اسلام آباد (عثمان منظور)شریف خاندان کی زیر ملکیت آف شورکمپنیوں کا موضوع نوے کی دہائی میںبحث کا موضوع رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ میں 2000میں ایک مرتبہ پھر یہ یر بحث آیا تھا۔ تو شریف خاندان 2006تک سختی سے اپنی کسی بھی آف شور کمپنی کے ہونے کی تردید کرتا رہا۔شریف حکومت کے خاتمے کے بعد مشرف دور میںسپریم کورٹ کے ایک معروف مقدمے ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے امنے شریف خاندان کی جائیدادوں کی ایک فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی گئی جس کے مطابق شریف خاندان کے لندن میں چار فلیٹ تھے اور یہ الزام عائد کیا گیاکہ شریف خاندان نے لندن میں یہ جائیدادیں برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم کمپنیوں کے ذریعے خریدیں۔ اگرچہ اب اس حوالے سے بننے والا جوڈیشل کمیشن تحقیقات کرےگا لیکن سپریم کورٹ پہلے بھی اس معاملے کو زیر سماعت لاچکی ہے ۔ اگرچہ عدالت نے اس وقت اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا کیونکہ اس مقدمے کی نوعیت ایسی تھی کہ اگر اس پر فیصلہ آتا تو وہ فوجی بغاوت کی توثیق کےمترادف ہوتا۔یہاں اس امر کا تذکرہ بیجا نہیں ہوگا کہ نوازلیگ کے سینئر رہنما ظفر علی شاہ 1999کی فوجی بغاوت کے خلاف عدالت گئے تھے ۔ظفر علی شاہ نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مشرف نے میاں نوازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے الزامات لگائے تھےلیکن اپنے پورے دوراقتدار میں اپنی تمام ترطاقت کے باوجود مشرف ایک بھی الزام ثابت نہیں کر پائے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فوجی بغاوت کی حد تک تو مشرف کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن شریف خاندان کے خلاف میبنہ اور خودساختہ بدعنوانی کے کسی الزام پر کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا۔ یہاں یہ بتانا بھی لائق تذکرہ ہے کہ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے کہا تھا کہ شریف خاندان ٹریولرز چیکس، ڈالر بیئرر سرٹیفکیٹس،بیرون ملک اکائونٹس، اور املاک کی خریداری کے ذریعے منی لانڈرنگ کی ۔عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت کے پاس برطانوی ورجن آئی لینڈ کے کارپوریٹ رجسٹرار کا ایک اقتباس موجود ہے جو لندن میں ایک جائیداد کی خریداری سے متعلق ہے۔مشرف حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے شرموک کنسلٹنگ کارپوریشن کو سلمان ضیا کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ اکٹھا کر لیا ہے۔سلمان ضیا کو مبینہ طور پر شریف خاندان کا فرنٹ مین قرار دیا گیا۔ اور اراضٰ رجسٹر ریکارڈ کے فوٹو گراف بھی اس میں شامل کیے گئے تھے۔یہ مقدمہ جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس محمد بشیر جہانگیری، جسٹس شاہ اعجاز نثار، جسٹس عبدالرحمٰن خان ، جسٹس شاہ ریاض احمد، جسٹس محمد عارف، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس راشد عزیز خان، جسٹس نظام حسین صدیقی، جسٹس افتخار محمد چوہدری،جسٹس قاضی محمدفاروق اور جسٹس رانا بھگوان داس تھے۔90کی دہائی میں بھی شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کئی مرتبہ خبریں آئیں لیکن حکمران خاندان نے ہمیشہ ان کی تردید کی ۔حتیٰ کہ نوے کی دہائی کے وسط مین سینیٹر رحمٰن ملک کے ایک میڈیا انٹرویو نے اخبارات کی شہ سرخیاں بننے کا شرف ھاصل کیا جس میں انہوں نے شریف خاندان کے بہت سے معاملات کی تفتیش کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب تک ان میں سے کوئی بھی ’ٹابت‘ نہیں ہوپایا۔