بلوچستان کے علاقے سوئی گیس فیلڈ سے گیس نکالنے اور ترسیل کیلئے حکومت اور پاکستان پیڑولم لمیٹڈ کے درمیان 31 سالہ معاہدے کی مدت اب ختم ہونے میں صرف ایک ماہ رہ گیا ہے ،اٹھارویں ترمیم کے تحت آئندہ معاہدہ صوبائی حکومت کی رضامندی سے ہوگا ۔
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں گیس کی دریافت 1952ء میں ہوئی،وفاقی حکومت نے 15ستمبر 1955ءمیں سوئی سے گیس نکلنے اور اس کی ترسیل کا کام پاکستان پیڑولم لمیٹڈ کو 30سال کیلئے سپرد کیا ۔اس معاہدے کے اختتام سے4ماہ قبل 15مئی 1985ءکو وفاقی حکومت نے معاہدے میں 30سال کی مزید توسیع کردی ۔
اس معاہدے کی مدت 15مئی2015 میں اختتام پذیر ہوئی تو وفاقی حکومت کو اس کی توسیع کا خیال آیا مگر اٹھارویں ترمیم آڑے آگئی ، وفاقی حکومت نے پی پی ایل کو ایک سال مزید کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے نئے معاہدے کیلئے بلوچستان حکومت سے رابط کیا تو صوبائی حکومت نے نئی شرائط رکھ دیں ۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں اُس وقت کی حکومت نے گیس آمدنی میں سے نصف حصہ صوبے کو دینے کا مطالبہ کیا جس پر وفاقی وزیر پیڑولیم خاقان عباسی نے کوئٹہ آکر صوبائی حکومت سے مذاکرت کئے ،تاہم حتمی معاہدہ تشکیل نہ پاسکا ، نواب ثنا اللہ زہری کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیئے گئے ہیں جو اس معاہدے کے مختلف پہلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سوئی گیس فیلڈ سے گیس نکالنے اور ترسیل کیلئے حکومت اور پاکستان پیڑولم لمیٹڈ کے درمیان معاہدے کی مدت اب ختم ہونے کو ہے،صوبے کے ماہرین کی رائے ہے کہ صوبائی حکومت کو جہاں گیس آمدنی سے ملنے والے حصے میں اضافے کیلئے جدوجہد کرنا چاہیے وہیں اس معاہدے کی معیاد بھی 30 سال سےکم کر کے 5 سال کرنا چاہیے۔