں نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا۔ سر ڈیوڈ کو ساتھی سیاستدانوں نے مہذب اور سچا آدمی قرار دیا ہے۔ سابق کنزرویٹو وزیراعظم تھریسا مے نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ ایک مہذب آدمی اور قابل احترام پارلیمنٹیرین تھے جو اپنے عوامی فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی ہی کمیونٹی میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جمہوریت کے لئے ایک المناک دن ہے۔ برٹش ریڈ کراس کے چیف ایگزیکٹو مائیک ایڈمسن نے کہا کہ ہم اس افسوسناک خبر سے شدید صدمے اور دکھ میں ہیں۔ ڈیوڈ ایمز ایم پی نے برٹش ریڈ کراس کے رضاکاروں سے ملاقاتیں کیں اور ہمارے کام میں مدد کی۔ ہمارے خیالات ان کے خاندان، دوستوں، ساتھیوں اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔

یورپ سے سے مزید