| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
امجد صابری قتل کی ٹوپی بھی متحدہ کے سرپر فٹ کرنیکی کوشش ہو رہی ہے ، فاروق ستار

Todays Print

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ شہید امجد صابری کے بہیمانہ قتل کی ٹوپی بھی کسی طرح ایم کیوایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، شہر میں چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا اغواء ، امجد صابری شہید کا قتل، ایک قادیانی ہومیو پیتھی ڈاکٹر کی ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ مافیا کاایک بار پھر سراٹھانا اور اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوئچ اون کردیا گیا ہے یہ واقعات خود بخود نہیں ہورہے ہیں بلکہ کرائے جارہے ہیں ، کوئی بھی اسلام آبادیا آتا ہے تو کراچی کی قسمت میں صرف آپریشن در آپریشن اورنیا آپریشن ہی ہے ، پوری دنیا میں جہاں کہیں آپریشن ہوتے ہیں اسکے ساتھ سوشل اکنامی پیکیج دیئے جاتے ہیں ، کبھی سنا کہ کراچی کی ترقی کیلئے 4، ارب روپے رکھے ہیں؟، وفاقی اورصوبائی بجٹ میں کراچی کیلئے کوئی سوشل اکنامی پیکیج نہیں ہے ۔ انہوں نے شکوہ کیاکہ خواہ سیاسی و عسکری قیادت ہو وہ بھی جب کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھتی ہیں تو صرف کراچی میں ایک نئے آپریشن کیلئے بیٹھتی ہیں ،کراچی کے لوگوں کے درد کو دور کرنے، ان کے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے کوئی اعلان اس طرح کی میٹنگوں کے بعد نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی اسٹرٹیجک اہمیت ہے ، کراچی میں پانی کی ضرورت پاکستان کی اسٹرٹیجک  ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین شبیر قائم خانی ، زاہد منصوری ، عارف خان ایڈووکیٹ اور اسلم آفریدی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ یہ پریس کانفرنس پاکستان کے حکمرانوں ، پالیسی ساز اداروں اور وفاقی اور صوبائی حکومت کیلئے ایک ایس او ایس کال ہے ، کہ ہم انہیںجھنجوڑ ڑ سکیں اور شہر کراچی اور کراچی کے عوام کی بے بسی ، ان کے مصائب اور مشکلات سے انہیں آگاہ کرسکیں اور انہیں پاکستان اور اس کی یکجہتی کا واسطہ دیکر یہ بآور کراسکیں کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، موقع ہاتھ سے نکلا جارہا ہے اگر اب بھی وہ کراچی کے عوام اور کراچی کی داد رسی کریں تو معاملہ ابھی ابھی قابل واپسی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کراچی اور کراچی کے عوام کو دیوار سے لگایاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک واقعہ سنگین نوعیت کا ہوا ، ایم کیوایم کے کارکن اور میرے کو آرڈی نیٹر آفتاب احمد کو بہیمانہ تشدد کرکے شہید کیا گیا، آرمی چیف نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونگے، ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن انکوائری کے کیا نتائج برآمد ہوئے ان سے ہمیں اور عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو جواز بنا کر ایک نیا آپریشن کراچی والوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امجد صابری کے قتل کی ٹو پی ایم کیو ایم کے سر فٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فنکار بھی میدان عمل میں آگئے، تھانوں میں جارہے ہیں، ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ فنکاروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سال سے مقامی حکومت نہیں ہے ، سات ماہ سے میئر ، ڈپٹی میئر کے الیکشن نہیں کرائے جارہے ہیں یہ ساری باتیں اشتعال پیدا نہیں کریں گی تو کیا کریں گی؟ ۔ میئر کے آنے سے قبل ہی کے ڈی اے کو الگ کردیا گیا ، بلدیاتی فنڈ اللّوں اور تللِّوں میں اڑا دیا گیا، بارشورں سے ہا ہا کار، کہرام مچا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس میں 20ہزار بھرتیوں میں اگر تین ہزار کراچی کے نوجوانوں کو بھرتی کیاجائے تو وہ فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہوجائیں گے تو ریٹائرڈ فوجیوں کو لینے کی کیا ضرورت ہے، پولیس میں بھرتیاں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر کی جائیں اور فرمائشی پروگرام نہ چلایاجائے۔ انہوں نے کراچی کے عوام سے ایک مرتبہ پھر صبر کی اپیل کرتے ہوئے یہ شعر بھی پڑھا کہ’’برا وقت سب ہی پر آتاہےکوئی بکھر جاتا ہے کوئی نکھر جاتا ہے‘‘۔