• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گوگل، ایپل، کوکا کولا، فیس بک نے رقوم آف شور اکاؤنٹس منتقل کردیں

لاہور(صابر شاہ) پاناما لیکس متعدد ممالک کو ٹیکس چوری اور ٹیکس سے گریز کے درمیان فرق کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ جنگ گروپ اور جیو ٹی وی نیٹ ورک کی تحقیقات کے مطابق بڑی بڑی امریکی و برطانوی کمپنیوں مثلا گوگل، ایپل، کوکا کولا، پیپسی، ووڈافون، ایمیزون، نائک، جنرل الیکٹرک، ایڈوب اور فیس بک  ودیگر نے ٹیکس جنتوں کو استعمال کرتے ہوئے قانونی طریقوں سے اپنا ٹیکس بچایا، اور اپنے آف شور اکاؤنٹس بھردیئے۔ 2014 کے آخر تک کم از کم 358 کمپنیاں  کم ٹیکس شرح والے مقامات میں اپنے ذیلی ادارے چلا رہی تھیں، یہ کمپنیاں امریکی جریدے فارچیون کی جانب سے 500کمپنیوں کے حوالےسے شائع کی جانیوالی رپورٹ میں شامل ہیں، جنہوں ٹیکس بچانے کیلئے 21کھرب ڈالر ملک سے باہر رکھے ہوئے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام مقامات جہاں ٹیکس کی شرح کم یا نہ ہونے کے برابر ہے، وہ اپنے امیر صارفین کی قانونی اور جائز طریقوں سے مدد کرتے ہیں، تاکہ ان پر کوئی حرف نہ آنے پائے۔ لہٰذا کسی بھی ملک کے ٹیکس ماہرین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ قانون نہ توڑتے ہوئے ٹیکس بچانا بھی ایک فن ہے۔ لہٰذا ٹیکس جنت کہلانے والے مقامات جن میں سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، آئر لینڈ، لکسمبرگ، آئی لینڈ آف مین، برطانوی ورجن جزائر ، جرسی (برطانیہ)، برمودا، ماریشس اور ڈیلاویئر (امریکہ) وغیرہ شامل ہیں، ان میں اگر کوئی خرابی ہے تو وہ ان کی حکومتوں میں ہے جو قانونی طریقے سے غیر ملکیوں کو ٹیکس بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ ٹیکس جنتیں غیر ملکی انتظامیہ اور حکومتوں کو اپنے صارفین کی کوئی معلومات فراہم نہیں کرتیں۔ اور کوئی بھی مالدار شخص ان کے ہاں جا کر دولت سے یہ سہولت خرید سکتا ہے۔ اسی طرح کئی کئی کثیر القومی کمپنیاں بھی ٹیکس بچانے کے لیے اپنے صدر دفاتر ان ٹیکس جنتوں میں منتقل کردیتی ہیں۔ اس عمل کو ان ورژن یعنی عمل تقلیب کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ کمپنیاں اپنے اصل ممالک میں ٹیکس ادا نہیں کرتیں کیونکہ وہاں ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے لیے یہ کمپنیاں ان ٹیکس جنتوں میں کوئی کمپنی خرید کر یا بنا کر قانونی طریقے سے اپنی آمدنی بیرون ملک یعنی آف شور منتقل کردیتی ہیں۔ لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کےلیے اب تمام حکومتیں بین الاقوامی ٹیکس مساوات کے اصول پر متفق ہوگئی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران، بہت سی امریکی اور برطانوی کارپوریٹ کمپنیاں جیسا کہ گوگل (2015 آمدنی: 74.54 ارب ڈالر)، ایپل (2015 آمدنی: 233.7 ارب ڈالر)، کوکا کولا (2015 آمدنی: 44.29 ارب ڈالر)، پیپسی کو (2015 آمدنی: 63.06 ارب ڈالر)، میسرز ووڈا فون (2015 آمدنی: 42.22 ارب  پاؤنڈ)، میسرز ایمیزون (2015 آمدنی: 107 ارب ڈالر)، نائیک (2015 آمدنی: 30.6 ارب ڈالر )، جنرل الیکٹرک، 2015 آمدنی: 117.4 ارب ڈالر) اور فیس بک (2015 : 17.928 ارب ڈالر) وغیرہ نے مکمل طور پر جائز طریقوں سے اپنے ٹیکس واجبات کو گھٹا دیا۔ 6 اکتوبر 2015 کو فارچیون میگزین نے اپنی ویب سائٹ پر "روئٹرز" کی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 500 کمپنیوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے 21 کھرب ڈالر بیرون ملک رکھے ہوئے ہیں۔ ان 500میں سے 72فیصد کمپنیاں جن کی تعداد358ہے، انہوں نے ٹیکس بچانے کیلئے بیرون ممالک میں 7622ذیلی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کمپنیوں کا کہنا ہےکہ اگر ان کے منافع آف شورکمپنیو ں کے اکاؤنٹس میں نہ رکھے ہوں تو انہیں امریکا میں 184.4ارب ڈالر ٹیکس دینا پڑے گا۔ اگر ان تمام 500کمپنیوں نے بیرون ممالک اپنا منافع نہ رکھا ہوتا توامریکا میں انہیں 620ارب ڈالر ٹیکس دینا پڑتا۔ ان کے گوشواروں کے مطابق انہیں امریکا کے 35فیصد کی شرح سے کارپوریٹ ٹیکس کی ادائیگی کے بجائے بیرون ممالک میں 6 فیصد ٹیکس دینا پڑا ۔ ایپل کے امریکا سے باہر برمودا،  لگسمبرگ اور آئرلینڈ ویگر ممالک 187 ارب ڈالر رکھے ہوئے ہیں، اور اگر وہ سارا پیسہ واپس امریکا لائے تو اسے امریکی حکام کو 59.2 ارب ڈالر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح جنرل الیکٹرک کے 18 ممالک میں آف شور اکاؤنٹس میں119 ارب ڈالر رکھے ہوئے ہیں۔ مائیکرو سوفٹ کے 108.3 ارب ڈالر امریکا سے باہر ہیں جب کہ دوا ساز امریکی کمپنی فائزر نے غیر ملکی 151 شاخوں میں 74 ارب ڈالر رکھے ہیں۔ 2011 میں مائیکرو سوفٹ نے مبینہ طور پر 2.4 ارب ڈالر کا ٹیکس بچایا۔ امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی برگر کنگ نے ایک کمپنی میں انضمام کرکے اپنا صدر دفتر کینیڈا منتقل کردیا۔ اکتوبر 2015 میں انٹرنیشنل بزنس ٹائمز نے بتایا کہ فیس بک نے 2014 کے لیے 2 کروڑ 85 لاکھ پاؤنڈز کا خسارہ دکھا کر صرف اور صرف 5 ہزار پاؤنڈز سے کم ٹیکس ادا کیا۔ انجمن برائے اقتصادی تعاون و ترقی نے گوگل، ووڈا فون اور امیزون جیسے بڑے گروپس کو صدر دفاتر ٹیکس جنتوں مثلا لکسمبرگ اور سوئٹزرلینڈ میں منتقل کرنے سے روکنے کے لیے قوانین متعارف کرائے ہیں۔ "بی بی سی نیوز" کی 21 مئی 2013 کی رپورٹ کے مطابق اسٹاربکس نے گزشتہ سال برطانیہ میں 40 کروڑ پاؤنڈز کی سیل کی، لیکن کوئی کارپوریشن ٹیکس ادا نہ کیا۔ 21 اکتوبر 2010 کو "بلوم برگ" نے خبر دی کہ گوگل نے گزشتہ تین سال میں (2007-2010) 3.1 ارب ڈالر کا ٹیکس بچالیا، جس کے لیے اس نے ایک تکنیک استعمال کرتے ہوئے اپنے زیادہ تر غیر ملکی منافع کو آئر لینڈ اور نیدرلینڈ کے ذریعے برمودا منتقل کیا۔ چند سال پہلے، مغربی پریس نے اطلاع دی تھی کہ امریکی عالمی ادویات ساز کارپوریشن میسرز فائزر (2015 آمدنی: 48.85 ارب ڈالر) نے اپنے منافع کا 74 ارب ڈالر آف شور رکھا ہوا ہے۔ ایڈوب سسٹمز انکارپوریٹڈ (2015 آمدنی: 4.8 ارب ڈالر) نے چند سال پہلے بتایا تھا کہ اگر وہ اپنے بیرون ملک منافع کو امریکا لائی تو اسے 27 فیصد وفاقی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ستمبر 2015 میں کوکا کولا کارپوریشن نے بتایا کہ اسے امریکی حکومت کو پچھلے ٹیکسز کی مد میں 3.3 ارب ڈالر دینے پڑسکتے ہیں۔ اس کیوجہ یہ تھی کہ کمپنی نے مبینہ طور پر اپنے غیر مادی اثاثوں کو امریکا سے باہر ٹیکس جنتوں میں منتقل کرنے کے لیے ٹرانسفر پرائسنگ کا غلط استعمال کیا تھا۔ بھارت کی بات کرتے ہیں 10 جولائی 2015 کو سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے بتایا کہ بدنام زمانہ 53.95 ارب روپے کے حوالہ اسکینڈل کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ موبائل ٹیلی کام کمپنیاں بھی ٹو جی اسکینڈل کا پیسہ بیرون ملک ٹیکس جنتوں مثلا سوئٹزرلینڈ میں منتقل کرنے میں ملوث تھیں۔  
تازہ ترین