اسلام آباد (انصار عباسی) جس وقت پناما لیکس کی وجہ سے بیت الشریف کی کشتی بھنور میں پھنسی ہے اس وقت وزیراعظم نواز شریف کو اس کی شدت کا اندازہ ہو رہا ہے کیونکہ آف شور کمپنیوں کے معاملے میں ان کے تین بچے براہِ راست ملوث ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے معاملے میں صورتحال پریشان کن نہیں ہے۔ پناما لیکس پر میڈیا میں چھوٹے بھائی کے متعلق ابتدائی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب کے متعلق کوئی بات کی جا رہی ہے اور نہ ہی حزب اختلاف میں سے کوئی انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔ اپنے بڑے بھائی کے برعکس، پناما لیکس کے مطابق شہباز شریف کے اہل خانہ (بیوی اور بچوں) میں سے کسی کے پاس کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔ ابتدائی طور پر شہباز شریف کو اسلئے نشانہ بنایا گیا کہ ان کی تیسری اہلیہ تہمینہ درانی کی والدہ ثمینہ درانی زوجہ شاکر اللہ درانی (چارسدہ والے) اور ان کے برادر نسبتی (کزن اور پہلی بیوی کے بھائی) الیاس مہراج کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم نواز شریف اپنی اور اپنے بچوں کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور اسی وجہ سے انہوں نے انکوائری کا حکم بھی دیا، لیکن اسی وقت آزاد مبصرین سمجھتے ہیں کہ معاملات ان کی سیاسی طور پر متحرک بیٹی مریم نواز کیلئے سازگار ثابت نہیں ہوں گے۔ مریم دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ آف شور کمپنی کی ٹرسٹی ہیں لیکن دستاویزات کے مطابق وہ کمپنی کی مالک ہیں۔ اس کیس میں، حسین نواز اور حسن نواز کو تھوڑا فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پاکستان میں مقیم نہیں ہیں لیکن مریم نواز کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں اور اس طرح وزیراعظم نواز شریف کیلئے بھی۔ مریم نواز شریف کے دعوے، کہ وہ کمپنی کی مالک نہیں بلکہ ٹرسٹی ہیں، کے برعکس دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کمپنی کی مالک ’’بینیفیشل اونر‘‘ ہیں اور مزید لکھا ہے کہ ’’ آپ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس مذکورہ بالا کمپنی کے آبادکار، ٹرسٹی یا کسی ٹرسٹ (ٹرسٹس) کے ٹرسٹیز کے نام، رابطے کی تفصیلات اور ان کے پتے کی معلومات نہیں ہیں۔‘‘ وزیراعظم کے برعکس، شہباز شریف کیلئے صورتحال اس حقیقت کے باوجود اطمینان بخش ہے کہ شروع میں ان کا نام پناما لیکس کے تنازع میں گھیسٹا گیا تھا۔ شہباز شریف کی تیسری بیگم تہمینہ درانی کی والدہ ثمینہ درانی کے پاس کچھ آف شور کمپنیاں ہیں جن کا انکشاف پناما لیکس میں کیا گیا ہے۔ ثمینہ درانی شاکر اللہ درانی کی بیوہ ہیں جو اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر اور چیئرمین پی آئی اے بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے پاس یہ عہدے فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحیٰ خان کے دور میں تھے۔ ثمینہ اور شاکر اللہ درانی کے پانچ بچے ہیں جن میں سے تہمینہ سب سے بڑی ہیں۔ شاکر اللہ درانی نے آزاد خیالی، خواتین کے کاز کی چیمپین بننے اور کتاب مائی فیوڈل لارڈ (میڈا سائیں) لکھنے کی وجہ سے دہائیاں قبل اپنی بیٹی تہمینہ کو عاق کر دیا تھا، کتاب کے متعقل شاکر اللہ درانی کی رائے تھی کہ یہ بہت ہی آزاد خیال اور پختون روایات کے برعکس ہے۔ انہوں نے کئی برسوں تک اپنے گھر میں تہمینہ کو قدم نہیں رکھنے دیا۔ انہوں نے شہباز شریف کےساتھ تہمینہ کی شادی میں بھی شرکت نہیں کی۔ اپنی علالت اور آخری عمر کے دوران انہوں نے تہمینہ کو معاف کیا اور پھر بیٹی نے دورانِ علالت باپ کی دیکھ بھال کی۔ شاکر اللہ درانی کا انتقال 20؍ نومبر 2009ء کو چارسدہ میں ہوا۔ اسی طرح اکثر لوگ جانتے ہیں کہ شہباز شریف اپنے کزن اور برادر نسبتی الیاس مہراج سے بات نہیں کرتے۔ انہیں اچھی طرح جاننے والوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ حسیب وقاص گروپ گنے کے کسانوں کو ادائیگی کے معاملے میں ڈیفالٹ کر گئے تھے، شہباز شریف نے حکم دیا تھا کہ ان کی فیکٹریاں سیل کر دی جائیں اور خاندان سے دبائو کے باوجود شہباز شریف دبائو میں نہ آئے۔ انہوں نے کین کمشنر کو حکم دیا تھا کہ شوگر ملز کو بند کر کے ڈی سی اوز کے ذریعے ان کا کنٹرول سنبھال لیا جائے اور کسانوں کی بقایہ جات کو لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت سرکاری بقایا جات قرار دیدیا تھا اور اس کے بعد نیلامی کا عمل شروع کرا دیا۔ حکومت پنجاب کی طرف سے الیاس مہراج کیخلاف تقریباً دو درجن ایف آئی آرز درج کرا دی گئی تھیں۔ الیاس مہراج نے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر عدالت نے یہ معاملہ فوڈ سیکریٹری پنجاب کو بھیجا۔ وہ براہِ راست شہباز شریف کے ماتحت ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک مرتبہ پھر مداخلت نہ کی۔ اس مرتبہ بھی ان کے خاندان کے لوگوں کو مایوسی ہوئی کیونکہ فوڈ سیکریٹری نے بھی ملز سیل کر دیں اور غریب کسانوں کی ادائیگی کیلئے نیلامی کا حکم دیا۔ 2015ء میں ایک اور کیس سامنے آیا جس میں حسیب وقاص گروپ نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کے گنے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ہڑپ کر لی۔ شہباز شریف نے ایف بی آر کو کسی بھی کارروائی سے نہ روکا بلکہ انہیں قانون کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت کی۔ ایف بی آر نے الیاس مہراج اور ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کیلئے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کوئی مداخلت نہ کی حالانکہ ان پر خاندان کے لوگوں اور دوستوں کا دبائو تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بات شریف خاندان کے لوگ اور قریبی دوست وغیرہ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف نے ایک مرتبہ الیاس مہراج کے منہ پر گھونسا بھی مارا تھا۔