• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم پاکستان دھڑوں میں تقسیم

کراچی ( سہیل افضل ) سندھ اسمبلی ، ایم کیو ایم پاکستان کی باہمی لڑائی، سندھ اسمبلی میں پہنچ گئی ،ایوان میں ایم کیو ایم پاکستان دھڑوں میں تقسیم، اجلاس کے دوران ایم کیو ایم رکن رانا شوکت نے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھکیوں کے الزامات عائد کر دیئے ، رانا شوکت نے اپنے ساتھی شارق جمال پر قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شارق جمال نے دھمکی دی ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے پولیس کو ایوان میں طلب کرلیا، اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی،دونوں ارکان میں صلح صفائی کے بعد پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اورحیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔ یہ دھمکی انہیں انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعدمیں بار جوائن کروں گا پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔ وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ اسپیکر ہاؤس کے کسٹوڈین ہے۔ ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے رکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن کچھ مسلح افراد ان دفتر میں آئے تھےشوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے عمران محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے اوراسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں ۔اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ رکن رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے ۔ ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے ۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔

اہم خبریں سے مزید