• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سے اردو میں لکھے محبت نامے سزا کے پروانے بن گئے

Love Letters In Urdu From Pakistan Land A Muslim Youth In Jail For 11 Years
رفیق مانگٹ.....بھارتی شہری کے لیے محبت نامے سزا کے پروانے بن گئے۔ رام پور کے جاوید کو اس کی پاکستانی رشتہ دار اردو میں محبت نامے لکھتی تھی۔

بھارتی پولیس نے ان محبت ناموں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے خطوط قرار دیا اور اس پر تشدد کرکے جیل میں ڈال دیا، جاوید کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ساڑھے 11 سال لگ گئے۔

بھارتی اخبارات سیاست اور دکن کرونیکل کے مطابقپاکستان سے اردو میں لکھے محبت ناموں نے بھارتی شہری کوساڑھے گیارہ سال جیل کی سزا کروادی۔

یہ واقعہ رام پو ر کے ایک ٹی وی مکینک جاوید کے ساتھ پیش آیا جسے جیل میں گیارہ سال اور چھ ماہ تک اس لئے رکھا گیا کہ اس کے پاس سے اردو میں لکھے محبت نامے برآمد ہوئے۔

جاوید 1999 میں اپنی والدہ کے ساتھ رشتہ داروں سے ملنے دو ماہ کے لئے پاکستان آیا ،یہاں اسے اپنی ایک رشتہ دار ’مبینہ‘نامی لڑکی سے محبت ہوگئی۔

جاوید نے ایک ویب پورٹل پر اپنی المیہ داستان بیان کرتے ہوئے لکھا کہ 10اگست2002کی صبح پولیس نے اسے اس وقت حراست میں لیا جب وہ ڈگر ی کالج روڈ پر اپنی دکان کھول رہا تھا۔

پولیس نے اس پر تین دن تک تھرڈ ڈگری ٹارچر کیا کہ اس کے پاکستان سے آئے اردو میں لکھے ہوئے محبت نامے دراصل پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے وہ خطوط ہیں جو اسے مبینہ نامی لڑکی بن کر لکھے گئے۔

پولیس نے یہ اعترافی بیان لینے کےلئے اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔ جاوید کا کہنا تھا کہ مبینہ پاکستان میں اس کی ایک رشتہ دار ہے جس نے اسے اردو میں آٹھ خطوط لکھے۔جاوید نے وہ سارے خطوط تیسرے دن عدالت میں پیش کردیئے۔

جاوید کا کہنا تھا کہ بعد ازاں بھارتی میڈیا نے اس کاٹرائل شروع کردیا جوپولیس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا، پھراسے جیل بھیج دیا گیا جیل میں کچھ عرصہ بعد اسے معلوم ہوا کہ جس دن اس کی گرفتاری ہوئی، اسی دن اس کے دوستوںمقصود اور تاج محمد کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

پولیس  نے بریلی کینٹ کا نقشہ سامنے لاکران دونوں پر تشدد کیا کہ وہ اس کا اعتراف کریں کہ یہ نقشے جاوید اور ان دونوں سے برآمد ہوئے ہیں۔

اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے میں جاوید کوساڑھے11 سال کا عرصہ لگا، آخر کار 2014 میں اسے رہا کردیا گیا۔رہائی کے دوسال بعد بھی وہ نصف رات کو جیل کے ڈرائونے خوابوں کی وجہ سے بیدار ہو جاتا ہے۔

جاوید کا کہنا ہے کہ جیل میں اس کا مبینہ سے رابطہ بھی ختم ہوگیااور واپس آنے کے بعد بھی وہ نہیں جانتا کہ اس کی پاکستان میں شادی ہوچکی ہے یا نہیں ۔

جاوید اس بے یقینی کا بھی شکار رہا کہ لڑکی کواس کے جیل جانےکا واقعہ معلوم ہے۔ تاہم جاوید اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہے۔اسی وجہ سے ا س نے تصاویر کا بھی تبادلہ نہیں کیا،وہ اب کسی نئے شہر میں بسنا چاہتاہے جہاں اسے کوئی نہ جانتاہو۔
تازہ ترین