• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کا کمیشن نہیں مانتے، اپوزیشن، جو نہیں مانتا عدالت جائے، حکومت

اسلام آباد(ایجنسیاں) پاناما لیکس کی گونج پارلیمنٹ تک پہنچ گئی‘قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے قائم کمیشن کو مستردکردیا ‘قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہاکہ آف شورکمپنیوں کے معاملےپر بین الاقوامی مالیاتی فرم سے آڈٹ کرایاجائے‘بات آگے تک جائے گی ‘سمجھ نہیں آئی میاں نوازشریف کو خطاب کا دھکاکس نے دیاجبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے معاملے کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی نے اگرچوری نہیں کی تواپنے اثاثے ڈکلیئر کریں ‘سب سے پہلے میرااور شوکت خانم اسپتال کا احتسا ب کیا جائے،شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہوگا‘جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے پاناما لیکس کے انکشافات پر نواز شریف سے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت عظمٰی سے الگ ہونے کا مطالبہ کر دیا۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہم احتساب سے گھبر ا نے والے نہیں ہیں بلکہ ہم احتساب کے فلٹر سے گذرے ہیں، نواز شریف کا 1988ءسے احتساب چل رہا ہے، وہ ہر بحران میں سرخرو ہو کر نکلے ہیں، قوم سے کئے وعدے پورے کریں گے اور 2018ءکے انتخابات میں بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے‘کسی کو عدالتی کمیشن پر اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ چلا جائے‘خیرات اور زکوۃ کی رقم غیرملکی کمپنیوں میں  لگائی گئی ‘ان کا بھی کوئی محاسبہ ہونا چاہئے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہو ا تو ابتداءمیں ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم ماحول دیکھنے میں آیا۔ پاناما لیکس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ نے کہا کہ پاناما لیکس کا معاملہ میڈیا یا اپوزیشن نے نہیں اٹھایا یہ معاملہ عالمی سطح کا ہے‘ معاملہ اب ختم ہونے والا نہیں آگے بھی چلے گا‘ حقائق تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گے‘ایک طرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے لیکن وزیراعظم کا خاند ا ن باہر بزنس کر رہا ہے‘ یہ کس منہ سے دوسروں کو پاکستان میں کاروبار کا کہتے ہیں‘ وزیراعظم کے خطاب نے سوالات بڑھا دیے‘ سمجھ نہیں آئی وزیراعظم کو خطاب کا دھکا کس نے دیا‘ خورشید نے کہا وہ اپوزیشن کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس معاملے پر غیر ملکی کمپنی سے آڈٹ کروایا جائے۔ 3 سال میں بھی جوڈ یشل کمیشن کے پاس ثبوت نہیں آئے گا کیونکہ ججز کو کریمنل لا کا پتا ہے انہیں کیا پتا کہ آڈٹ کیا ہوتی ہے اور آڈٹ کرنا ججز کا کام نہیں۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ نوازشریف پیسے کیسے باہر لے گئے‘پیسے منی لانڈرنگ سے باہر گئے یا پھر کسی اور طرح سے گئے ‘آف شور کمپنیوں کے لیے بھیجے گئے  سرما ئے کا آڈٹ ہونا چاہیے، غیر ملکی آڈٹ کے سوا کچھ نہیں مانیں گے‘جلدی میں کسی سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کریں گے، ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے عمران خان نے بھی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے حکومت کے مجوزہ جوڈیشل کمیشن کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لئے ریٹائرڈ ججوں پر نہیں چیف جسٹس کی سربراہی میں حاضر سروس ججوں پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے ، ایک وفاقی وزیر نے شوکت خانم اسپتال پر جو الز امات لگائے ہیں اس بارے میں کمیشن مجھ سے بھی تحقیقات کرے ، انہوں نے کہاکہ اپنے اثاثوں کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنا وزیر اعظم کا فرض ہے اور وہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دے کر کوئی احسان نہیں کررہے ‘پاناما لیکس اپوزیشن کی سازش نہیں ‘انہوں نے شوکت خانم اسپتال پر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس اسپتال کا جو پیسہ سرمایہ کاری میں لگایا گیا تھا وہ واپس آ چکا ہے‘ ہمارے چالیس فیصد فنڈز امریکا اور خلیجی ممالک سے آتے ہیں ‘ اگر میں حکومت میں آگیا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘وزیراعظم خودکواحتساب کے لئے پیش کریں ‘ میں بھی خود کو پیشکرنے کیلئے تیارہوں۔
تازہ ترین