• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاناما لیکس نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ہے۔آئس لینڈ کے وزیراعظم اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بعد مستعفی ہوچکے ہیں۔پاکستان میں بھی اس حوالے سے سیاسی درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔اگرچہ وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کے دوران اپنی اور اپنے خاندان کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے مگرعوامی توقعات کے برعکس ان کاخطاب غیر متاثرکن اور مایوس کن رہا۔ہوناتویہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم نوازشریف سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بااختیار کمیشن تشکیل دیتے جوپاناما لیکس کے انکشافات کی تحقیقات کرتا اور قوم کے سامنے اصل حقائق آتے۔حیران کن امریہ ہے کہ ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جس عدالتی کمیشن کااعلان کیاگیا ہے وہ عقل وفہم سے بالاترہے۔اس اعلان کردہ عدالتی کمیشن میں وزیراعظم نوازشریف نے کوئی ٹائم فریم بھی نہیں دیا ہے کہ آخر کتنے وقت میں یہ کمیشن اپنی رپورٹ پیش کریگا۔بدقسمتی سے وطن عزیزپاکستان میں جمہوری روایات ابھی تک پنپ نہیں سکیں۔پاناما لیکس نے عالمی سیاست میں بھونچال برپاکردیا ہے۔ فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، چین، امریکہ، برطانیہ اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی اعلیٰ سطحی تحقیقات کاآغاز کردیا گیا ہے۔وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نوازنے بھی میڈیا میں اس بات کااعتراف کیا ہے کہ حسن نوازاور انکے نام پر3آف شور کمپنیاں ہیں۔ مریم نوازبھی ان کمپنیوں میں شیئرہولڈر ہیں۔شریف فیملی کے اس اعتراف کے بعد ایک ایسا جوڈیشل کمیشن تشکیل پانا چاہئے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں اعلان کئے گئے عدالتی کمیشن کومسترد کردیا ہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ ملک میں قومی احتساب بیورو کے ادارے سے کیوں تحقیقات کاآغاز نہیں کیا گیا ؟اگر سندھ میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف نیب تحقیقات کرسکتی ہے توپھر شریف فیملی اور250پاکستانیوںکیخلاف نیب سے تحقیقات کرانے سے کیوں گریز کیاجارہا ہے؟جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے درست نشاندہی کی ہے کہ آف شور کمپنیاں کالادھن،اثاثے چھپانے،کک بیکس کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔اگر آف شور کمپنیاںقانونی ہیں توپھر پاکستان میں بھی اس کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟۔یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت نیب سے فرار چاہتی ہے۔احتساب کاعمل سب کیلئے ایک جیساہونا چاہئے۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین پر برطانیہ میں منی لانڈرنگ کاکیس چل رہا ہے۔سرفرازمرچنٹ نے بھی اس ضمن میںایف آئی اے کو معلومات اور شواہد فراہم کردیئے ہیں۔پیپلزپارٹی کے کئی رہنمائوں کیخلاف سندھ میں بھی نیب تحقیقات کررہا ہے۔اسی تناظر میں اگر حکمران خاندان نے اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر سمجھا یا رسمی کارروائی کرکے اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کی تویہ قوم کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہوگا۔اگراب بھی ملکی دولت لوٹنے والوں اور قومی سرمائے کوبیرون ملک منتقل کرنیوالوں کا احتساب نہیں ہوتا تو نیب کے ادارے کاکوئی اخلاقی جواز نہیں رہیگا۔پاناما لیکس نے شریف فیملی سمیت جن 250پاکستانیوں کے نام دیئے ہیں ان میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور رحمان ملک کے نام بھی شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کو بینظیر بھٹو اور رحمان ملک کی آف شورکمپنیوں کے بارےمیں اپنی وضاحت پیش کرنی چاہئے۔آف شور کمپنیوں کے معاملے کوپارلیمنٹ میں بھی اٹھایا جانا چاہئے۔یہ ایک اہم اور سنگین ایشو ہے۔اپوزیشن کوپارلیمنٹ میں حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ پاناما لیکس میں جن پاکستانیوں کانام لیا گیا ہے انہوں نے یہ ملکی سرمایہ آخر کس بینک سے بیرون ملک بھجوایا؟اور کیااس قومی سرمائے پر ٹیکس اداکیا گیاہے؟۔
وطن عزیزپاکستان کو اگر ہم نے حقیقی معنوں میں خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے توہمیں احتساب کاعمل اب بلاتاخیرشروع کرنا ہوگا۔طرفہ تماشایہ ہے کہ شریف فیملی پر لگنے والے الزامات کاجواب میڈیا میں بھونڈے انداز میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید،راناثناء اللہ اور دانیال عزیزدیتے رہے۔حالانکہ یہ ان کے منصب کے منافی تھا اور غیر سنجیدہ طرزعمل کی عکاسی کرتاہے۔اس وقت ملک میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت ہے۔شریف فیملی تیسری باربرسراقتدار ہے۔کیونکہ یہ ایک حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے اس لئے وفاقی اور صوبائی وزراء کویہ زیب نہیں دیتا تھاکہ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی دوڑ میںشریف خاندان کے بارے میں وضاحت کرتے پھررہے ہیں۔ماضی میں حسین نوازپہلے توبیرون ملک اپنی کمپنیوں اور اثاثوں کے بارےمیں انکارکرتے رہے البتہ چندروزقبل انہوں نے اس بات کااقرار کرلیا تھا کہ بیرون ملک شریف فیملی کی کچھ کمپنیاں اور برطانیہ میں اثاثے موجود ہیں۔آف شور کمپنی کیاہے؟اوریہ کیسے بنتی ہے؟آپ دنیا کے کئی ملکوں میں صرف 200 سے 400 ڈالر جمع کراتے ہیں اور آف شور کمپنی کے مالک بن جاتے ہیں۔آف شور کمپنی کامالک بننے کے بعد آپ سے یہ نہیں پوچھاجاتاکہ یہ پیسہ آپ کے پاس کہاں سے آیا؟بلکہ ان کمپنیوں کے ذریعے کالے دھن کوسفید کردیاجاتا ہے۔شریف فیملی کے ترجمان نے یہ عجیب منطق بیان کی ہے کہ اگر پاکستان میں کاروبار کریں تو الزام لگتاہے کہ حکومت سے مراعات لیتے ہیں۔اسی لئے وزیراعظم کے صاحبزادوں نے بیرون ملک کاروبار میں سرمایہ لگایاہے۔سوال یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم نوازشریف،سابق صدر آصف علی زرداری، رحمان ملک اور دیگر پاکستانی سرمایہ دارسیاستدان اپنا سرمایہ پاکستان میں نہیں لاتے تو آخر کس طرح بیرونی سرمایہ کارہمارے ہاں آکر سرمایہ کاری کرینگے؟حکومت جتنی مرضی سرمایہ کاری کانفرنسیں دبئی اور پاکستان میں کرلے اس کا کچھ خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ جب تک حکمران طبقہ اپناسرمایہ ملک میں نہیں لائیگا اس وقت تک یہ کارلا حاصل ہوگا۔وزیر اعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کوحکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک مثال بننا ہوگا۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے بھی بیرون ملک کاروبار کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسحاق ڈار اس بات کے متمنی بھی ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں آکر انویسٹمنٹ کریں۔یہ سوال پہلے بھی اٹھتارہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں شامل کئی سیاستدان اپنے حقیقی اثاثے ظاہر نہیں کرتے اور الیکشن کمیشن بھی اس حوالے سے ابھی تک ناکام رہا ہے۔پاناما لیکس میں وزیر اعلیٰ شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کاذکر نہیں ہے۔یہ ایک خوش آئند امر ہے ۔وزیراعلیٰ شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے اپنے اثاثے پاکستان میں ظاہر کئے ہیں۔کاش ایسا وزیراعظم کی فیملی کے لوگ بھی کرتے۔پاناما لیکس کے انکشافات کوسنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔یہ پاکستانی اخبار یامیڈیا کے کسی ادارے نے الزامات نہیں لگائے ہیںبلکہ دنیا بھر کے غیر جانبدار صحافیوں کی انویسٹی گیشن رپورٹ سےیہ انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن)کی حکومت کو پاناما لیکس کے انکشافات کو اپنے خلاف انتقامی کارروائی نہیں سمجھنا چاہئے یہ محض پاکستان میں ٹیکس چوری کرنے والوں کامعاملہ ہی نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ایسے لوگ جو اپنے حقیقی اثاثے ظاہر نہیں کرتے اور ٹیکس سے بچنے کیلئے ایسے غیر قانونی حربے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کیخلاف ایک چارج شیٹ ہے۔پاکستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں معیشت کے نظام کواگر مضبوط کرنا ہے تو ٹیکس کے کلچر کوہرسطح پرفروغ دینا ہوگا۔اسی ضمن میںکرپشن فری پاکستان پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔کرپشن کے ناسور سے اس وقت ہی چھٹکارہ حاصل ہوسکتا ہے جب قومی اداروں کو آزادانہ دائرے میں کام کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر روز 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات وقت کاناگزیر تقاضا ہیں۔پاکستانی اشرافیہ کے 200ارب سے زائد ڈالر صرف سوئس بنکوں میں پڑے ہیں۔اسی طرح جن پاکستانیوں نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک قومی سرمائے کو منتقل کیا ہے ان کابھی کڑا احتساب ہونا چاہئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف پاناما لیکس اورآف شور کمپنیوںکے بارے میںمنظر عام پر آنیوالے انکشافات پر کس قدر سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہیں؟۔
تازہ ترین