• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

امریکی صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق 150 دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، دھاتیں اور توانائی آلات سمیت زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی شامل ہے، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔

اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ 

عدالت نے تین کے مقابلے میں چھ ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا، ٹرمپ نے فیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے ساری دنیا پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، فیصلے سے دنیا خوش ہوگی مگر اس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیرف سے حاصل رقم واپسی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیر اثر آگئی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرار ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا۔

امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید