اسلام آباد (نمائندہ جنگ) پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت ، پاکستان میں خفیہ سرگرمیاں بند کرے ، بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی نشاندہی پر مزید ایجنٹ گرفتار کرلئے ہیں ، کل بھوشن تک قونصلر رسائی فیصلہ نہیں کیا، واشنگٹن میں چوتھی نیوکلیئر سیکورٹی کانفرنس ہمارے نقطہ نظر سے بے حد کامیاب رہی ، پاکستان کے ان اقدامات پر اعتماد کرتے ہوئے سراہا گیا ہے جو اس نے اپنے پرامن نیو کلیئر پروگرام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حوالے سے کئے ہیں، ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف کسی صورت استعمال نہیں ہونے دے گا، بھارت اور سعودی عرب دو مختار ملک ہیں، ان کے باہمی تعلقات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں میڈیا کے سوالوں کے جواب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں ہونیوالی چوتھی نیو کلیئر کانفرنس پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور پاکستان کے نقطہ نظر سے بے حد کامیاب رہی۔ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے ایک محفوظ اور پرامن نیو کلیئر پروگرام انتہائی کامیابی سے چلا رہا ہے، بین الاقوامی سطح پر جس کا اعتراف بھی کیا گیا ہےا ور ستائش بھی کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک سویڈش ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت اسلحے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کررہا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اس دوڑ میں ہر گز شامل نہیں ہوگا اس حوالے سے امریکی صدرنے بھی واضح کیا ہےکہ وہ خطے میں اسلحے کی غیر معمولی دوڑ کےخلاف ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہم خطے میں ایٹمی دوڑ کیخلاف ہیں۔ ایک سوال میں موجود اس تاثر کی ترجمان نے تردید کی کہ ایران کے صدر کے دورہ پاکستان کے نتائج تسلی بخش نہیں تھے۔ انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر ملک ہیں جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ انہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر واضح کیا تھا کہ پاکستان اور ایران دونوں ایک دوسرے کی سلامتی کے حامی ہیں اور دونوں ملک کسی صورت اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی امور پر بات چیت کرنے کیلئے ایک کمیٹی موجود ہے جس کے ارکان میں دونوں ممالک کے سیکرٹری داخلہ بھی شامل ہیں۔ جو سکیو رٹی تعاون کے سلسلے میں رابطے میں رہتے ہیں جبکہ ملٹری حکام کے درمیان بھی رابطہ ہوتا ہے۔ بلوچستان سے گرفتار کئے جانے والے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو سے متعلق سوالوں کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایجنٹ کے اعترافی بیانات کی روشنی میں ان سےتفتیش ہورہی ہے اور اس ضمن میں کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔ بھارت کی جانب سے قونصلر رسائی کی درخواست موصول ہوئی ہے لیکن پاکستان نے ابھی اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان2008ء کے معاہدے کے تحت اس درخواست پر غور ضرور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیاں پاکستان میں نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان نے اس ضمن میں اقوام متحدہ اور امریکا کو دستاویزی شہادتیں بھی پیش کی ہیں اور سکیورٹی اداروں نے بھی اقدامات کئے ہیں۔ کل بھوشن کی نشاندہی پر بعض ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں بھارتی وزیراعظم کی مصروفیات اور معاہدوں کے تناظر میں دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کا داخلی معاملہ ہے جس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ سوامی آسیم آنند نے جو سمجھوتہ ایکسپریس کا مرکزی ملزم اور ماسٹر مائنڈ بھی ہے ضمانت پر رہا ہو چکا ہے اس نے اس ضمن میں اعتراف بھی کر لیا تھا۔ پاکستان نے اس معاملے کو کو بار ہا بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے یہ ایک انتہائی سنگین سانحہ تھا جس میں 48 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے بھارت نے یقین دہانی کرانے کے باوجود ابھی تک اس بارے میں ہونیوالی تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ملاقات کے حوالے سے رابطے موجود ہیں۔ افغان حکومت اور افغان طالبان کے مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان افغان حکومت کے نمائندوں اوردیگر گروپوں کو مذاکرات کی میز پرلانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں تین ممالک اور بھی شامل ہیں ان کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔23فروری کو کابل میں ہونیوالے چاروں ممالک کے کور گروپ کے اجلاس میں یہ طے پایا تھا آئندہ اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں پیش رفت کیلئے اپنی کوشش جاری رکھے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ یونان کی وزارت داخلہ نے پاکستانی مشن کو بتایا ہے کہ لگ بھگ200 پاکستانیوں کو یونان سے ڈی پوٹ کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ 27 مارچ سے یکم اپریل تک پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پٹھانکوٹ تحقیقات کیلئے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق پا کستان میں گرفتار کئے جانے والے افغان جاسوس کے بارے میں ابھی تفصیلات موصول نہیں ہوئی۔